بلقان سے جانے والے جہادیوں کو روکنے کی یورپی مہم شروع
20 مارچ 2015
آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں منعقد کی جانے والی کانفرنس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں یورپی کمشنر برائے داخلہ امور دیمتریس اَورام پولِس کا کہنا تھا کہ بلقان کی ریاستوں سے مشرق وسطٰی جانے والے جہادیوں کی تعداد ہر روز بڑھ رہی ہے اور یہ عسکریت پسند پورے یورپ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
اِسی پریس کانفرنس میں آج جمعے کے روز سے جہادی عناصر کی حوصلہ شکنی کی مہم شروع کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔ اَورام پولِس نے یورپ کے اندر جنم لیتے اِس بڑے خطرے کا حصہ بننے والوں پر کریک ڈاؤن کا عندیہ بھی دیا۔ تاہم انہوں نے پریس کانفرنس میں بلقان کے خطے میں جہادیوں کے ’ہاٹ اسپاٹس‘ کی نشاندہی کرنے سے گریز کیا۔
یورپی یونین کے رکن ملک آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں بلقان کی ریاستوں کے وزرائے داخلہ اور وزرائے خارجہ نے یونین کے حکام کے ساتھ اس مہم کے آغاز سے متعلق ایک کانفرنس میں شرکت کی۔ اس کانفرنس میں طے پایا کہ بلقان کی ریاستیں مغربی یورپی ملکوں کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ کا رخ کرنے والے جہادیوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے اُنہیں سفری پابندیوں کے دائرے میں لائیں گی۔ اَورام پولِس کے مطابق بلقان کے علاقے کی سبھی ریاستوں میں جہاد کے شوقین انتہا پسند مسلمان موجود ہیں لیکن اُن کے بارے میں مکمل تفصیلات جمع کرنا ابھی باقی ہے۔
ویانا کانفرنس میں جن اقدامات کو منظور کیا گیا، اُن میں یہ بھی شامل ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے ذریعے بنیادی حقوق کے بارے میں ٹھوس معلومات عام کی جائیں گی تا کہ یہ معلومات ایسی ویب سائٹس پر انتہا پسندانہ مواد کو پیچھے دھکیلنے میں معاون ہو سکیں۔ بلقان کے خطے کی ریاستوں میں مغربی یورپ میں متعارف کرائے جانے والے رواداری و برداشت جیسے نکات کی تشہیر زیادہ کرنے کو بھی اہم خیال کیا گیا ہے۔ اسی طرح مشترکہ سرحدوں پر بارڈر گارڈز کے لیے تربیتی عمل اور معلومات کے مؤثر تبادلے کی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔
کانفرنس میں سربیا کے وزیر خارجہ اِیویچا داچچ (Ivica Dacic) کا کہنا تھا کہ انتہا پسندی اور جہادیوں کا مشرقِ وسطیٰ کی جانب سفر کرنے کا مسئلہ بلقان کے خطے کی حدود پار کر چکا ہے۔ انہوں نے اپنے چھ سال تک وزیر داخلہ رہنے کے حوالے سے بتایا کہ اُس دور میں ویانا اور زالسبرگ بنیاد پرست مسلمانوں کے مشہور گڑھ خیال کیے جاتے تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں سماجی و مذہبی افراتفری کے دوران اثر و رسوخ پکڑنے والی انتہا پسندی کے اثرات کو بوسنیا اور کوسووو کی مسلم اکثریتی آبادی والی ریاستوں میں بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔ اِن ماہرین کے مطابق بلقان کے خطے کی ریاستوں میں سن 1990 کی دہائی میں شروع ہونے والی جنگ کے باعث جنم لینے والے مسائل، جن میں بیروزگاری، غربت اور کرپشن اہم ہیں، نے مسلم انتہا پسندی کی جڑوں کو مضبوط کیا ہے۔