برلینالے فلم فیسٹیول کی جیوری کے سربراہ کے ان ریمارکس پر کہ ’’ ہمیں سیاست سے باہر رہنا ہوگا‘‘ بھارت کی معروف ادیب اروندھتی رائے نے برلن فلم فیسٹیول سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔
بھارت کی معروف ادیب اور بُکر پرائز یافتہ مصنفہ اور ناول نگار اروندھتی رائے نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ وہ برلن فلم فیسٹیول سے دستبردار ہو رہی ہیںتصویر: Prakash Singh/AFP
اشتہار
بھارت کی معروف ادیب اور بُکر پرائز یافتہ مصنفہ اور ناول نگار اروندھتی رائے نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ وہ برلن فلم فیسٹیول سے دستبردار ہو رہی ہیں۔ انہوں نے فیسٹیول کی جیوری کے سربراہ اور معروف جرمن فلم ساز وِم وینڈرز کے اس بیان کے بعد کہ ''فلم سازوں کو سیاسی فلموں سے اجتناب برتنا چاہیے‘‘، یہ اعلان کیا۔
پاکستان میں مداحوں سے ملنا میرا خواب ہے، تلوتما شوم
10:06
This browser does not support the video element.
اروندھتی رائے نے، جنہیں 1997 میں اپنی شہرۂ آفاق ناول ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگز‘‘ پر بکر پرائز ملا تھا، ایک بیان میں کہا کہ وہ امسالہ ’’حیران اور ناراض‘‘ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فن کو سیاست سے الگ رکھنے کی بات تخلیقی آزادی کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔
سترواں برلینالے: گولڈ اور سلور بیئر کے حقداران
جرمنی کے مشہور فلمی میلے میں سب سے اہم اور معتبر گولڈن بیئر ایرانی فلم ساز محمد رسولاف کو حاصل ہوا۔ اُن کی فلم ’برائی کہیں نہیں‘ یا There Is No Evil بہترین فلم قرار پائی۔
تصویر: Cosmopol Film
There Is No Evil بہترین فلم
ایرانی ہدایتکار محمد رسولاف کی فلم ’برائی کہیں نہیں‘ کو برلینالے فلم فیسٹیول کا سب سے بڑا انعام یعنی ’گولڈن بیئر‘ دیا گیا۔ یہ فلم مختصر دورانیے کی چار فلموں کا مجموعہ ہے اور اس کا موضوع فرد واحد کی آزادی اور موت کی سزا ہے۔ رسولاف پر ایرانی انقلابی عدالت نے فلم سازی کی پابندی بھی عائد کی۔ اُن کا پاسپورٹ ضبط کرنے کے علاوہ انہیں جیل میں قید بھی کیا گیا۔
تصویر: Cosmopol Film
گرینڈ جیوری پرائز
ایلیزا ہٹمین کی فلم Never Rarely Sometimes Always کو برلینالے کا دوسرا بڑا ’سلور بیئر‘ دیا گیا۔ اس فلم میں امریکی ریاست پینسیلوینیا کی دو ٹین ایجر لڑکیوں کے نیو یارک شہر جا کر اسقاط حمل کرانے کے سفر کو موضوع بنایا گیا۔ تصویر فلک کی ایک اداکارہ سڈنی فلنجین ہے۔
تصویر: 2019 Courtesy of Focus Features
بہترین ہدایتکار: ہونگ سانگسُو
آسکر ایوارڈ جیتنے والی جنوبی کوریائی فلم پیراسائیٹ کے ہدایتکار بونگ جُون ہو کی طرح اسی ملک کے ایک اور ہدایتکار ہونگ سانگسُو کا بھی بہت عزت و احترام کیا جاتا ہے۔ برلینالے میں اُن کی فلم The Woman Who Ran میں ایک خاتون کے اپنی خود شناسی کے عمل کو فلمانے پر بہترین ہدایتکار کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔
تصویر: picture-alliance/dpa/Berlinale/Jeonwansa Film
بہترین اداکارہ: پاؤلا بیئر
پچیس سالہ جرمن اداکارہ پاؤلا بیئر کو فلم Undine یا ’آبی روح‘ میں شاندار کردار نگاری پر بہترین اداکارہ قرار دیا گیا۔ اس فلم میں اداکارہ بیئر نے ایک مشکل کردار کو ادا کرنے کے لیے انتہائی زوردار پرفارمنس دی ہے، جو دیکھنے کے لائق ہے۔
تصویر: Christian Schulz/Schramm Film
بہترین اداکار: ایلیو جرمانو
سترہویں برلینالے میں اطالوی اداکار ایلیو جرمانو کو بہترین اداکار قرار دیا گیا۔ انہوں نے فلم ’ہڈن اوے‘ Hidden Away میں بیسویں صدی کے مشہور اطالوی مصور انتونیو لیگابُو کا کردار ادا کیا ہے۔ جرمانو نے فلم میں لیگابو کے ذہنی بیمار ہونے کی اداکاری کو کمال مہارت سے نبھایا اور جیوری نے اس کے اعتراف میں انہیں سلور بیئر سے نوازا۔
تصویر: Chico De Luigi
بہترین اسکرین پلے: فلم ’بیڈ ٹیلز‘
روم کے نواحی علاقے کے حالات و واقعات پر مبنی فلم Bad Tales یا ’بُری کہانیاں‘ کا اسکرین پلے دو بھائیوں فابیو اور ڈامیانو ڈی اینوسینزو نے تحریر کیا۔ مشکل واقعات کو مربوط انداز میں فلم میں ڈھالنے کے لیے جو اسکرین پلے لکھا گیا، اس کی تعریف میں اس فلم کو بہترین اسکرین پلے کی حامل قرار دیا گیا۔
تصویر: Pepito Produzioni/Amka Film Production
غیر معمولی فنکارانہ خدمات: کیمرہ مین ژؤرگن ژؤرگس
جرمن کیمرہ مین ژؤرگن ژؤرگس نے کئی فلموں میں عکاسی کے جوہر دکھائے ہیں۔ اُن کو ایک لیجنڈ قرار دیا جاتا ہے۔ اُن کے نام پر کئی ایسی فلمیں ہیں جن کی عکاسی کو شاہکار کا درجہ حاصل ہے۔ ژؤرگس کی بے بہا خدمات کے اعتراف انہیں سلور بیئر دیا گیا۔
تصویر: picture-alliance/dpa/Phenomen Film
سترہویں برلینالے کا خصوصی ایوارڈ
برلینالے میں کئی عمدہ فلمیں مقابلے میں شریک تھیں۔ ان میں فرانسیسی ہدایتکار بینوا ڈیلفین کیرویر کی فلم ’ڈیلیٹ ہسٹری‘ یا تاریخ ضائع کر دیں کو خصوصی ایوارڈ دیا گیا۔ اس فلم میں موجودہ ڈیجیٹل دور کی حماقتوں اور پیچیدگیوں کو سمویا گیا ہے۔
تصویر: Les Films du Worso/No Money Productions
بہترین دستاویزی فلم
برلینالے میں کمبوڈیا کے ہدایتکار ریتی پانہ کی تخلیق کی گئی دستاویزی فلم Irradiated کو بہترین قرار دیا گیا۔ بیسویں صدی میں جنگی واقعات کو ایک خاص انداز میں جوڑ کر کولاژ کی صورت میں پیش کیا گیا۔
تصویر: Rithy Panh
9 تصاویر1 | 9
وِم وینڈرز کے ریمارکس
جمعرات کے روز وِم وینڈرز سے جب جرمن حکومت کے غزہ پر مؤقف کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا تھا،'' ہمیں سیاست سے باہر رہنا ہوگا۔ اگر ہم گہرے سیاسی موضوعات پر فلمیں بنائیں تو ہم سیاست کے میدان میں داخل ہوجاتے ہیں، لیکن ہمارا کردار سیاست کے مقابل ایک توازن قائم رکھنے والے کا ہونا چاہیے۔‘‘
اشتہار
دیگر اہم فیسٹیولز، جیسے وینس اور کان کے مقابلے میں زیادہ سیاسی رجحانات رکھنے والا برلینالے گزشتہ کئی ماہ سے فلسطین کے حامی کارکنوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنتا رہا ہےتصویر: Ronny Hartmann/AFP
انہوں نے مزید کہا، ''ہمیں لوگوں کا کام کرنا ہے، سیاست دانوں کا نہیں۔‘‘
دستبرداری کی وجوہات
اروندھتی رائے نے وِم وینڈرز کے تبصروں کو ''ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے بھارتی جریدے 'دی وائر‘ میں شائع ہونے والے اپنے بیان میں کہا، ''یہ سن کر واقعی حیرت ہوتی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ فن سیاسی نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ''یہ انسانیت کے خلاف ایک ایسے جرم پر مکالمہ روکنے کا طریقہ ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے حقیقی وقت میں پیش آ رہا ہے، جب کہ فن کاروں، ادیبوں اور فلم سازوں کو اسے روکنے کے لیے اپنی پوری طاقت کا استعمال کرنا چاہیے۔‘‘
روز وِم وینڈرز سے جب جرمن حکومت کے غزہ پر مؤقف کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا تھا،’’ ہمیں سیاست سے باہر رہنا ہوگاتصویر: Markus Schreiber/AP Photo/picture alliance
اُدھر برلینالے فیسٹیول کے منتظمین نے ایک ای میل بیان میں کہا، ''برلینالے رائے کے فیصلے کا احترام کرتا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ''ہمیں افسوس ہے کہ ہم ان کا استقبال نہیں کر سکیں گے، کیونکہ ان کی موجودگی فیسٹیول کی بحث کو مزید بامقصد بنا دیتی۔‘‘
اُدھر پولینڈ کی فلم پروڈیوسر ایوا پوزنسکا نے، جو جیوری کی ایک رکن بھی ہیں، کہا کہ ججوں سے بطور ایک باڈی جرمنی کے غزہ جنگ پر حکومتی موقف کے بارے میں پوچھنا ''منصفانہ عمل نہیں‘‘ تھا۔
اروندھتی رائے بھارت کی معروف ادیب اور بُکر پرائز یافتہ مصنفہ ، ناول نگار اور ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ بھی ہیں
دیگر اہم فیسٹیولز، جیسے وینس اور کان کے مقابلے میں زیادہ سیاسی رجحانات رکھنے والا برلینالے گزشتہ کئی ماہ سے فلسطین کے حامی کارکنوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنتا رہا ہے، کیونکہ فیسٹیول نے غزہ کے معاملے پر کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔
برلینالے ٹیلنٹ پروگرام میں پاکستانی فلم ساز خواتین بھی شامل
03:27
This browser does not support the video element.
یہ تنقید اس پس منظر میں اور بھی بڑھ گئی ہے کہ یوکرین کی جنگ اور ایران کی صورتِ حال پر فیسٹیول نے نسبتاً زیادہ کھل کر ردِعمل ظاہر کیا تھا، جہاں اطلاعات کے مطابق سرکاری فورسز کے ہاتھوں ہزاروں حکومت مخالف مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔