1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

برسلز: بينکنگ يونين کا قيام، حتمی سمجھوتہ تاحال نہ ہوسکا

عاصم سليم11 دسمبر 2013

يورپی يونين کی کوشش ہے کہ رواں برس کے اختتام تک بينکنگ يونين کو حتمی شکل دے دی جائے تاہم منگل دس دسمبر کے روز اس بارے ميں برسلز ميں يونين کے رکن ممالک کے وزرائے خزانہ کا ايک اجلاس کوئی خاص نتائج برآمد نہ کر سکا۔

تصویر: picture-alliance/dpa

برسلز ميں منگل دس دسمبر کے روز قريب چودہ گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد يورپی يونين کے رکن ممالک کے وزرائے خزانہ اگرچہ کسی حتمی نتيجے تک نہيں پہنچ سکے تاہم وزراء نے کئی اہم معاملات ميں پيش رفت کا عنديہ ديا ہے۔

جرمن وزير خزانہ وولف گانگ شوئبلے نے دس دسمبر کے روز منعقدہ مذاکرات کے دور کے بارے ميں بات چيت کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے دوران کافی معاملات پر غور کیا گیا۔ ان کے بقول تمام فريقين اب اس بات پرمتفق ہيں کہ اگر بينک مالی مشکلات کا شکار ہوں، تو ايسی کسی ممکنہ صورت ميں بوجھ ٹيکس ادا کرنے والوں کی بجائے سرمايہ کاروں اور قرض دہندگان پر پڑے گا۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کو کس طرح عملی جامہ پہنايا جائے گا، اس حوالے سے ابھی رياستوں کو انفرادی طور پر کچھ معاملات طے کرنا ہيں۔

يورپی وزرائے خزانہ کا اگلا اجلاس اٹھارہ دسمبر کے روز طے ہےتصویر: Odd Andersen/AFP/Getty Images

يورپی وزرائے خزانہ کا اگلا اجلاس اٹھارہ دسمبر کے روز طے ہے۔ يہ دور يورپی يونين کے رہنماؤں کے اس اہم دو روزہ سربراہی اجلاس سے محض ايک روز قبل ہوگا، جس ميں توقع کی جا رہی تھی کہ شايد بينکنگ يونين کے قيام کو سرکاری سطح پر حتمی شکل دی جا سکے۔ يورپی يونين کی رکن رياستوں سے منظوری کے بعد اس معاملے کو يورپی پارليمان ميں پيش کيا جائے گا، جہاں اس کی حتمی منظوری ممکن ہے۔

واضح رہے کہ اس بينکاری يونين کے قيام کا مقصد مستقبل ميں کسی ممکنہ اقتصادی بحران سے نمٹنا ہے۔ اس سلسلے ميں بينکنگ يونين کا قيام، دوسرا مرحلہ ہے۔ ابتدائی مرحلے ميں يورو زون کے بڑے بينکوں کو يورپی بينکنگ اتھاڑٹی کے ماتحت کرنے کے حوالے سے ايک سمجھوتہ طے پا چکا ہے۔

تاہم 'سنگل ريزوليوشن ميکينزم‘ نامی اس نظام کے حوالے سے رکن رياستوں ميں اختلافات ابھی بھی قائم ہيں۔ رکن ملک اس بات متفق نہيں ہو پا رہے کہ کن کن بينکوں کو 'سنگل ريزوليوشن ميکينزم‘ يا (SRM) کے تحت کام کرنا چاہيے۔ جرمنی کی خواہش ہے کہ يورپی بينکنگ اتھارٹی کے ماتحت کام کرنے والے صرف اعلٰی درجے کے بينکوں کو اس نظام کے تحت کام کرنا چاہيے جبکہ فرانس اور يورپی کميشن چاہتے ہيں کہ يورو زون کے تمام چھ ہزار فعال بينک SRM کے تحت کام کريں۔

اس حوالے سے بھی شديد اختلافات موجود ہيں کہ 'سنگل ريزوليوشن ميکينزم‘ کے انتظامی امور کی نگرانی کون سا يورپی محکمہ کرے گا۔ يورپی کميشن کے مطابق اس کام کے لیے وہی سب سے زيادہ اہل ہے کيونکہ کميشن کے پاس اس عمل کے ليے درکار مہارت اور آزادی دونوں ہی دستياب ہيں۔ اس کے برعکس يورپ کی سب سے مستحکم معيشت کے حامل ملک جرمنی کا مؤقف ہے کہ رکن ممالک کا اس کے کنٹرول ميں کردار اہم ہونا چاہيے۔

واضح رہے کہ اگر وزرائے خزانہ اٹھارہ دسمبر کو کسی حتمی سمجھوتے تک پہنچنے ميں کامياب رہے تو يورپی يونين کے رکن ممالک کے سراہان مملکت اگلے ہی روز ہونے والے ايک سربراہی اجلاس ميں اس کی منظوری دے سکتے ہيں۔ يورپی يونين کی خواہش ہے کہ يکم جنوری 2015ء سے 'سنگل ريزوليوشن ميکينزم‘ کا نفاذ ممکن ہو سکے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں