1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
جرائمپاکستان

بنوں میں خودکش حملہ، تین خواتین اور دو بچے ہلاک

شکور رحیم اے ایف پی
3 اپریل 2026

پولیس کے مطابق بظاہر خودکش حملہ آور کا ہدف پولیس اسٹیشن تھا لیکن عجلت میں وہ وہاں پہنچنے سے پہلے ایک رہائشی مکان سے ٹکرا گیا۔ تاحال کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

اکتوبر 2018ء کے انتخابات کے موقع پر بنوں میں کیے گئے ایک خودکش حملے کے بعد پاکستانی فوجی اہلکار جائے وقوعہ پر موجود ہیں
بنوں اور اس کے مضافات میں ایک عرصے سے حالات انتہائی کشیدہ ہیں جہاں آئے روز مسلح شدت پسند کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ (فائل فوٹو)تصویر: Abdul Haseeb/AP/picture alliance

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں حکام کا کہنا ہے کہ بارود سے بھری ایک گاڑی کے ذریعے کیے گئے ایک خودکش حملے میں کم از کم تین خواتین اور دو بچے ہلاک ہو گئے۔

یہ حملہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں جمعرات کی رات  پیش آیا، جو  قبائلی علاقوں سے متصل ایک حساس علاقہ ہے۔

مقامی پولیس اہلکار محمد سجاد خان نے اے ایف پی کو بتایا، ''بظاہر خودکش حملہ آور کا ہدف پولیس اسٹیشن تھا، لیکن عجلت میں وہ وہاں پہنچنے سے پہلے ایک رہائشی مکان سے ٹکرا گیا۔‘‘

پاکستان کی جانب سے گزشتہ ماہ افغان دارالحکومت کابل پر کیے گئے حملے کے بعد کے مناظر، افغان طالبان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس حملے میں ایک منشیات بحالی مرکز میں موجود 400 افراد ہلاک ہو ئےتصویر: Wakil Kohsar/AFP/Getty Images

انہوں نے بتایا کہ حملے میں تین خواتین اور دو بچے ہلاک جبکہ چار افراد زخمی ہوئے۔ اسسٹنٹ کمشنر بنوں اکرام اللہ خان نے بھی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

تاحال کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان ماضی میں اس علاقے میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتی رہی ہے اور 2021 میں کابل میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد اس کے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اسلام آباد بارہا افغانستان پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے، جبکہ افغان طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

ادارت: جاوید اختر

پاکستان - افغانستان کی بڑھتی کشیدگی اور خیبر پختونخوا میں ٹی ٹی پی کی وائرل ویڈیوز

04:13

This browser does not support the video element.

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں