1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

برسلز ميں يورپی يونين کا اہم سربراہی اجلاس آج سے

عاصم سليم26 جون 2014

بيلجيم ميں چھبيس اور ستائيس جون کو يورپی يونين کے رکن ملکوں کا ايک اہم سربراہی اجلاس منعقد ہو رہا ہے، جس ميں يورپی کميشن کے آئندہ صدر کی نامزدگی کے فيصلے کے علاوہ بلاک کی آئندہ پانچ سالوں کی پاليسياں بھی طے کی جائيں گی۔

تصویر: imago/JuNiArt

يورپی ملک بيلجيم کے ايک چھوٹے سے شہر يپريس ميں آج بروز جمعرات يورپی يونين کے اٹھائيس رکن ممالک کے رہنما جمع ہو رہے ہيں۔ 1914ء تا 1918ء تک جاری رہنے والی پہلی عالمی جنگ کے دوران يہ شہر اسٹريٹيجک لحاظ سے کافی اہميت کا حامل تھا اور يہی وجہ ہے کہ اس شہر کی تاريخ قتل عام اور خون سے بھری ہوئی ہے۔

يپريس، پہلی عالمی جنگ کے دورکا ايک منظرتصویر: Getty Images

آج اسی شہر ميں يورپی يونين کے رکن ملکوں کے رہنما پہلی عالمی جنگ کی ياد ميں منعقدہ ايک تقريب ميں شرکت کريں گے۔ بعد ازاں يورپی رہنما بلاک کی آئندہ پانچ سالوں کی پاليسياں طے کرنے کے ليے ايک عشائيے ميں شريک ہوں گے۔ يوں دو دن دورانيے کے اُس گرما گرم مشاورتی عمل کا آغاز ہو گا، جس ميں يورپی يونين کے کئی اہم منصبوں کے حوالے سے فيصلے کيا جانا ہيں۔

اس سمٹ ميں سب سے اہم معاملہ يورپی کميشن کے آئندہ صدر کی باقاعدہ نامزدگی کا ہے۔ برطانوی وزير اعظم ڈيوڈ کيمرون کميشن کے صدر کے طور پر لکسمبرگ کے سابق وزير اعظم ژاں کلود يُنکر کے خلاف ہيں۔ کيمرون کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ منعقدہ يورپی انتخابات ميں دائيں بازو کی جماعتوں کی نماياں کارکردگی کے نتيجے ميں اب يونين ميں اصلاحات کا عمل لازمی ہے اور يُنکر اس ناگزير عمل کو پيچيدہ بنا ديں گے۔ تاہم ايسا معلوم ہوتا ہے کہ کيمرون اپنی کاوشوں ميں اکيلے ہی ہيں۔

لکسمبرگ کے سابق وزير اعظم ژاں کلود يُنکرتصویر: John Thys/AFP/Getty Images

ہالينڈ کے وزير اعظم مارک روٹے اور اُن کے سويڈش ہم منصب فريڈرک رائن فيلڈ نے اپنی اپنی پارليمانوں کو مطلع کر ديا ہے کہ وہ يورپی کميشن کی صدارت کے منصب کے ليے يُنکر کی نامزدگی کی حمايت کريں گے۔ جرمن چانسلر انگيلا ميرکل پہلے ہی متعدد مرتبہ يُنکر کی حمايت کا اظہار کر چکی ہيں۔ اب بظاہر يُنکر کی مخالفت ميں کيمرون کے واحد حامی ہنگری کے وکٹر اوبان ہی نظر آتے ہيں۔

مرکز سے بائيں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی يورپی قوتيں فرانس اور اٹلی بھی يُنکر ہی کی حمايت کر رہی ہيں۔ تاہم اُن کا مطالبہ ہے کہ آئندہ پانچ سالوں کے ليے اقتصادی نمو اور روزگار کے مواقع پيدا کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اطالوی وزير اعظم ماتيو رينزی يُنکر کی حمايت اس ليے بھی کر رہے ہيں کيونکہ وہ اٹلی ميں لاگو سخت بچتی پاليسيوں ميں نرمی کے خواہاں ہيں۔ يہ پاليسياں يورو زون کے مالی بحران کے تناظر ميں برسلز کی جانب سے متعارف کرائی گئی تھيں۔

آج سے شروع ہونے والی اس سمٹ کے حوالے سے بات چيت کرتے ہوئے ايک يورپی سفات کار کا کہنا تھا، ’’يہ سمٹ جذبات، واقعات اور مواد سے بھرپور ہو گی۔‘‘

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں