1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بنگلہ دیشی انتخابات میں ووٹروں کی ترجیحات کیا ہوں گی؟

شکور رحیم روئٹرز
10 فروری 2026

بدعنوانی، مہنگائی، بے روزگاری اور سست رفتار اقتصادی ترقی سے چھٹکارا جمعرات کو عوامی رائے دہی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ سابق حکمران جماعت عوامی لیگ کی عدم موجودگی کے باجود بڑے پیمانے پر پولنگ کے بائیکاٹ کے امکانات کم ہیں۔

بنگلہ دیش میں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ جمعرات کے روز ہو گی
بنگلہ دیش میں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ جمعرات کے روز ہو گیتصویر: NurPhoto/IMAGO

بنگلہ دیش میں انتخابی مہم کا اختتام ہو چکا ہے اور اب جمعرات کو عام انتخابات کے لیے ووٹنگ ہوگی۔ ان انتخابات میں تقریباً 12 کروڑ 80 لاکھ ووٹرز حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں۔ یہ انتخابات اگست 2024 میں طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد ملک کی جمہوریت کی طرف واپسی کا ایک اہم امتحان سمجھے جا رہے ہیں۔

بدعنوانی سب سے بڑی تشویش

17 کروڑ 50 لاکھ آبادی والے اس ملک میں شیخ حسینہ کے ہنگامہ خیز زوال کے بعد سے ایک غیر منتخب عبوری حکومت برسرِ اقتدار ہے۔ رائے دہندگان کو درپیش اہم مسائل میں سرفہرست بدعنوانی ہے۔ ڈھاکا میں قائم کمیونیکیشن ریسرچ فاؤنڈیشن اور بنگلہ دیش الیکشنز اینڈ پبلک اوپینین اسٹڈیز کے حالیہ سروے کے مطابق ووٹروں کی سب سے بڑی تشویش کرپشن ہے۔ بنگلہ دیش طویل عرصے سے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں دنیا کے بدترین ممالک میں شامل رہا ہے۔ سب سے آگے سمجھی جانے والی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور اس کی بڑی حریف جماعتِ اسلامی دونوں نے بدعنوانی کے خاتمے کو اپنی انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ بنایا ہے، جبکہ جماعتِ اسلامی کی کرپشن مخالف شبیہ اس کی حالیہ واپسی میں مددگار بنی ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ نوجوانوں کی اکثریت اس مرتبہ ووٹنگ میں حصہ لے گی اور ان کے سامنے بھی بدعنوانی، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل سے چھٹکارہ پانا اہم ہےتصویر: Zobaer Ahmed/DW

مہنگائی کا مسئلہ

مہنگائی بھی ووٹروں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری میں افراطِ زر بڑھ کر 8.58 فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ سروے میں شامل دو تہائی سے زیادہ افراد نے قیمتوں میں اضافے کو اپنی دوسری بڑی تشویش قرار دیا۔

سست رفتار اقتصادی ترقی

معاشی ترقی کے حوالے سے بھی خدشات پائے جاتے ہیں۔ ایک وقت میں ایشیا کی تیز ترین معیشتوں میں شمار ہونے والا بنگلہ دیش کووڈ انیس کی عالمی وبا کے بعد اپنی رفتار بحال کرنے میں مشکلات کا شکار رہا ہے، خاص طور پر برآمدات پر مبنی ملبوسات کی صنعت متاثر ہوئی۔ 2024 میں شیخ حسینہ کے خلاف احتجاج، جو بالآخر ان کی معزولی اور جلاوطنی پر منتج ہوا، نے اس شعبے کو مزید نقصان پہنچایا اور مجموعی ترقی کو دباؤ میں رکھا۔ ووٹروں نے معاشی ترقی کو اپنی تیسری بڑی ترجیح قرار دیا ہے۔

انتخابی جائزوں کے مطابق طارق رحمان کی قیادت میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ان انتخابات میں جیتنے کے لیے ایک مظبوط پوزیشن میں دکھائی دیتی ہےتصویر: Sajjad Hussain/AFP

بے روزگاری عروج پر

روزگار کا مسئلہ بھی شدید ہے۔ اندازوں کے مطابق بنگلہ دیش کی تقریباً 40 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے اور کئی ماہ کے عدم استحکام کے بعد آئندہ حکومت پر لاکھوں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنےکے لیے زبردست دباؤ ہوگا۔ ان انتخابات میں شیخ حسینہ کی عوامی لیگ پر پابندی بھی ایک بڑا معاملہ ہے۔ عوامی لیگ کو الیکشن میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے اور شیخ حسینہ کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کی عدم موجودگی سے لاکھوں حامی امیدوار کے بغیر رہ جائیں گے اور بہت سے لوگ انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے۔ اگرچہ بعض شہریوں نے واقعی پولنگ اسٹیشن نہ جانے کا اعلان کیا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ملک گیر سطح پر بڑے بائیکاٹ کا امکان کم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سابق عوامی لیگ ووٹرز ہی انتخابی نتائج کا رخ متعین کریں گے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق تقریباً نصف سابق عوامی لیگ ووٹرز اب بی این پی کی حمایت کرتے ہیں جبکہ لگ بھگ 30 فیصد جماعتِ اسلامی کے حق میں ہیں۔

ادارت: عدنان اسحاق

بنگلہ دیش: جماعت اسلامی اقتدار میں آ سکتی ہے؟

02:51

This browser does not support the video element.

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں