1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بحیرہ احمر میں تارکین وطن کے لیے 2025 تاریخ کا مہلک ترین سال

مقبول ملک  اے ایف پی کے ساتھ
25 مارچ 2026

بحیرہ احمر کے راستے جزیرہ نما عرب کا رخ کرنے والے تارکین وطن کے لیے گزشتہ برس تاریخ کا سب سے ہلاکت خیز سال ثابت ہوا۔ 2025ء میں اس خطرناک سمندری سفر کے دوران ہلاک ہو جانے والے تارکین وطن کی تعداد دو گنا ہو کر 922 ہو گئی۔

ادیس ابابا میں تارکین وطن کی واپسی کے لیے قائم آئی او ایم کے ایک ٹرانزٹ سینٹر میں منتظر تین خواتین جنہوں نے واپس اپنے وطن جانے کا فیصلہ کیا
ادیس ابابا میں تارکین وطن کی واپسی کے لیے قائم آئی او ایم کے ایک ٹرانزٹ سینٹر میں منتظر تین خواتین جنہوں نے واپس اپنے وطن جانے کا فیصلہ کیاتصویر: Michele Spatari/AFP

ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا سے بدھ 25 مارچ کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق قرن افریقہ کے خطے سے ہزارہا تارکین وطن اپنے لیے بہتر اقتصادی مستقبل کی خاطر جس سمندری راستے سے جزیرہ نما عرب کا رخ کرتے ہیں، وہ ماہرین کے مطابق ''مشرقی روٹ‘‘ کہلاتا ہے۔

لیکن تین ماہ قبل ختم ہونے والے سال 2025ء میں یہ سمندری راستہ ایسی بے قاعدہ مہاجرت کرنے والے انسانوں کے لیے غیر معمولی حد تک جان لیوا ثابت ہوا۔

بحیرہ روم سانحہ: 2023ء کے حادثے پر اٹلی میں عدالتی کاروائی کا آغاز

گزشتہ برس اس راستے پر چھوٹی بڑی کشتیوں میں غیر محفوظ سمندری سفر کرنے والے تارکین وطن میں سے جتنے انسان مارے گئے، ان کی تعداد اس سے ایک سال پہلے کے مقابلے میں دو گنا ہو کر 922 ہو گئی، جو ایک نیا لیکن بہت تشویشناک ریکارڈ ہے۔

ہمسایہ ممالک سے ایتھپویا پہنچنے والے افریقی تارکین وطن جو بحیرہ احمر پار کر کے جزیرہ عرب تک پہنچنا چاہتے تھےتصویر: Michele Spatari/AFP

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار

ادیس ابابا میں اقوام متحدہ کے ترک وطن سے متعلق ادارے، بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کی طرف سے بتایا گیا کہ ہر سال ایتھوپیا، صومالیہ اور خطے کے دیگر غربت زدہ ممالک سے بیسیوں ہزار تارکین وطن بحیرہ احمر پار کر کے جزیرہ نما عرب تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ سفر زیادہ تر جبوتی سے شروع ہو کر یمن میں ختم ہوتا ہے۔ اس راستے پر اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگا دینے والے تارکین وطن کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ کسی طرح خلیج کے خطے کے امیر عرب ممالک تک پہنچ جائیں تا کہ وہاں مزدوروں یا گھریلو ملازمین کے طور پر کام کر سکیں۔

یورپی یونین میں غیر قانونی مہاجرت روکنے کے لیے مزید سختیاں

اس بارے میں جبوتی میں آئی او ایم کے مشن کی سربراہ تانیا پاسیفیکو نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، ''سمندر کے راستے ترک وطن کے ایسٹرن روٹ پر سفر کے دوران ہلاکتوں کی تعداد کے لحاظ سے 2025ء تاریخ کا سب سے ہلاکت خیز سال ثابت ہوا۔ اس دوران 922 افراد یا تو مارے گئے یا مختلف حادثات کے بعد سمندر میں لاپتا ہو گئے۔ یہ تعداد 2024ء کے مقابلے میں دو گنا بنتی ہے۔‘‘

بحیرہ احمر میں سفر کے دوران افریقی تارکین وطن سے بھری ہوئی ایک کشتیتصویر: Issouf Sanogo/AFP

اسپین: لاکھوں غیرقانونی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کا منصوبہ

تانیا پاسیفیکو نے بتایا کہ ہلاک یا لاپتا ہونے والے تارکین وطن میں سب سے بڑی تعداد ایتھوپیا کے باشندوں کی تھی، جو اپنے 130 ملین سے زائد شہریوں کے ساتھ براعظم افریقہ کا دوسرا سب سے بڑی آبادی والا ملک ہے، لیکن جسے طویل عرصے سے شدید غربت اور کئی طرح کے داخلی تنازعات کا سامنا ہے۔

خطے کی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرتے رہنے کا عزم

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے جبوتی میں مشن کی سربراہ نے بتایا، ''آئی او ایم اس بات کا تہیہ کیے ہوئے ہے کہ وہ آئندہ بھی جبوتی اور خطے کے دیگر ممالک کی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا تاکہ ترک وطن کے محفوظ اور باوقار طریقوں کی ترویج کی جا سکے اور مستقبل میں بڑی تعداد میں ایسی انسانی ہلاکتوں جیسے نئے المیوں سے بچا جا سکے۔‘‘

جرمنی، برلن تارکین وطن کو تیسرے ممالک بھیجنے پر غور

ہر سال ہزارہا افریقی تارکین وطن قرن افریقہ سے ایسی غیر محفوظ کشتیوں کے ذریعے بحیرہ احمر کو پار کرنے کی کوشش کرتے ہیںتصویر: Joserpiza/Dreamstime/IMAGO

یورپی یونین کے ممالک میں مہاجرین کی ملک بدری تیز تر کرنے کی دوڑ

قرن افریقہ سے بحیرہ احمر پار کر کے ہر سال جزیرہ نما عرب تک پہنچنے والے افریقی تارکین وطن میں سے بڑی تعداد کا ایک المیہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ یمن پہنچنے کے بعد وہیں پر پھنس کر رہ جاتے ہیں۔

یمن جزیرہ نما عرب کا غریب ترین ملک بھی ہے اور اسے تقریباﹰ ایک دہائی سے اپنے ہاں خونریز خانہ جنگی کا سامنا بھی ہے۔ ان حالات میں بہت سے افریقی تارکین وطن تو یمن سے ہی واپس اپنے آبائی ممالک کا رخ کرنے کا فیصلہ بھی کر لیتے ہیں۔

بعض یورپی ممالک میں تارکینِ وطن پر حملوں میں اضافہ

تانیا پاسیفیکو نے بتایا، ''ایتھوپیا میں معاشی ترقی کی رفتار اب کافی زیادہ ہے، جو اس سال 10 فیصد تک رہنے کی امید ہے۔ اس ترقی کی وجہ سے وہاں سے ترک وطن کا رجحان آئندہ کم ہو سکتا ہے۔‘‘

ہر سال بحیرہ روم کے راستے یورپ پہنچنے والے تارکین وطن میں بھی افریقی باشندوں (تصویر) کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہےتصویر: Hazem Ahmed/AP/picture alliance

’’تاہم منفی بات یہ ہے کہ ایتھوپیا میں افراط زر کی شرح بھی بہت زیادہ ہے، جو گزشتہ ماہ 10 فیصد رہی تھی۔‘‘

ادارت: شکور رحیم

مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں