براہیمی مشرق وسطیٰ کے دورے پر
19 اکتوبر 2013
سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق القاعدہ کے قریب سمجھے جانے والے النصرہ فرنٹ کے ایک خود کُش بم حملہ آور نے دھماکا خیز مواد سے لیس ایک گاڑی کو حکومت کے غلبے والے جنوبی شامی شہر جرمانا اور باغیوں کے علاقے الملیحہ کے درمیان واقع ایک چیک پوسٹ کے سامنے اڑا دیا۔ برطانیہ میں قائم ہیومن رائٹس آبرویٹری کے ذرائع سے پتہ چلاہے کہ اس دہشت گردانہ حملے کے بعد باغیوں کی طرف سے جرمانا پر ماٹر گولے باری شروع ہو گئی۔
اُدھر ریاستی میڈیا کی خبروں میں کہا گیا ہے کہ آج الصبح ہونے والا دھماکا باغیوں کی طرف سے، جنہیں اسد حکومت دہشت گرد قرار دیتی ہے، عیسائیوں اور مذہبی گروپ دروز کی مخلوط آبادی والے جرمانا کے مضافاتی علاقے میں ہوا۔
دریں اثناء شام کے شہریوں کی صورت حال کے پیش نظر امریکا کی طرف سے ایک سخت بیان میں اسد حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ انسانی ہم دری کی بنیاد پر امداد پہنچانے والے کار کنوں کو متاثرہ انسانوں تک رسائی فراہم کرے۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی حالیہ اور امریکی صدر باراک اوباما کی سابقہ ترجمان جین ساکی نے گزشتہ روز ایک بیان میں کہا، ''چند غیر معمولی رپورٹوں سے پتہ چلا ہے کہ بشار الاسد کے صدارتی محل سے کچھ ہی فاصلے پر قائم متعدد علاقوں میں بچے خوراک کی کمی سے متعلق وجوہات کے سبب ہلاک ہو رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ''اسد حکومت کی طرف سے ہزاروں شہریوں کو انسانی بنیادوں پر پہنچائی جانے والی امداد اور جان بچانے کے لیے نہایت ضروری اشیاء کی فراہمی کو جان بوجھ کر روکا جا رہا ہے، یہ خلاف ضمیر اور غیر واجب طرز عمل ہے۔‘‘
قبل ازیں امریکی محکمہ خارجہ کی ایک ترجمان نے مضافاتی علاقے مودامیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ''ایک سال سے یہاں لوگوں کے پاس ضروریات زندگی کا سامان موجود نہیں ہے اور شامی حکومت جان بوجھ کر ان علاقوں میں محصور ہزاروں افراد تک زندگی بچانے والی امدادی اشیا کی ترسیل کو روکے ہوئے ہے۔‘‘
امریکا کی طرف سے یہ مطالبات ایک ایسے وقت میں کے گئے ہیں جب شام کے بین الاقوامی مندوب لخضر براہیمی آج مشرق وسطیٰ کے شورش زدہ خطے کے دورے پر سب سے پہلے مصری دارالحکومت پہنچے ہیں۔ ان کے دورے کا مقصد شام میں امن کے لیے مجوزہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔
براہیمی کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں عمل میں آرہا ہے جب شام کے صوبے حلب میں ہونے والی تازہ ترین جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے شام کے امور سے متعلق خصوصی مندوب لخضر براہیمی کا یہ دورہ آئندہ ماہ جنیوا میں ہونے والی شام کے لیے تجویز کردہ کانفرنس کو عمل میں لانے کی بین الاقوامی کوششوں کا ایک حصہ ہے۔ تاہم ان مذاکرات کے امکانات ہنوز غیر واضح ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شامی اپوزیشن اس بارے میں منقسم ہے اور یہ آئندہ ہفتے اس بارے میں ووٹنگ کرے گی کہ آیا وہ جنیوا اجلاس میں شرکت کرے گی یا نہیں۔
جینیوا میں براہیمی کی ایک ترجمان خولہ مطار نے بتایا کہ براہیمی اپنے اس دورے کے دوران مصری وزیر خارجہ اور عرب لیگ کے سربراہ سے بھی ملاقات کریں گے۔ جس کے بعد اُن کا شام کے کٹر حامی ملک ایران کا دورہ متوقع ہے۔
اُدھر امریکی وزیر خارجہ جان کیری آئندہ ہفتے یورپ کا دورہ کریں گے جس کے دوران وہ منگل کو برطانیہ میں فرینڈز آف سیریا گروپ کے ساتھ شامی اپوزیشن سے شام کے بحران کے حوالے سے مذاکرات کریں گے۔