بلوچستان حملوں میں ملوث 177 عسکریت پسند ہلاک، حکومتی دعویٰ
2 فروری 2026
پاکستانی فوج نے پیر کے روز بلوچستان میں اُن علیحدگی پسند جنگجوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن جاری رکھا، جنہوں نے اختتام ہفتہ پر اسکولوں، بینکوں اور سکیورٹی تنصیبات پر مربوط حملے کر کے تقریباً 50 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔
فوج کے مطابق ان حملوں کے باعث رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں معمولاتِ زندگی مفلوج ہو گئے۔ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ایک ہی وقت میں قریب ایک درجن اہداف کو نشانہ بنایا، جو اس علیحدگی پسند تنظیم کی اب تک کی سب سے بڑی کارروائیوں میں سے ایک بتائی جا رہی ہے۔ ان حملوں میں 17 سکیورٹی اہلکار اور 31 شہری ہلاک ہوئے۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق تین دن کی جھڑپوں میں سکیورٹی فورسز نے بی ایل اے کے 177 جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا۔ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ اتوار کی رات مختلف علاقوں میں مزید 22 شدت پسند مارے گئے، جس کے بعد ان اب تک مارے جانے والے حملہ آوروں کی مجموعی تعداد 177 ہو گئی۔
محسن نقوی نے بیان میں کہا کہ سکیورٹی فورسز، پولیس اور انٹیلی جنس اداروں نے بروقت اور مؤثر کارروائی کر کے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم ناکام بنائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارتی ایجنٹوں اور ان کے سہولت کاروں کا مکمل صفایا کیا جائے گا۔
پاکستانی حکومت اور فوج نے الزام لگایا ہے کہ بی ایل اے کو بھارت کی حمایت حاصل ہے، جس سے دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔ بھارت کی وزارتِ خارجہ نے اتوار کو ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد کو خطے کے عوام کے ''دیرینہ مطالبات‘‘ پر توجہ دینی چاہیے۔
پاکستان کا سب سے بڑا مگر غریب ترین صوبہ بلوچستان گزشتہ کئی دہائیوں سے شورش کا شکار ہے۔ اس صوبے میں نسلی بلوچ علیحدگی پسند وفاقی حکومت سے زیادہ خودمختاری اور قدرتی وسائل میں بڑے حصے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
بی ایل اے نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 84 سکیورٹی اہلکار ہلاک اور 18 کو اغوا کر لیا ہے، تاہم روئٹرز اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا اور فوج نے فوری طور پر اس پر تبصرہ نہیں کیا۔
نائب وزیرِ داخلہ طلال چوہدری کے مطابق حملہ آور ہفتے کے روز عام شہریوں کا بھیس بدل کر ہسپتالوں، اسکولوں، بینکوں اور بازاروں میں داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ کی۔ انہوں نے کہا کہ ہر واقعے میں حملہ آور عام شہری بن کر آئے اور دکانوں میں کام کرنے والے لوگوں کو نشانہ بنایا جبکہ شدت پسندوں نے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر بھی استعمال کیا۔
کالعدم بی ایل اے کے مطابق یہ حملے ''ہیروف‘‘یا ''کالی آندھی‘‘ کے نام سے ایک مربوط کارروائی کا حصہ تھے، جس کا ہدف پورے صوبے میں سکیورٹی فورسز تھیں۔ اس سے قبل گزشتہ برس مارچ میں بی ایل اے نے بلوچستان سے سینکڑوں مسافروں کو لے جانے والی جعفر ایکسپریس پرحملہ کر کے کم از کم 31 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ حملہ آوروں نے مسافروں کو یرغمال بھی بنا لیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ کارروائی کے دوران تمام 33 حملہ آور ہلاک کر دیے گئے تھے جبکہ حملے میں زندہ بچ جانے والے مسافروں کو بحفاظت آزاد کرا لیا گیا۔
ادارت: عدنان اسحاق