اسٹارمر اور شی جن پنگ کی ملاقات، تعلقات بہتر بنانے کی کوشش
29 جنوری 2026
مغربی ممالک اور ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ میں امریکہ کے درمیان تعلقات میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں، برطانوی رہنما دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور تجارتی روابط مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں، حالانکہ گزشتہ دہائی میں باہمی تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔
جمعرات کو بیجنگ میں کیئر اسٹارمر نے چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے دوران دنیا کے لیے'چیلنجنگ وقت‘ میں چین کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ شی جن پنگ نے کہا کہ دونوں ممالک کو جغرافیائی و سیاسی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے تعلقات کو مضبوط کرنا چاہیے۔
کیئر اسٹارمر کا دورہ، 2018 کے بعد کسی برطانوی وزیرِ اعظم کا چین کا پہلا دورہ ہے۔ وہ حالیہ عرصے میں چین کا دورہ کرنے والے مغربی رہنماؤں کی کڑی میں تازہ اضافہ ہیں۔ جرمنی کے چانسلر فریڈرِش میرس بھی جلد ہی دورہ کرنے والے ہیں۔
ٹرمپ کے دور میں امریکہ کی غیر متوقع پالیسیوں کے پیشِ نظر یورپی اور دیگر مغربی ممالک کی چین کے ساتھ سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔
برطانوی وزیرِاعظم بدھ کو تین روزہ دورے پر ایک ساٹھ رکنی کاروباری وفد کے ساتھ بیجنگ پہنچے۔ یہ سات برس سے زائد عرصے میں اپنی نوعیت کا پہلا دورہ ہے۔
برطانیہ میں بعض ناقدین نے چین کے بارے میں سخت مؤقف اختیار نہ کرنے پر اسٹارمر پر تنقید کی ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ گوکہ برطانیہ کو سکیورٹی خطرات پر چوکس رہنا چاہیے لیکن وہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت کو نظر انداز کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
اسٹارمر نے بیجنگ روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ''چین کے معاملے میں سر ریت میں دفن کرنا سمجھداری نہیں، ہمارے مفاد میں ہے کہ ہم اس سے روابط رکھیں۔ یہ ہمارے لیے ایک نہایت اہم دورہ ہو گا اور ہم حقیقی پیش رفت کریں گے۔‘‘
دونوں رہنماؤں نے کیا کہا؟
جمعرات کو برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر اور چینی صدر شی جن پنگ نے بیجنگ میں گریٹ ہال آف دی پیپل میں ملاقات کی اور دوطرفہ امور پر بات چیت کی۔
برطانوی وزیرِ اعظم نے صدر شی کو بتایا کہ دونوں ممالک کو عالمی استحکام، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر اہم مسائل پر مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا، ''میں طویل عرصے سے واضح کرتا آ رہا ہوں کہ برطانیہ اور چین کو ایک طویل مدتی، مستقل اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی ضرورت ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ''میں ہمیشہ سے واضح کرتا آیا ہوں کہ برطانیہ اور چین کے درمیان طویل المدتی، مستقل اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری ہونی چاہیے۔ چین عالمی سطح پر ایک اہم کردار ادا کرنے والا ملک ہے اور ہمارے لیے اس کے ساتھ زیادہ پختہ اور بہتر تعلقات قائم کرنا ناگزیر ہے۔‘‘
صدر شی جن پنگ نے کہا کہ برطانیہ کے ساتھ تعلقات نشیب و فراز کا شکار رہے ہیں جو کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں تھے۔ انہوں نے جغرافیائی سیاسی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط بنانے پر زور دیا۔
شی نے کہا، ''موجودہ عالمی صورتحال پیچیدہ اور باہم جڑی ہوئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن اور بڑی عالمی معیشتوں کے طور پر چین اور برطانیہ کو مکالمے اور تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے۔‘‘
اسٹارمر کی چینی وزیرِاعظم سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ وہ جمعے کو کاروباری، کھیل اور ثقافتی نمائندوں کے وفد کے ساتھ چین کے اقتصادی مرکز شنگھائی جائیں گے۔
چین کی مغربی رہنماؤں کو قریب کرنے کی کوشش
بیجنگ نے حالیہ مہینوں میں مغربی رہنماؤں کو بڑی تعداد میں دعوتیں دینا شروع کر دی ہیں۔ حالانکہ کئی برسوں تک، خاص طور پر کووِڈ وبا کے دوران، چینی حکومت نے بہت کم غیر ملکی دورے کیے یا ان کی درخواست کی۔
اسٹارمر اس ماہ بیجنگ آنے والے امریکہ کے اتحادی ممالک کے چوتھے رہنما ہیں۔ اس سے پہلے جنوبی کوریا، کینیڈا اور فن لینڈ کے رہنما چین کا دورہ کر چکے ہیں، جبکہ جرمن چانسلر کے اگلے ماہ آنے کی توقع ہے۔
کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی چند روز قبل چین گئے تھے، جس کے بعد انہوں نے داووس میں عالمی اقتصادی فورم میں اپنی تقریر میں بالواسطہ طور پر ٹرمپ پر تنقید کی۔
مارک کارنی نے کہا تھا کہ دنیا میں بڑی طاقتوں کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے درمیانے درجے کی طاقتوں کو زیادہ کردار ادا کرنا چاہیے۔
بعد ازاں ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر کارنی اپنے دورے کے دوران طے پانے والے دوطرفہ معاہدے کو آگے بڑھاتے ہیں تو کینیڈا پر بھاری محصولات عائد کیے جائیں گے۔ اگرچہ یہ بات انہوں نے اپنی کئی، اکثر مبالغہ آمیز، سوشل میڈیا پوسٹس میں سے ایک میں کہی۔
سفارتی سرگرمیوں میں یہ تیزی، گزشتہ برس چین اور امریکہ کے درمیان محصولات اور تجارت پر تنازع کے بعد سامنے آئی ہے۔
برطانیہ اور چین کے مابین اہم اختلافات
لندن میں ایک نیا اور بہت بڑا چینی سفارت خانہ تعمیر کرنے کی حالیہ تجویز نے برطانیہ میں اسٹارمر کی حکومت پر تنقید کو جنم دیا ہے۔
اس کے علاوہ، ہانگ کانگ میں آزادیوں پر مسلسل قدغن، جو 1997 تک برطانوی نوآبادی تھا، بھی ایک حساس معاملہ ہے۔ تاہم اسٹارمر نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ آیا وہ اپنے دورے کے دوران میڈیا ٹائیکون جمی لائی کی حالیہ سزا یا دیگر قانونی و جمہوری مسائل اٹھائیں گے یا نہیں۔
انہوں نے اس تاثر کو بھی کم کرنے کی کوشش کی کہ چین کا دورہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اسٹارمر، جو 2018 میں تھیریسا مے کے بعد چین کا دورہ کرنے والے پہلے برطانوی وزیرِ اعظم ہیں، نے کہا ''میں ایک حقیقت پسند انسان ہوں، ایک برطانوی حقیقت پسند، جو کامن سینس کو بروئے کار لا رہا ہے۔‘‘
ادارت: صلاح الدین زین