بنگلہ دیشی سیاسی کارکن کے جنازے میں لاکھوں افراد کی شرکت
20 دسمبر 2025
معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف چلنے والی طلبہ تحریک میں عثمان ہادی نمایاں رہنما تھے۔ اس پرتشدد عوامی تحریک کے نتیجے میں حسینہ واجد کی 15 سال پر محیط حکمرانی کا خاتمہ ہوا اور وہ فرار ہو کر بھارت چلی گئی تھیں۔
عثمان ہادی کو رواں ماہ کی بارہ تاریخ کو ڈھاکا میں گولی مار کر شدید زخمی کر دیا گیا تھا۔ حکومت نے انہیں بہتر علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیا تھا، تاہم وہ جمعرات کے روز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے۔
پولیس کے مطابق مشتبہ افراد کی شناخت کر لی گئی ہے اور غالب امکان ہے کہحملہ آور بھارت فرار ہو گئے ہوں۔ اس پیش رفت نے بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ایک نیا سفارتی تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ رواں ہفتے نئی دہلی حکومت نے بنگلہ دیشی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا تھا جبکہ بنگلہ دیش نے بھی ڈھاکہ میں بھارتی سفیر کو ملکی دفتر خارجہ میں طلب کر لیا تھا۔
ہفتے کے روز ڈھاکہ میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، جہاں عثمان ہادی کی نماز جنازہ قومی پارلیمنٹ کے احاطے کے باہر ادا کی گئی۔
ہادی کی میت جمعے کی شب وطن واپس لائی گئی تھی جبکہ آج ہفتے کے دن کو قومی یوم سوگ قرار دے دیا گیا تھا۔
ہادی ثقافتی تنظیم ''انقلاب منچو‘‘ کے ترجمان تھے۔ تنظیم کے مطابق انہیں ڈھاکا یونیورسٹی کے احاطے میں ملک کے قومی شاعر قاضی نذرالاسلام کے مزار کے قریب دفن کیا جائے گا۔
جمعرات کی شام ہادی کی موت کی خبر پھیلتے ہی ملک میں پرتشدد ہنگامے شروع ہو گئے، جہاں مظاہرین کے گروہوں نے دو بڑے قومی اخبارات کے دفاتر پر حملے کیے اور انہیں نذرِ آتش کر دیا۔ ملک کے عبوری رہنما اور نوبل انعام یافتہ محمد یونس نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔
ہادی بھارت اور شیخ حسینہ دونوں کے سخت ناقد تھے۔ شیخ حسینہ 5 اگست 2024 کوبنگلہ دیش سے فرار ہونے کے بعد سے اب تک بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ ہادی آئندہ فروری میں ہونے والے قومی انتخابات میں ڈھاکا کے ایک اہم حلقے سے آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
محمد یونس کی قیادت میں بنگلہ دیش اس وقت ایک نازک سیاسی مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں آئندہ انتخابات کے ذریعے جمہوریت کی بحالی کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم ملک کی سیاست میں اب بھی شیخ حسینہ کی عوامی لیگ ایک بڑی قوت سمجھی جاتی ہے، جو دو بڑی سیاسی جماعتوں میں سے ایک ہے۔
شیخ حسینہ کی سیاسی حریف اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے، جو آئندہ حکومت بنانے کی خواہاں ہے۔ دریں اثنا جماعت اسلامی، جو 1971 کی جنگ آزادی سے جڑی متنازعہ تاریخ رکھتی ہے اور ملک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت ہے، ایک سیاسی اتحاد کی قیادت کر رہی ہے تاکہ شیخ حسینہ کی جماعت اور اس کے اتحادیوں کی عدم موجودگی میں اپنا سیاسی دائرہ اثر وسیع کر سکے۔
شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے، تاہم بھارت نے محمد یونس کی قیادت والی عبوری حکومت کی جانب سے ان کی حوالگی کے لیے کی جانے والی بار بار کی درخواستوں کا تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔