بون کے سالانہ بیتھوفن میلے کی رونقیں
7 ستمبر 2013
بیتھوفن اِسی شہر بون میں سترہ دسمبر سن 1770ء کو پیدا ہوئے تھے اور اُن کا انتقال 26 مارچ سن 1827ء کو ہوا۔ اُن کے والد اور دادا شاہی خاندانوں سے وابستہ عام سے موسیقار تھے لیکن خود لُڈوِک فان بیتھوفن اپنے اور آنے والے زمانوں کے ایک عظیم موسیقار بنے۔
بیتھوفن فیسٹیول جرمنی میں منعقد کیے جانے والے موسیقی کے میلوں میں سے سب سے پرانا میلہ ہے۔ بیتھوفن اپنے انتقال کے بعد بے شمار موسیقاروں کے لیے ایک مثالی فنکار اور اُستاد کی شکل اختیار کر گئے تھے۔ بیتھوفن کے فن کی پوجا کرنے والے ایسے ہی موسیقاروں میں سے ایک فرانس لِسٹ بھی تھے، جنہیں اپنے آئیڈیل کی وفات کے بارہ سال بعد سن 1839ء میں یہ پتہ چلا کہ بیتھوفن کے آبائی شہر بون کے پاس اِس عظیم موسیقار کی یادگار تعمیر کرنے کے لیے رقم نہیں ہے۔ یہ رقم جمع کرنے کا بیڑا فرانس لِسٹ نے اٹھایا اور اُنہی کی کوششوں کی بدولت بالآخر بارہ اگست سن 1845ء کو بون کے میونسٹر چوک میں بیتھوفن کی یادگار کا بھی افتتاح ہوا اور ایک بیتھوفن میوزِک میلے کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں لِسٹ کے کنڈکٹ کیے ہوئے کئی کنسرٹس میں بیتھوفن کی مشہور دھنیں پیش کی گئیں۔
جرمن گیت نگار وولف بیئر مان نے ایک مرتبہ کہا تھا، ’’اپنے ساتھ انصاف وہی شخص کرتا ہے، جو خود کو بدلتا رہتا ہے۔‘‘ اسی طرح جرمن موسیقار رچرڈ واگنر کے ایک اوپیرا کا کردار ووطان کہتا ہے، ’’تغیر اور تبدیلی کو پسند وہی شخص کرتا ہے، جو زندہ ہے۔‘‘ اسی مناسبت سے 2013ء کے بیتھوفن میلے کو ’تغیرات‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔
یہ آخری میلہ ہے، جو میلے کی ڈائریکٹر ایلونا شمیل کی نگرانی میں منعقد ہو رہا ہے۔ دس سال تک اس میلے کے کامیاب انتظام کے بعد وہ سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورچ کے ٹون ہالے آرکسٹرا سے وابستہ ہونے جا رہی ہیں جبکہ اُن کی جگہ پر آئندہ اس میلے کی ڈائریکٹر نِیکے واگنر ہوں گی، جو کہ نامور جرمن موسیقار رچرڈ واگنر کی پڑپوتی ہیں۔
تغیرات سے گزرنے والے دو خطّوں کو امسالہ بیتھوفن میلے میں خصوصی طور پر نمایاں جگہ دی جا رہی ہے۔ یہ خطّے ہیں، ترکی اور یُورال اور اسی لیے میلے کے مختلف کنسرٹس میں استنبول یونیورسٹی کا اسٹیٹ کنزرویٹری سمفنی آرکسٹرا اور یُورال فلہارمونک آرکسٹرا بھی اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان کنسرٹس میں پیش کی جانے والی موسیقی کو دنیا بھر میں ڈوئچے ویلے ریڈیو کے ذریعے سنا جا سکتا ہے۔
امسالہ میلے کے موقع پر بیتھوفن کی شخصیت اور فن پر بننے والی فلم ’دی آکٹے بیتھوفن‘ کا بھی پریمیئر ہوا ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے سماعت سے محروم ایک موسیقار ایسی شاہکار دھنیں تخلیق کرتا ہے، جنہیں بعد ازاں موسیقی کی تاریخ میں امر ہو جانا تھا۔
اس سال کے بیتھوفن فیسٹیول کے لیے مجموعی طور پر 5.1 ملین یورو کا بجٹ رکھا گیا ہے، جس میں سے 1.6 ملین یورو بون شہر کی انتظامیہ کی جانب سے فراہم کیے جاتے ہیں۔ بون کی جانب سے اس میلے کے لیے مالی وسائل کی یہ فراہمی ابھی کم از کم 2017ء تک جاری رہے گی۔ باقی کی رقم عطیات اور ٹکٹوں کی فروخت سے حاصل کی جاتی ہے۔ میلہ شروع ہونے سے پہلے ہی اُن مختلف کنسرٹس کے پچاس ہزار سے زیادہ ٹکٹ فروخت ہو چکے تھے، جن میں بیتھوفن ہی نہیں بلکہ دنیا کے مختلف خطّوں کے مشہور موسیقاروں کے ساتھ ساتھ ترکی کی نوجوان موسیقارہ زینب غدیسلی اوگلو کی طرح کے نو آموز تخلیق کاروں کی دھنیں بھی پیش کی جا رہی ہیں۔