بان کی مون برلن میں
30 جنوری 2014
بان کی مون کل جمعے سے شروع ہونے والی میونخ بین الاقوامی سلامتی کانفرنس میں شرکت کے لیے جرمنی آئے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ایک ایسے وقت جرمن حکام کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں جب عرب ریاست شام کے بحران اور اس کے حل کے لیے جاری امن مذاکرات کا موضوع جرمنی کی بھی غیر معمولی دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے۔ جرمنی کے ہمسایہ ملک سوئٹزرلینڈ میں شامی امن مذاکرات کے انعقاد کے بعد کل جمعے سے جرمن شہر میونخ میں شروع ہونے والی بین الاقوامی سلامتی کانفرنس میں بھی دیگر اہم موضوعات کے ساتھ ساتھ شام کا موضوع زیر بحث رہے گا۔ جرمنی کے چار روزہ دورے کے پہلے روز بان کی مون نے ایک نئے سائنسی ایڈوائزری بورڈ کی پہلی میٹنگ میں بھی حصہ لیا۔ اس بورڈ کا کام اقوام متحدہ کی مدد کرنا ہے۔ جرمنی اقوام متحدہ کو فنڈز فراہم کرنے والا ایک اہم ملک ہے اور اس عالمی ادارے کی انسانی حقوق سے متعلق مشاورتی کونسل میں اپنے لیے نشست کے حصول کا متمنی بھی ہے۔
شام کے بحران کے بارے میں بات چیت
آج برلن میں جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر کے ساتھ ملاقات میں بان کی مون نے کہا، ’’جنیوا میں بہت بڑی پیش رفت تو نہیں ہوئی تاہم تین سالہ جنگ کے فریقین ایک ہی کمرے میں مستقل بنیادوں پر مل رہے ہیں۔‘‘ اس موقع پر جرمن وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی غیر معمولی کارکردگی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہی کوششوں کے نتیجے میں جنیوا میں شامی حکومت اور اپوزیشن کے وفود ایک میز پر مذاکرات کے لیے آمنے سامنے بیٹھے ہیں۔
اُدھر جنیوا میں شامی صدر بشارالاسد کے ترجمان اور اپوزیشن کے مابین بات چیت کا سلسلہ آج جمعرات کو بھی اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب لخضر براہیمی کی ثالثی میں جاری ہے۔ بان کی مون نے جنیوا منعقدہ شامی امن کانفرنس کے بارے میں مزید کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ انسانی بحران کے شکار شام کے نہتے انسانوں کی فوری امداد تک رسائی جلد ممکن ہو جائے گی جبکہ اشٹائن مائر نے امید ظاہر کی کہ شام میں مقامی سطح پر فائر بندی اور محاصرہ شدہ علاقوں میں اشیائے خورد و نوش اور ضروری طبی امداد پہنچانے کے لیے ایک انسانی کوریڈور کھولنے سے متعلق بنیادی فیصلے جلد سامنے آ جائیں گے۔
یوکرائن کا سیاسی مسئلہ بھی زیر بحث
جرمن وزیر خارجہ نے بان کی مون کے ساتھ ملاقات میں یورپی ملک یوکرائن کے سیاسی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یوکرائن کے صدر یانوکووچ پر زور دیا کہ وہ اپنے قول کو عملی جامہ پہنائیں۔ ’’میں یوکرائن کی قیادت سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اب حقیقی معنوں میں وہ کرنے کا وقت آ گیا ہے جس کا وعدہ صدر یانوکووچ نے اپوزیشن سے کیا تھا۔‘‘ اس بارے میں بان کی مون نے کہا، ’’میں خلوص دل سے یہ امید کرتا ہوں کہ یوکرائن کی حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنے سیاسی اختلافات سے بالا تر ہو کر غیر مشروط طور پر عوامی مصائب و آلام دور کرنے پر اتفاق کریں گے اورانسانی وقار کو ملحوظ رکھا جائے گا۔‘‘
جرمنی کے ترقیاتی امور کے وفاقی وزیر گیرڈ میولر نے بھی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے برلن میں ملاقات کی۔ میولر نے اس موقع پر 2015ء کے بعد پائیدار ترقی سے متعلق عالمگیر ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے بارے میں بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ 2015ء میں ان ہزاریہ اہداف کی مدت کے اختتام پر ایک نئے ایجنڈے کو ان کی جگہ لینی چاہیے۔ جرمن وزیر نے دنیا بھر سے غربت اور بھوک کے خاتمے کے لیے ایسی عالمی اقدار پر اتفاق رائے کی ضرورت پر بھی زور دیا جو بھوک اور غربت کے خلاف سیاسی فعالیت کی بنیاد ثابت ہو۔ میولر کے مطابق دنیا بھر میں پائی جانے والی غربت اور بھوک انسانی وقار کا تضاد ہیں۔
اقوام متحدہ کا ترقیاتی ملینیم ہدف
جرمن وزیر برائے ترقیاتی امور کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں زراعت کے شعبے کو فروغ دینے کی بہت ضرورت ہے اور یہ نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے ہی ممکن ہو گا۔ جرمن وزیر نے دنیا کی آبادی کے 20 فیصد کی طرف سے وسائل کے 80 فیصد کے استعمال کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں خوفناک نتائج سے خبردار بھی کیا۔ انہوں نے ایک ماحولیاتی، سماجی عالمی معیشت پر زور دیا ہے۔
شام کے بحران کے بارے میں جرمن وزیر برائے ترقیاتی امور نے بان کی مون کو بتایا کہ جرمنی اس بحران زدہ ملک کی ہمسایہ ریاستوں کو 400 ملین یورو کی امداد دے چکا ہے جس کے ذریعے یہ ممالک اپنے ہاں آنے والے شامی پناہ گزینوں کی مدد کر رہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ اتنے بڑے بحران سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہے اور شام کا بحران پورے خطے کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔