1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

براہیمی مشرق وسطیٰ کے دورے پر

کشور مصطفیٰ19 اکتوبر 2013

آج شامی دارالحکومت دمشق کے ایک مضافاتی علاقے میں ہونے والے ایک خود کُش کار بم حملے میں 16 شامی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

تصویر: Reuters

سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق القاعدہ کے قریب سمجھے جانے والے النصرہ فرنٹ کے ایک خود کُش بم حملہ آور نے دھماکا خیز مواد سے لیس ایک گاڑی کو حکومت کے غلبے والے جنوبی شامی شہر جرمانا اور باغیوں کے علاقے الملیحہ کے درمیان واقع ایک چیک پوسٹ کے سامنے اڑا دیا۔ برطانیہ میں قائم ہیومن رائٹس آبرویٹری کے ذرائع سے پتہ چلاہے کہ اس دہشت گردانہ حملے کے بعد باغیوں کی طرف سے جرمانا پر ماٹر گولے باری شروع ہو گئی۔

اُدھر ریاستی میڈیا کی خبروں میں کہا گیا ہے کہ آج الصبح ہونے والا دھماکا باغیوں کی طرف سے، جنہیں اسد حکومت دہشت گرد قرار دیتی ہے، عیسائیوں اور مذہبی گروپ دروز کی مخلوط آبادی والے جرمانا کے مضافاتی علاقے میں ہوا۔

حلب پر اسد حکومتی فورسز کا غلبہ رہا ہےتصویر: Reuters

دریں اثناء شام کے شہریوں کی صورت حال کے پیش نظر امریکا کی طرف سے ایک سخت بیان میں اسد حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ انسانی ہم دری کی بنیاد پر امداد پہنچانے والے کار کنوں کو متاثرہ انسانوں تک رسائی فراہم کرے۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی حالیہ اور امریکی صدر باراک اوباما کی سابقہ ترجمان جین ساکی نے گزشتہ روز ایک بیان میں کہا، ''چند غیر معمولی رپورٹوں سے پتہ چلا ہے کہ بشار الاسد کے صدارتی محل سے کچھ ہی فاصلے پر قائم متعدد علاقوں میں بچے خوراک کی کمی سے متعلق وجوہات کے سبب ہلاک ہو رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ''اسد حکومت کی طرف سے ہزاروں شہریوں کو انسانی بنیادوں پر پہنچائی جانے والی امداد اور جان بچانے کے لیے نہایت ضروری اشیاء کی فراہمی کو جان بوجھ کر روکا جا رہا ہے، یہ خلاف ضمیر اور غیر واجب طرز عمل ہے۔‘‘

قبل ازیں امریکی محکمہ خارجہ کی ایک ترجمان نے مضافاتی علاقے مودامیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ''ایک سال سے یہاں لوگوں کے پاس ضروریات زندگی کا سامان موجود نہیں ہے اور شامی حکومت جان بوجھ کر ان علاقوں میں محصور ہزاروں افراد تک زندگی بچانے والی امدادی اشیا کی ترسیل کو روکے ہوئے ہے۔‘‘

شامی باشندوں کی روزمرہ زندگی تباہ ہو چُکی ہےتصویر: Reuters/Goran Tomasevic

امریکا کی طرف سے یہ مطالبات ایک ایسے وقت میں کے گئے ہیں جب شام کے بین الاقوامی مندوب لخضر براہیمی آج مشرق وسطیٰ کے شورش زدہ خطے کے دورے پر سب سے پہلے مصری دارالحکومت پہنچے ہیں۔ ان کے دورے کا مقصد شام میں امن کے لیے مجوزہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔

براہیمی کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں عمل میں آرہا ہے جب شام کے صوبے حلب میں ہونے والی تازہ ترین جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے شام کے امور سے متعلق خصوصی مندوب لخضر براہیمی کا یہ دورہ آئندہ ماہ جنیوا میں ہونے والی شام کے لیے تجویز کردہ کانفرنس کو عمل میں لانے کی بین الاقوامی کوششوں کا ایک حصہ ہے۔ تاہم ان مذاکرات کے امکانات ہنوز غیر واضح ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شامی اپوزیشن اس بارے میں منقسم ہے اور یہ آئندہ ہفتے اس بارے میں ووٹنگ کرے گی کہ آیا وہ جنیوا اجلاس میں شرکت کرے گی یا نہیں۔

براہیمی اور جان کیری 14 اکتوبر کو شام سے متعلق مذاکرات کے لیے لندن میں ایک ملاقات کر چُکے ہیںتصویر: Reuters

جینیوا میں براہیمی کی ایک ترجمان خولہ مطار نے بتایا کہ براہیمی اپنے اس دورے کے دوران مصری وزیر خارجہ اور عرب لیگ کے سربراہ سے بھی ملاقات کریں گے۔ جس کے بعد اُن کا شام کے کٹر حامی ملک ایران کا دورہ متوقع ہے۔

اُدھر امریکی وزیر خارجہ جان کیری آئندہ ہفتے یورپ کا دورہ کریں گے جس کے دوران وہ منگل کو برطانیہ میں فرینڈز آف سیریا گروپ کے ساتھ شامی اپوزیشن سے شام کے بحران کے حوالے سے مذاکرات کریں گے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں