1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

برسلز فائرنگ، مہدی نیموش کا اقبال جرم

عاطف بلوچ2 جون 2014

بیلجیئم کے دفتر استغاثہ کے مطابق برسلز کے ایک یہودی میوزیم میں فائرنگ کرنے کے شبے میں گرفتار کیے گئے ایک فرانسیسی مسلمان نے ایک ویڈیو پیغام میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ملزم ایک برس تک شام میں بھی رہا تھا۔

بیلجیم کے دفتر استغاثہ کے اعلیٰ اہلکار فریڈرک فان لیوتصویر: REUTERS

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے برسلز سے موصولہ رپورٹوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعے کے دن حراست میں لیے گئے انتیس سالہ مہدی نیموش نے چالیس سکینڈ کا ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کیا تھا، جس میں اس نے چوبیس مئی کو برسلز میں واقع ایک یہودی میوزیم پر حملے کی ذمہ داری قبول کی۔

اس میوزیم پر ہوئے حملے میں ایک اسرائیلی جوڑا اور ایک فرانسیسی خاتون ہلاک ہو گئی تھی۔ اگرچہ اس حملے کا ملزم اپنی پرتشدد کارروائی کے بعد فرار ہونے میں کامياب ہو گیا تھا تاہم جمعے کے دن پولیس نے اس کو گرفتار کر لیا تھا۔

اتوار کو استغاثہ نے تصدیق کی کہ اس ملزم سے ایک کلاشنکوف اور ایک ہینڈ گن بھی برآمد ہوئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس کے قبضے سے ایک ایسی ویڈیو بھی ملی ہے، جس میں اس نے اس شوٹنگ کی ریکارڈنگ کی تھی۔ بعدازاں نیموش نے اپنے اسلحے کے ساتھ ایک اور ویڈیو بنائی تھی۔

فرانسیسی دفتر استغاثہ کے ایک اعلیٰ اہلکار فرانسوا مؤلنزتصویر: REUTERS

بیلجیم کے دارالحکومت میں منعقد ہوئی ایک پریس کانفرنس میں پراسیکیوٹر فریڈرک فان لیو نے بتایا کہ اس دوسری ویڈیو میں ملزم نے میوزیم پر حملہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ فوری طور پر اس امر کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ اس ویڈیو میں آواز نیموش کی ہی ہے۔

اتوار کے دن ہی پیرس میں منعقد ہوئی ایک پریس کانفرنس میں دفتر استغاثہ کے ایک اعلیٰ اہلکار فرانسوا مؤلنز نے بتایا ہے کہ نیموش سے ایک ایسا کپٹرا بھی برآمد ہوا ہے، جس پر عربی زبان میں ’اسلامک اسٹیٹ آف عراق و شام‘ کا نام لکھا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیموش نے شام میں ایک برس قیام کیا تھا اور اس کے مبینہ طور پر جہادی گروہ ’اسلامک اسٹیٹ آف عراق و شام‘ سے روابط تھے۔

فرنسوا مؤلنز نے بتايا کہ نیموش کو بینک میں ڈاکا ڈالنے کے جرم میں پانچ برس کی قید بھی سنائی گئی تھی اور اسے دسمبر 2012ء میں رہا کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق جنوری 2013ء میں وہ شام چلا گیا تھا اور مشتبہ طور پر وہاں خانہ جنگی کا حصہ بھی بنا رہا۔

نیموش کے گھر والوں نے اس کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کم گو لیکن نقصان پہنچانے والا ہر گز نہیں ہے۔ اس کی خالہ نے اے ایف پی کو بتایا، ’’نیموش ایک اچھا، ذہین اور پڑھا لکھا شخص ہے اور اس نے ایک برس یونیورسٹی میں تعلیم بھی حاصل کی ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ نیموش کا کنبہ اس تمام واقعے پر دھچکے کا شکار ہے۔ ان کے بقول نیموش نے نہ تو کبھی مسجد کا رخ کیا تھا اور نہ ہی مذہب کے بارے میں بات کرتا تھا۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں