1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
معاشرہسربیا

بلغراد کے ایک اسکول میں فائرنگ، آٹھ بچوں سمیت نو افراد ہلاک

3 مئی 2023

سربیا کے دارالحکومت بلغراد کے ایک اسکول میں ایک 14 سالہ طالب علم کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں آٹھ بچے بھی شامل ہیں۔

Schulschießerei in Serbien
تصویر: Darko Vojinovic/AP Photo/picture alliance

بلغراد پولیس کے مطابق اس فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں آٹھ بچے اور ایک سکیورٹی گارڈ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کم از کم چھ بچے اور ایک استاد زخمی بھی ہیں، جنہیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

سربیا کی وزارت داخلہ کے مطابق ولادیسلاف ریبنکر ایلمنٹری اسکول میں فائرنگ کا یہ واقعہ پیش آیا جس میں ایک 14 سالہ طالب علم نے اپنے والد کی بندوق استعمال کی۔

وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق، ’’پولیس نے تمام دستیاب نفری کو فوری طور پر موقع واردات پر بھیجا اور کم عمر مشتبہ لڑکے کو گرفتار کر لیا گیا، جو ساتویں کلاس کا ایک طالب علم ہے۔ اس نے اسکول سکیورٹی اور طلبہ کی جانب اپنے والد کی بندوق سے کئی گولیاں چلائیں۔

وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق، ’’پولیس نے تمام دستیاب نفری کو فوری طور پر موقع واردات پر بھیجا اور کم عمر مشتبہ لڑکے کو گرفتار کر لیا گیا۔‘‘تصویر: Darko Vojinovic/AP/picture-alliance

پولیس کی طرف سے اس فائرنگ کی وجوہات کے بارے میں دیگر تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پولیس نے فائرنگ کرنے والے بچے کے نام کے ابتدائی حروف کے کے بتائے گئے ہیں اور اس بچے کے پیدائش کا سال 2009ء بتایا گیا ہے۔ فائرنگ کا یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق صبح 8:40 پر پیش آیا۔

خیال رہے کہ امریکہ کی طرح سربیا کے اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات عام بات نہیں ہیں۔ حالیہ برسوں کے دوران سربیا سمیت دیگر بلقان ممالک میں اس طرح کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا آخری واقعہ 2013ء میں پیش آیا تھا جب ایک جنگ میں شریک رہنے والے ایک سابق فوجی نے سربیا کے ایک وسطی گاؤں میں فائرنگ کر کے 13 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

تاہم ماہرین اس حوالے سے کئی مرتبہ متنبہ کر چکے ہیں 1990ء کی دہائی میں ہونے والی جنگوں کے بعد اس ملک میں چھوڑے گئے ہتھیاروں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ یہ بات بھی تحفظات کا سبب رہی ہے کہ کئی دہائیوں تک وہاں جاری رہنے والے تنازعات اور سخت اقتصادی حالات اس طرح کے واقعات کی وجہ بن سکتے ہیں۔

ا ب ا/ا ا (اے پی، اے ایف پی، روئٹرز)

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں