بحیرہ روم کا سانحہ: تین سال بعد ملزم اطالوی عدالت میں
30 جنوری 2026
بحیرہ روم کی بے رحم موجوں نے 26 فروری دو ہزار تیئس کی صبح ایک ایسا منظر رقم کیا، جسے اٹلی آج تک نہیں بھلا پایا۔ اس سرد صبح جنوبی اٹلی کے سیاحتی قصبے کوترو کے ساحل پر ایک لکڑی کی کشتی چٹانوں سے ٹکرا کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی تھی۔
اس کشتی میںافغانستان، ایران، پاکستان اور شام سے تعلق رکھنے والے درجنوں تارکین وطن افراد سوار تھے۔ یہ وہ لوگ تھے، جو جنگ، غربت اور خوف سے بھاگ کر نئی زندگی کی تلاش میں نکلے تھے لیکن ساحل سے کچھ دور ہی ان کے خوابوں کو موجوں نے نگل لیے۔ اس حادثے میں کم از کم 94 افراد مارے گئے، جن میں 35 بچے بھی شامل تھے۔
ساحل کے ساتھ بہہ کر آنے والی لاشیں گواہی دے رہی تھیں کہ یہ سفر اُمید کا نہیں، موت کا تھا۔ ایک قریبی اسپورٹس ہال ان کے تابوتوں سے بھر گیا، بالغوں کے لیے بھوری لکڑی کے تابوت اور بچوں کے لیے سفید تابوت، ایک ایسا منظر پیش کرتے رہے، جو ہر کسی کے لیے دلخراش ثابت ہوا۔ اس حادثے نے ایک خوفناک انسانی المیے کے صدمے کے گہرے نقوش تو چھوڑے ہی ساتھ ہی ایک بڑے سوال کو بھی جنم دیا۔
کیا یہ اموات روکی جا سکتی تھیں؟
یہی سوال جمعہ 30 جنوری کو اٹلی کی عدالت میں ایک تاریخی مقدمے کی کارروائی کے آغاز کا سبب بنا، جہاں اٹلی کی پولیس اور کوسٹ گارڈز کے چھ اہلکاروں کو کٹہرے میں کھڑا کیا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بروقت کارروائی نہیں کی۔ ایک تاخیر، جو بقول استغاثہ، درجنوں ہلاکتوں کا باعث بنی۔
عدالت کے کٹہرے میں پہنچنے والے چار افسران گارڈیا دی فنانزا (مالیاتی جرائم کی پولیس) سے وابستہ تھے اور دو کا تعلق کجا تعلق کوسٹ گارڈ سے تھا۔ ان پر غیر ارادی قتل اور مجرمانہ لاپرواہی کے تحت '' criminal shipwreck کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
حکام کا یہ بھی ماننا ہے کہ کئی لاشیں سمندر نے ہمیشہ کے لیے اپنے اندر سمو لیں اور ان کی اصل تعداد شاید کبھی سامنے نہ آ سکے۔ یہ سانحہ میڈیا اور عوامی حلقوں میں بھی شدید ردعمل کا باعث بنا۔
اس ساری بحث میں اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کی سخت پالیسیوں پر تنقید کی ایک نئی لہر دیکھنے میں آ رہی ہے، جس نے یورپ میں تارکین وطن کے بحران کو ایک نئی شدت کے ساتھ دوبارہ عالمی بحث بنا دیا۔
غفلت برتنے کا الزام
ملزمان کے خلاف عائد کردہ الزامات ایک ایسی تلاش اور امدادی کارروائی سے متعلق ہیں، جو کبھی شروع ہی نہ ہوئی، حالانکہ کشتی کو کئی گھنٹوں تک ٹریک کیا جاتا رہا تھا۔
یورپی یونین کی سرحدی نگرانی کی ایجنسی فرونٹکس کے ایک طیارے نے ساحل سے تقریباً 38 کلومیٹر کے فاصلے پر مشکلات میں گھری اس کشتی کو دیکھا اور اطالوی حکام کو اطلاع دی تھی، تاہم بعد میں جی ڈی ایف پولیس کی جانب سے بھیجی گئی کشتی خراب موسم کے باعث واپس لوٹ گئی اور تارکین وطن کی وہ کشتی بالآخر ساحل کے قریب چٹانوں سے ٹکرا کر ڈوب گئی۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے کوسٹ گارڈز تک ضروری اور اہم معلومات نہیں پہنچائیں، جبکہ کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں پر الزام ہے کہ وہ پولیس سے وہ تفصیلات حاصل کرنے میں ناکام رہے، جو انہیں صورتحال کی سنگینی اور ہنگامی نوعیت کا احساس دلا سکتی تھیں۔
لیبوریا کاتالیوتّی، جو جی ڈی ایف سے تعلق رکھنے والے ملزم البیرتو لپولیس کے وکیل ہیں اور جو کیلابریا کے دوسرے ساحل پر واقع فضائی اور بحری کمانڈ سینٹر چلاتے تھے، نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کے مؤکل کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے کہ ان کے ماتحت افسران نے مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔
مقدمے کا سامنا کرنے والے تمام افسران مختلف کنٹرول رومز میں کام کر رہے تھے، جو حادثے کے مقام سے کافی دور واقع تھے۔
مزید تارکین وطن کی ہلاکتوں کا خدشہ
بحیرہ روم میں سرچ اینڈ ریسکیو کارروائیاں کرنے والی امدادی تنظیمیں، جیسے ایس او ایس ہیومینیٹی اور میڈیٹرینیہ سیونگ ہیوم بھی اس مقدمے میں فریق مدعی بن گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ المیہ میلونی کی سخت گیر حکومت کی اُن پالیسیوں کی نشاندہی کرتا ہے، جن میں تارکین وطن کی کشتیوں کو انسانی مسئلہ سمجھنے کی بجائے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا معاملہ بنا دیا جاتا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کییورپ و وسطی ایشیا کی قائم مقام نائب ڈائریکٹر یووڈتھ زونڈرلنڈ کا کہنا ہے کہ مقدمہ صرف ان انفرادی اہلکاروں کے خلاف ہی نہیں بلکہ ''اطالوی ریاست کی اُن پالیسیوں کے خلاف بھی ہے، جو جانیں بچانے کے بجائے پناہ کے متلاشیوں اور تارکین وطن افراد کو روکنے اور جرم سے تعبیر کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔‘‘
اس سانحے کے بعد جب میلونی نے کاترو کا دورہ کیا تو انہوں نے اس تباہی کی پوری ذمہ داری انسانی اسمگلروں پر عائد کی اور اعلان کیا کہ ایسے افراد کے لیے سزائیں مزید سخت کی جائیں گی، جو تارکین وطن افراد کی ہلاکت کا باعث بنتے ہیں۔
ایک شامی اور ایک ترک باشندے کی سزائے قید
اس حادثے کا ذمہ دار قرار دیے جانے والے دو افراد کو سن2024 میں بیس بیس برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان میں ایک ترک اور ایک شامی شہری شامل تھا۔
اسی سال دسمبر میں دو پاکستانیوں اور ایک ترک شہری کو بھی ایک اطالوی عدالت نے 14 سے 16 سال تک کی سزائیں دیں۔
اطالوی حکام کے مطابق گزشتہ سال تقریباً 66,000 تارکین وطن اٹلی کے ساحلوں پر پہنچے، جو سن 2024 کے اعداد سے ملتے جلتے ہیں اور سن 2023 کی 157,000 تعداد کے مقابلے میں نمایاں کمی ظاہر کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (IOM) کے مطابق گزشتہ سال کم از کم 1,340 افراد وسطی بحیرہ روم عبور کرتے ہوئے ہلاک ہوئے۔
اس ایجنسی نے پیر کے روز اطلاع دی کہ حالیہ طوفان ''ہیری‘‘ کے دوران لیبیا کے ساحل کے نزدیک ایک کشتی کے ڈوبنے کے بعد پچاس سے زیادہ افراد کے لاپتا ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسی دوران ایک سالہ جڑواں بچیوں کی گمشدگی کی خبر بھی سامنے آئی ہے، یہ تیونس سے اٹلی کی جانب روانہ ہونے والی کشتی کے خراب موسم کی زد میں آنے کے سبب ہوا۔
ادارت: عاطف بلوچ