1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بوسنیا میں جرمن مشن کا اختتام جمعرات کے روز

26 ستمبر 2012

یورپ میں بوسنیا اور سربیا کے درمیان خونی تنازعے کے آغاز کے بعد شروع ہونے والے کثیر الفوجی بین الاقوامی امن مشن میں شریک آخری دو جرمن فوجی بھی کل جمعرات کے روز واپس وطن لوٹ آئیں گے۔

تصویر: Reuters

سابق یوگو سلاویہ کے اختتام کے بعد اس کی فیڈریشن میں شامل ریاستوں کی تقسیم کے عمل کے دوران جنم لینے والے خونی تنازعے کے بعد ہی یورپی یونین نے امن مشن کے قیام کی منظوری دی تھی۔ سترہ سال تک اس میں شامل جرمن فوجی اب جمعرات کے روز اپنے ملک کے فوجی پرچم کو لپیٹ کر واپس وطن روانہ ہو جائیں گے۔ سابق یوگوسلاویہ کی تقسیم کے دوران مسلمانوں، سربوں اور کروآٹ آبادی کے درمیان مسلح تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا۔

بوسنیا میں شرع کیے جانے والے فوجی مشن میں جرمن شمولیت اہم خیال کی گئی تھیتصویر: AP

خونی تنازعے کے اختتام کے لیے ابتدائی مشاورتی عمل ناکام رہا تھا۔ اس صورت حال کے بعد اقوام متحدہ نے پہلے وہاں اپنی حفاظتی فوج تعینات کی تھی۔ عالمی ادارے کی جانب سے حفاظتی دستوں (UNPROFOR) کی تعیناتی سن 1992 میں کی گئی تھی لیکن یہ مشن بھی سویلین آبادی کو بچانے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔ اسی دوران سن 1995 میں سربرینِٹسا کا قتل عام وقوع پذیر ہوا۔ اس قتل عام میں سرب حملہ آور فوج نے 8 ہزار کے قریب مسلمانوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

آج سربرینٹسا قتل عام کو نسل کشی قرار دیا جا چکا ہے۔ اس نسل کشی کے تناظر میں امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں نے سخت ایکشن کا مطالبہ کیا تھا۔ اس مطالبے کے بعد ہی ڈیٹن (Dayton) امن معاہدہ معرض وجود میں آیا تھا۔ اس امن معاہدے کو نافذ کرنے اور اسے تحفظ دینے کے لیے 22 نومبر سن 1995 کو مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی آئی فور (Ifor) شرو ع کی گئی تھی اور پھر سن 2004 میں اسے یورپی یونین فورس ایلتھیا (EUFOR Althea) کا نام دے دیا گیا تھا۔

بوسنیا میں تعینات آخری دو جرمن فوجی جمعرات، ستائیس ستمبر کو واپس وطن لوٹ آئیں گےتصویر: AP

بوسنیا میں شرع کیے جانے والے فوجی مشن میں جرمن شمولیت دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی اہم اور بڑی جرمن فوجی سرگرمی تھی۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں جرمن سفارتی اور اقتصادی منظر پر پیدا شدہ ناخوشگوار اثرات کو زائل کرنے میں یہ مشن بہت اہم رہا ہے۔ دسمبر سن 1995 میں بوسنیا کی جانب 26 سو جرمن فوجی روانہ کیے گئے۔ یہ فوجی اس وقت کی امپلیمنٹیشن فورس (Implementation Force) کا حصہ تھے۔ یہ مشن عموماً آئی فور (Ifor) کے نام سے پکارا گیا۔ دو سال بعداس مشن کو اسٹیبیلائزیشن فورس (Stabilization Force) کا نام دے دیا گیا تھا اور جرمن فوجیوں کی تعداد کم ہو کر 15 سو رہ گئی تھی۔

اس مشن کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ سرب فوجیوں کو غیر مسلح کرنے کے عمل کی نگرانی کرے گا۔ سن 2004 میں اسٹیبیلائزیشن فورس نامی مشن کا انتظام و انصرام یورپی یونین نے اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ اس کے بعد مسلسل جنگی صورت حال میں کمی کے تناظر میں مشن میں شامل مختلف اقوام کے فوجیوں کی تعداد میں بھی کمی کا عمل جاری رہا۔ بوسنیا میں شروع کیے جانے والے فوجی مشن میں جرمن شمولیت اور کردار کے تناظر میں جرمنی کے عسکری تشخص میں اضافہ ہوا ہے۔ یورپی یونین میں جرمنی کے فوجی کردار کو وقعت حاصل ہوئی ہے۔

(ah / mm (dpa

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں