پیداوار بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے جرمنی کے دارالحکومت برلن میں تقریباﹰ چار ملین کلو آلو مفت تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ یہ واقعہ جرمنوں کی آلوؤں سے دیرینہ محبت کی ایک جھلک بھی پیش کرتا ہے۔
یہ اقدام نہ صرف خوراک کے ضیاع کو روک رہا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ جرمن معاشرے میں آلو کتنی اہمیت رکھتے ہیںتصویر: Rene Traut/IMAGO
اشتہار
تقریباً 40 لاکھ کلوگرام آلو، صاف ستھرے، ٹھنڈی اور خشک جگہ پر محفوظ، استعمال کے لیے بالکل تیار مگر پھر بھی ان کے ضائع ہو جانے کا خطرہ تھا۔ جرمنی کے صوبے سیکسنی میں ایک فارم پر آلوؤں کی فصل پڑی رہ گئی تھی، جو ایک تاجر نے آرڈر کی تھی۔ اس سال غیر معمولی طور پر زیادہ پیداوار کی وجہ سے مارکیٹ میں آلو کی قیمتیں گر گئیں، جس کے نتیجے میں تاجر کے لیے انہیں بیچنا منافع بخش نہ رہا۔
مالی معاملات طے پا چکے تھے مگر آلو اسٹوریج میں پڑے رہ گئے۔ یہ تمام پیداوار ضائع ہونے سے بچانے کے لیے سرچ انجن ایکوشیا اور اخبار برلینر مورگن پوسٹ نے مل کر ایک مشترکہ اقدام شروع کیا اور اب یہ آلو مفت تقسیم کیے جا رہے ہیں۔
یہ آلو شہر لائپزگ کے جنوب میں واقع ''اوسٹر لانڈ اگرار جی ایم بی ایچ‘‘ کے فارم سے آ رہے ہیں۔ ایکوشیا ٹرانسپورٹ کے اخراجات اٹھا رہی ہے، جبکہ برلینر مورگن پوسٹ تقسیم کے انتظامات میں مدد دے رہی ہے۔
تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو جنگوں اور قحط کے دوران جرمنوں کی غذائی ضروریات آلو ہی پوری کرتے آئے ہیںتصویر: Martin Wagner/IMAGO
تقسیم کا عمل جنوری 2026ء کے وسط سے شروع ہو چکا ہے۔ برلن کے عوام انہیں مختلف مقامات، جیسے کہ اسکولوں، کالجوں اور سماجی تنظیمیں کے دفاتر سے مفت حاصل کر سکتے ہیں۔
جرمنی میں آلوؤں سے محبت
جرمنی یورپی یونین میں آلوؤں کی پیداوار میں سرفہرست ہے۔ بعض اوقات جرمنوں کو طنزیہ طور پر 'کارٹوفِل‘ یعنی آلو کہہ کر بھی پکارا جاتا ہے۔ آلو جرمن ثقافت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ جرمنی میں آلوؤں کو مختلف انداز میں استعمال کیا جاتا ہے، جیسے سادہ، ابال کر، فرائز کے طور پر، بطور سلاد، سوپ اور روایتی کھانوں میں بھی۔
تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو جنگوں اور قحط کے دوران جرمنوں کی غذائی ضروریات آلو ہی پوری کرتے آئے ہیں۔ یہ غذائی تحفظ، سادگی اور روزمرہ کی خوراک کی علامت بھی ہیں۔
جرمنی یورپی یونین میں آلوؤں کی پیداوار میں سرفہرست ہےتصویر: Natalia Fedosenko/TASS/dpa/picture alliance
تاہم یہ اقدام نہ صرف خوراک کے ضیاع کو روک رہا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ جرمن معاشرے میں آلو کتنی اہمیت رکھتے ہیں اور جب ضرورت پڑے تو انہیں بچانے کے لیے اجتماعی کوششیں بھی کی جاتی ہیں۔
ادارت: افسر اعوان
جرمن گرمیوں میں کیا کھاتے ہیں؟
جرمن شہری ہر وقت سوسیج، زاؤرکراؤٹ اور آلو ہی نہیں کھاتے۔ یہاں آئیے ذرا جھانک کے دیکھیں مختلف دسترخوانوں میں، جو گرمی کے موسم میں اِدھر اُدھر دکھائی دے رہے ہیں۔ویسے پھر بھی آلو اور سوسیج کی توقع ضرور رکھیے گا۔
تصویر: picture-alliance/dpa/D. Maurer
گرمی، بار بی کیو کا موسم
دیگر بہت سے ممالک کی طرح جرمن شہری بھی بار بی کیو کے مزے لیتے ہیں۔ ظاہر ہے، سوسیج کو تو گرل کیا ہی جا سکتا ہے گوشت کی طرح، مگر سبزیاں اور ترک پنیر گرل پر اپنی خوشبو اڑاتے نظر آتے ہیں۔ بہت سے جرمنوں کے پسندیدہ اب بھی روایتی کوئلے والے گرل ہیں۔ شہریوں میں کئی پبلک پارکس میں بھی لوگ بار بی کیو کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
تصویر: Fotolia/Y. Arcus
تھوڑا سا ’کراؤٹ سالاد‘ ڈالیے نا
عالمی جنگوں کے دوران جرمنوں کو تضحیک سے پکارنے کے لیے ’کراؤٹ‘ پکارا جاتا تھا۔ جرمن لفظ ’کراؤٹ‘ کا مطلب ویسے تو جڑی بوٹی ہے، مگر جرمنی میں اسے کیبیج کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، جیسے جرمن ڈش ’’زاور کراؤٹ‘‘، جس میں کیبیج کو باریک کاٹا جاتا ہے۔ جرمنی میں اسے مایونیز کی بجائے سرکے کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔ بعض افراد یہاں اس پر سیب اور پیاز بھی کاٹ کر ڈال لیتے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/ ZB
آلو کا سالاد
اگر آلو کے لیے جرمن لفظ ’کرٹوفل‘ بولنے میں آسان ہوتا، تو یقین مانیے ماضی میں جرمن فوجیوں کو شاید اس نام سے پکارا جاتا۔ اس لیے کہ جرمنی میں آلو بے حد استعمال کیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ جرمنی میں جتنے خاندان بستے ہیں شاید اتنی ہی ’آلو کے سالاد بنانے کی ترکیبیں‘ بھی ہوں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ لوگ اپنی والدہ کی بتائی ہوئی ترکیب پر پوری زندگی عمل پیرا رہتے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/R. Goldmann
آلو کی ایک اور ڈش، ’’پیل کرٹوفل مِٹ کوارک‘
موسم گرما میں، کھانا پکانے کا جی کب چاہتا ہے۔ اسی لیے جرمن اس کا علاج بھی آلو ہی سے کرتے نظر آتے ہیں۔ وقت اور توانائی بچانے کے لیے ’پیل کروٹوفِلن‘ ڈش سے بہتر کیا ہو گا۔ اس میں آلوؤں کو چھلکوں سمیت ابال لیا جاتا ہے اور ان کی جلد کھاتے وقت اتاری جاتی ہے۔ اسے کھایا جاتا ہے، دہی کی طرح کے ڈیری پروڈکٹ ’کوارک‘ کے ساتھ۔ ساتھ ہی کالی مرچ اور کچھ دیگر لوازمات بھی رکھ لیے جاتے ہیں۔
تصویر: imago
ارے سالاد صرف خرگوش تھوڑی کھاتے ہیں
صرف سبزی کھانے والے اب ذرا اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ جرمنوں نے تو سالاد میں بھی گوشت شامل کر لیا۔ یہ ’فلائش سالاد‘ روٹی پر پھیلا کر کھایا جاتا ہے۔ بس آپ بالکونی میں بیٹھے ہوں گے، مایونیز یا ساؤر کریم، یا اچار، کٹا ہوا پیاز اور دیگر مسالے پاس ہوں گے اور یہ گوشت والا سالاد آپ کو لطف دے گا۔
تصویر: imago
ایک اور چیلنج، ’’ایپفل ماتیس سالاد‘
’ماتیس‘ مچھلی کے کتلے اچار والی بوتل میں بیچے جاتے ہیں۔ سب کو یہ مچھلی اس طرح پسند نہیں ہوتی، مگر شمالی جرمن ساحلی علاقے میں یہ ایک روایتی سی خوراک ہے۔ یعنی اس مچھلی کے کتلے کاٹ کر اسے ’اچار‘ بنا دیا جاتا ہے۔ اسے کٹے ہوئے پیاز اور کریمی ڈیری پروڈکٹ کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔ گرمیوں میں اس کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔ ظاہر ہے، آلو تو ساتھ ضروری ہیں۔
تصویر: imago
مزے مزے کی جڑی بوٹیاں، ’فرانکفرٹر گروئن سوزے‘
اب آپ موسم گرما کا رجحان تو سمجھ گئے ہوں گے۔ یعنی آلوؤں کے ساتھ مختلف طرح کے سوس۔ یہ سبز سوس فریکفرٹ کے علاقے میں مشہور ہے اور گرمیوں میں دستیاب ہوتا ہے۔ اس سوس کا اپنا فیسٹیول اور باقاعدہ موسم ہوتا ہے، یعنی ہر برس ایسٹر سے قبل جمعرات کے روز سے اس کا آغاز ہوتا ہے۔
تصویر: imago
پھل اور سبزیاں ملا دیں
شمالی جرمنی میں ایک موسم گرما میں قریب ہر گھر کی شاپنگ لسٹ میں تین چیزیں لازمی ہوتی ہیں، ناشپاتی، پھلیاں اور گوشت۔ یہی تین اجزا ملا کر بنایا جاتا ہے، ایک زبردست اور صحت مند سمر سٹیو۔ جرمنی میں جولائی سے ستمبر کے مہینوں میں ناشپاتی ویسے آپ کو ہر طرف بکتی نظر آتی ہے۔
تصویر: Colourbox
کھلی فضا میں آ جائیے
جرمنی میں موسم گرما آتا ہے، تو لوگ زیادہ وقت دھوپ میں گزارنے کی کوشش کرتے ہیں، گھروں کے باغیچے ہوں یا پبلک پارکس، دھوپ سینکنے لوگ ہر طرف ملتے ہیں اور ایسے میں ہر جگہ بار بی کیو کرتے لوگ موسم گرما کو کسی جشن کا روپ دیتے نظر آتے ہیں۔