1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

برسلز میں ممکنہ ذمہ داریاں: پولستانی وزیر اعظم کی تردید

11 جون 2013

پولش وزیراعظم ڈونلڈ ٹُسک کو ایک معتبر یورپی سیاستدان خیال کیا جاتا ہے۔ ایسے اندازے لگائے جا رہے تھے کہ وہ اگلے برس یورپی کمیشن کے صدر بن سکتے ہیں لیکن ٹُسک نے ان اندازوں کی اپنے تازہ انٹرویو کے ذریعے تردید کر دی ہے۔

تصویر: DW/R. Romaniec

پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹُسک نے ان رپورٹوں کی تردید کی ہے کہ وہ ممکنہ طور پر برسلز میں یورپی کمیشن کے اگلے صدر کے طور پر اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ ٹُسک نے کہا ہے کہ وہ ملکی سیاست میں رہتے ہوئے اگلے عام الیکشن کے بعد دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہونا چاہتے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے وارسا سے اس بارے میں اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ ڈونلڈ ٹُسک کے بقول ان کی مستقبل قریب میں برسلز منتقلی کی خبریں محض افواہیں ہیں۔ مشرقی یورپی ملک پولینڈ کے سربراہ حکومت کو ایک مضبوط اور بااثر یورپ نواز سیاستدان سمجھا جاتا ہے۔

مختلف یورپی دارالحکومتوں میں کئی سیاستدانوں کا خیال ہے کہ ٹُسک ایک ایسے ممکنہ امیدوار ہیں جو یورپی کمیشن کے صدر کے طور پر پرتگال سے تعلق رکھنے والے یوزے مانوئل باروسو کی جگہ لے سکتے ہیں۔ یورپی کمیشن کے موجودہ صدر باروسو کے عہدے کی مدت 2014ء میں پوری ہو رہی ہے۔

اس تناظر میں ڈونلڈ ٹُسک نے وارسا میں پیر کی رات پولستانی پبلک ٹیلی وژن TVP2 کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کا ارادہ ہے کہ وہ اپنی جماعت سِوک پلیٹ فارم کی قیادت کرتے ہوئے ایک بار پھر ملکی انتخابات میں حصہ لیں اور کامیابی کی صورت میں دوسری مدت کے لیے بھی وزیر اعظم کے طور پر اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں۔ پولینڈ میں اگلے عام الیکشن 2015ء میں ہوں گے۔

وزیر اعظم ٹُسک نے کہا، ’میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں 2015ء تک وزیر اعظم کے طور پر فرائض انجام دیتا رہوں گا۔ میری مصروفیات کا محور پولینڈ کے داخلی سیاسی امور ہوں گے۔‘

ڈونلڈ ٹُسک اور جرمن چانسلر انگیلا میرکلتصویر: John Macdougall/AFP/Getty Images

ڈونلڈ ٹُسک نے اپنے اس انٹرویو میں کہا، ’میں جانتا ہوں کہ یورپی سطح پر ایک نیا امکان پیدا ہوا ہے۔ لیکن میرے لیے پولینڈ کے وزیر اعظم کے عہدے سے زیادہ عزت کی بات اور کوئی نہیں ہے۔ میری رائے میں وارسا میں وزیر اعظم ہونا یورپی یونین میں کوئی عہدہ قبول کرنے کے مقابلے میں سو گنا زیادہ اہم ذمہ داری ہے۔‘

یورپی سطح پر یونین کے ایک رکن ملک کے وزیر اعظم کے طور پر ڈونلڈ ٹُسک کو اس لیے بھی بڑے احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے کہ انہوں نے یہ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ پولینڈ کو کامیابی سے یورو زون کا رکن بنوائیں گے۔ اس کے علاوہ جس دانشمندی سے وارسا حکومت نے یورپی یونین کے ترقیاتی فنڈز استعمال کیے ہیں، اس وجہ سے بھی وزیر اعظم ٹُسک کی کارکردگی کو بہت سراہا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ یورو زون اور یورپی یونین کی سب سے بڑی معیشت اور پولینڈ کے ہمسایہ ملک جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل کے ساتھ بھی ڈونلڈ ٹُسک کی کافی زیادہ ذہنی قربت پائی جاتی ہے۔

پولینڈ مشرقی یورپ کی سب سے بڑی معیشت ہے اور رائے عامہ کے تازہ ترین جائزوں کے مطابق عوامی مقبولیت کے حوالے سے ٹُسک کی پارٹی اب قدامت پسند اپوزیشن جماعت لاء اینڈ جسٹس پارٹی سے کافی آگے ہے۔

(mm/ah(Reuters

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں