بغاوت کے نوآبادیاتی قانون کی ضرورت کیا ہے؟
15 جولائی 2021بھارتی سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ کا کہنا ہے کہ آزادی سے قبل بغاوت کا جو قانون انگریز ہندوستانیوں کو دبانے کے لیے استعمال کرتے تھے اب شاید اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ملک میں آئے دن معمولی سی باتوں پر لوگوں کو حکومت سے بغاوت کے الزام میں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جاتا ہے اور اسی لیے اس قانون کی جوازیت کو چیلنج کیا گيا ہے۔
اس سے متعلق ایک درخواست پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ نے کہا کہ یہ قانون برطانوی نو آبادیاتی دور کا ہے بینچ کا مزید کہنا تھا،'' کیا آزادی کے 75 برس بعد بھی ہمارے ملک میں اس کی ضرورت ہے؟ ‘‘ عدالت نے کہا کہ یہ '' قانون حکومتی اداروں کے کام کرنے کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔‘‘
عدالت نے کہا، '' اس قانون میں غلط طور پر استعمال ہونے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے جبکہ اس کا استعمال کرنے والی انتظامیہ بغیر کسی احتساب کے پوری طرح سے آزاد بھی ہے۔ عدالت نے اس کا موازنہ ایک بڑھئی سے کیا۔ عدالت عظمٰی نے کہا،'' اس کا بہت زیادہ غلط استعمال ہو رہا ہے۔ بغاوت کے قانون کا استعمال بالکل ایسے ہی جیسے بڑھئی کو لکڑی کا ایک ٹکڑا کاٹنے کے لیے آری دی گئی ہو اور وہ اسے خود پورا جنگل کاٹنے کے لیے استعمال کرتا ہو۔ سماج میں اس قانون کا یہی اثر ہے۔
اگر کسی بھی پولیس افسر کو گاؤں کے کسی بھی شخص کو کسی چیز کے لیے ستانا ہو تو وہ بس دفعہ 112 اے کا استعمال کر لے اور بس ۔۔۔۔۔۔ لوگ اس سے بہت خوف زدہ ہیں۔‘‘
ایک سبکدوش فوجی افسر نے اس قانون کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا اور اسی کی عرضی پر عدالت نے مرکزی حکومت سے یہ سوال کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کی جوازیت کا جائزہ لے گی اور حکومت اس پر اپنی حتمی رائے پیش کرے۔ اس قانون کے خلاف درخواست میں کہا گیا تھا کہ یہ قانون بولنے کی آزادی پر برے اثرات مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ آزادی اظہار پر غیر معقول پابندیوں کا سبب بنتا ہے۔
عدالت نے کہا،’’ اختلاف اس بات پر ہے کہ یا کلونیل دور کا قانون ہے ۔۔۔ برطانوی حکمرانوں نے جد وجہد آزادی کو دبانے کے لیے یہی قانون مہتما گاندھی کے خلاف بھی استعمال کیا تھا۔ کیا آزادی کے 75 برس بعد بھی ہمارے قانون کی کتاب میں ایسے قانون کے موجود رہنے کی ضرورت ہے؟ ‘‘
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو اس قانون کے غلط استعمال پر تشویش ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ ہم کسی ریاستی حکومت کو مورد الزام نہیں ٹھہرا رہے لیکن ذرا دیکھو تو انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق قانون کا کس طرح بےجا استعمال کیا جا رہا ہے اور کتنے لوگ اس کی وجہ سے مصائب سے دوچار ہیں اور کوئی بھی اس کے لیے جوابدہ نہیں ہے۔‘‘
عدالت کا کہنا تھا کہ اس قانون کا بے جا استعمال کیا جاتا ہے اسی لیے ایسے اکثر کیسز میں لوگ بری بھی ہو جاتے ہیں۔ کورٹ نے اس سے قبل بھی کئی مقدمات کی سماعت کے اس قانون کے استعمال پر اعتراض کیا ہے تاہم حکومتیں اس کو ختم کرنے پر تیار نہیں ہیں اور جب بھی موقع ملتا ہے پولیس اس کا استعمال کرتی ہے۔
بھارت میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مہم چلانے والے سینکڑوں کارکنان اور کسانوں کی احتجاجی مہم چلانے والے درجنوں رہنما اس وقت اسی '112 اے' بغاوت کے قانون کے تحت جیلوں میں ہیں۔ بھارت نے جب کشمیر کی دفعہ 370 کو ختم کیا تھا تو اس وقت بھی اس نے سینکڑوں کارکنوں کو اسی قانون کے تحت گرفتار کیا تھا جس میں سے اب بھی بہت سے جیلوں میں ہیں۔
بہت سے صحافی، انسانی حقوق کے کارکن اور مذہبی شخصیات بھی اسی کیس کے تحت جیلوں میں قید ہیں کیونکہ اس کے تحت ضمانت پر رہا ہونا مشکل ہے۔