1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
معاشرہافغانستان

افغانستان: بامیان کی ویران گلیوں میں ’بہار کے پھول‘

کشور مصطفیٰ اے ایف پی کے ساتھ
22 فروری 2026

افغانستان میں خواتین کے لیے روزگار کے زیادہ تر دروازے بند ہو چکے ہیں، لیکن بامیان کے پرسکون بازار میں ایک چھوٹا سا کڑھائی کا بوتیک خواتین کے لیے روشنی اور رنگوں کے ساتھ ایک اُمید کی علامت ہے۔

بامیان افغانستان میں رحیما علوی اپنے بوتیک میں اسکارف پر مشین سے کڑھائی کرتی دکھائی دے رہی ہیں
رحیما کی زندگی بامیان کے دیہی علاقوں میں گزریتصویر: Wakil Kohsar/AFP

 اس دکان کو 22 سالہ رحیما علوی چلاتی ہیں۔ ایک ایسی نوجوان خاتون، جو حالات سے ٹکرانے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ چھوٹی سی دکان کے باہر لگا سائن بورڈ سادہ مگر پُرعزم ہے۔ اس پر لکھا ہے ’’بہار کے پھول، سلائی اور کڑھائی۔‘‘  یہ وہی جگہ ہے جو رحیما نے جنوری میں ایک ماہ کی تھکا دینے والی تلاشِ روزگار کے بعد کھولی تھی۔

رحیما اپنے برگنڈی کوٹ کے کالر کو درست کرتے ہوئے کہتی ہیں۔ ’’مجھے خوشی ہے کہ میں اپنے والدین اور تین بہنوں کا سہارا بن سکتی ہوں۔ اب میں اپنا کرایہ بھی ادا کر سکتی ہوں اور گھر والوں کی مدد بھی کر رہی ہوں۔‘‘

افغان لڑکیاں ذہنی مسائل کا شکار کیوں؟

04:46

This browser does not support the video element.

ان کے اس کوٹ  پر کام سے بچے ہوئے رنگین دھاگوں کے چند ریشے اب بھی چمک رہے ہیں۔

رحیما کی  ہمت و عزم کی کہانی

رحیما نہایت مہارت سے سلائی مشین پر ریشمی کپڑے کو گھما گھما کر باریک پھول پتیاں بناتی ہیں۔ وہ اُن لاکھوں افغان خاندانوں میں شامل  ہیں جو 2023 کے بعد ایران اورپاکستان سے واپس لوٹنے پر مجبور ہوئے۔ وہی ممالک جنہوں نے برسوں تک انہیں پناہ دی، مگر حالیہ برسوں میں افغان مہاجرین کو واپس بھیج رہے ہیں۔

افغانستان کے لیے مالی امداد میں نمایاں کمی کے تحت کڑھائی کا پروگرام دسمبر میں بند کر دیا گیاتصویر: Wakil Kohsar/AFP

رحیما کی زندگی بامیان کے دیہی علاقوں میں گزری، جہاں وہ اسکول کے ساتھ ساتھ کھیتی باڑی میں والدین کا ہاتھ بٹاتی رہیں۔ 2021 میں روزگار کی کمی کے سبب خاندان ایران منتقل ہوا۔ وہ بتاتی ہیں، ’’ایران میں روزگار کے مواقع زیادہ تھے، وہاں مرد اور عورت دونوں کام کر سکتے تھے۔‘‘

اصفہان کے قریب انہوں نے اور ان کی بہنوں نے گوبھی چن کر  روزی کمائی، لیکن 2024 میں واپسی کے بعد حالات پہلے سے بھی زیادہ مشکل تھے۔ وہ کہتی ہیں، ’’ہمارے لیے کوئی کام نہیں تھا… نہ والد کے لیے اور نہ ہمارے لیے۔ میں بہت دل گرفتہ تھی۔ بامیان میں ملازمتیں تقریباً نہ ہونے کے برابر تھیں۔‘‘ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ وہ ان حالات کو یاد کرتے ہوئے اپنے احساسات کا اظہار کرتی ہیں۔

بین الاقوامی ادارہ برائےمہاجرت کے مطابق، ایران یا پاکستان سے افغانستان واپس آنے والی  خواتین میں سے صرف 1 فیصد کو کل وقتی ملازمت مل سکی ہے، جبکہ 2 فیصد نے چھوٹے کاروبار شروع کیے ہیں۔ یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو رحیما کی جدوجہد کی شدت بیان کرتے ہیں۔

افغان آرٹسٹ کی جلاوطنی میں ایک نئی پہچان

04:54

This browser does not support the video element.

لیکن ان حالات میں بھی انہیں ایک موقع فراہم ہوا۔ اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کے تعاون سے چلنے والے پروگرام کے تحت انہیں 25 دیگرخواتین کے ساتھ کڑھائی کی تربیت کے لیے منتخب کیا گیا۔ وہ کہتی  ہیں، ’’تب مجھے امید کی کرن نظر آئی  اور پھر کورس کے دوران وہ امید بڑھتی ہی گئی۔ ‘‘ رحیما کی آواز میں فخر اور اعتماد صاف جھلکتا ہے۔

رحیما نے ڈونرز سے تربیتی پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی اپیل کیتصویر: Wakil Kohsar/AFP

آج ان کا بوتیک نہ صرف ان کے گھر کی مالی ضرورتیں پوری کرتا ہے بلکہ افغانستان میں خواتین کے روزگار پر پابندیوں کے ماحول میں مزاحمت اور مضبوطی کی ایک علامت بھی بن چکا ہے۔

افغانستان میں خواتین کے لیے کوئی کام نہیں

رحیما علوی کو سلائی مشین، کپڑا اور ایک سولر پینل سمیت ضروری سامان فراہم کیا گیا۔  جو ایسے ملک میں ناگزیر ہے جہاں بجلی کی بندش معمول ہے۔ ان کی استاد ریحانہ درابی کے مطابق، رحیمہ غیر معمولی طور پر باصلاحیت اور پرعزم تھیں، اور انہوں نے سیکھنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔

تاہم، درابی سمیت بہت سے تربیت کار اس وقت بے روزگار ہوگئے جب افغانستان کے لیے مالی امداد میں نمایاں کمی کے تحت کڑھائی کا پروگرام دسمبر میں بند کر دیا گیا۔ اس کے باوجود، رحیمہ واحد تربیت یافتہ خاتون ہیں جنہوں نے اپنی بہترین دوست کی مدد سے کامیابی سے اپنا کاروبار شروع کیا، جو مقامی خواتین کے لیے ایک حوصلہ افزا مثال بن گئیں۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق، ایران یا پاکستان سے افغانستان واپس آنے والی خواتین میں سے صرف 1 فیصد کو کل وقتی ملازمت مل سکی ہےتصویر: Wakil Kohsar/AFP

درابی کہتی ہیں کہ افغانستان  بھر میں خواتین شدید پابندیوں اور مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ طالبان کی پالیسیوں کے تحت خواتین زیادہ تر پیشوں سے دور ہیں، اگرچہ دستکاری جیسے محدود شعبوں میں کام کی اجازت ملتی ہے۔

رحیما نے ڈونرز سے تربیتی پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی اپیل کی، کیونکہ ان کے بقول ’’یہاں خواتین کے لیے کوئی کام نہیں ہے۔‘‘ گزشتہ سال UNHCR کے تحت تربیت پانے والے تقریباً 2,400 افراد میں زیادہ تر خواتین تھیں، جبکہ ایجنسی نے اس سال ضروری امداد کے لیے 216 ملین ڈالر کی درخواست کی ہے۔ جس میں سے صرف آٹھ فیصد فنڈنگ ملی ہے۔

افغان لڑکیوں کا معاشی خود مختاری کا عزم

03:48

This browser does not support the video element.

محدود مواقع کے باوجود رحیما دیگر واپس آنے والی خواتین کو حوصلہ دیتی ہیں کہ گھر بیٹھنے کی بجائے دستیاب مواقع تلاش کریں۔ اپنی دکان میں کڑھائی شدہ کپڑوں اور اسکارف سے گھری وہ جامنی تتلیوں والا اسکارف دکھاتے ہوئے مسکراتی ہیں۔ یہ ان کا پسندیدہ اسکارف ہے۔

 

ادارت: جاوید اختر

 

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں