1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

برسلز: مالی کے ليے ڈونرز کانفرنس کا انعقاد

15 مئی 2013

افريقی ملک مالی کے ليے دو بلين يورو کی امداد جمع کرنے کے ليے آج بروز بدھ برسلز ميں ايک ڈونرز کانفرنس کا آغاز ہوا، جس ميں دنيا کے کئی ممالک کے اعلی اہلکار شرکت کر رہے ہيں۔

تصویر: Georges Gobet/AFP/Getty Images

برسلز ميں منعقدہ اس کانفرنس ميں کل 103 وفود شرکت کر رہے ہيں، جن ميں 10 ممالک کے سربراہان مملکت سميت کئی اعلٰی وزراء بھی شامل ہيں۔ اس کانفرنس کا مقصد مالی ميں مسلمان انتہا پسندوں کی پيشقدمی اور اس کے نتيجے ميں فرانسيسی فوجی مداخلت کے بعد وہاں دوبارہ امن کے قيام کے ليے دو بلين يورو کی امداد جمع کرنا ہے۔

ڈونرز کانفرنس کے بارے ميں بات کرتے ہوئے يورپی يونين کے صدر ہرمن فان رامپوئے نے کہا، ’’مالی کو مستحکم بنانا اور ترقی کی راہ پر دوبارہ گامزن کرنا لازمی ہے تاکہ اس سے پورے خطے کو فائدہ پہنچ سکے۔‘‘

اجلاس سے قبل فرانسيسی وزير خارجہ لاراں فابيوس نے کہا، ’’ہم مالی ميں جنگ جيتنے کے عمل ميں مصروف ہيں ليکن اب وہاں امن قائم کرنا ہے۔ اور اس مقصد کے ليے سلامتی سے متعلق امور کی ديکھ بھال اور جمہوری اور ترقياتی عمل جاری رکھنا ضروری ہے۔ اس حکمت عملی کے ليے رقم درکار ہوگی۔‘‘

تصویر: picture-alliance/dpa

يورپی يونين کی جانب سے منگل کے روز مالی کے ليے 520 ملين يورو کی امداد کا اعلان کيا جا چکا ہے اور يہ توقع کی جا رہی ہے کہ آج بروز بدھ فرانس کی جانب سے امداد کا اعلان کيا جائے گا۔

اس سے قبل مالی کی انتظاميہ کی جانب سے ملک ميں سلامتی، انسانی امداد، اليکشن کے انعقاد، معاشی ترقی اور ديگر امور ميں بہتری کے مقصد سے ايک پروگرام ترتيب ديا گيا تھا، جس کے ليے مجموعی طور پر 4.3 بلين يورو درکار ہوں گے۔ مالی کے حکام نے اس رقم ميں سے 2.3 بلين يورو کے اخراجات خود اٹھانے کی حامی بھری تھی جبکہ بقايا دو بلين يورو کے ليے يورپی يونين سے رجوع کيا گيا۔

يہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ برسلز ميں ہونے والی اس ڈونرز کانفرنس سے قبل يورپی يونين کے اہلکار متنبہ کر چکے ہيں کہ مالی ميں سياسی بحران کی وجہ سے خطے ميں جاری انسانی امداد کے پروگراموں کو پٹری سے نہيں اترنا چاہيے۔ افريقہ کے اس خطے ميں خوراک کی کمی اور خشک سالی جيسے مسائل کی وجہ سے قريب پانچ لاکھ افراد بے گھر ہيں۔ يورپی يونين کی انسانی امداد سے متعلق امور کی کمشنر Kristalina Georgieva نے کہا کہ مالی کو دی جانے والی انسانی امداد ميں 12ملين يورو کا اضافہ کر ديا جائے گا۔

واضح رہے کہ فرانسيسی فوجی دستے مالی سے انخلاء کے عمل ميں مصروف ہيں۔ دريں اثناء اقوام متحدہ نے مالی کے شمالی حصے ميں سرگرم مسلمان انتہا پسندوں کے خطرات سے نمٹنے کے ليے وہاں امن مشن تعينات کرنے کا فيصلہ کيا ہے تاکہ وہاں امن و استحکام قائم کيا جا سکے۔ اسی دوران يورپی يونين نے بھی قريب 20 رکن ممالک کے تعاون سے مالی کی افواج کو تربيت فراہم کرنا شروع کر دی ہے تاکہ وہ ملکی سلامتی کے امور سنبھال سکيں۔

as/aba (dpa)

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں