1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بُلے وائیو ٹیسٹ میں زمبابوے کی ٹیم کی شاندار بیٹنگ

2 ستمبر 2011

زمبابوے کے خلاف واحد ٹیسٹ میچ کے دوران پاکستانی بالرز بڑا تاثر چھوڑنے میں ناکام رہے۔ میزبان ملک نے چار سو سے زائد اسکور کر کے پاکستانی ٹیم کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔

یونس خانتصویر: AP

زمبابوے کی کرکٹ ٹیم اکلوتے ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں 412 رنز بنانے میں کامیاب رہی۔ میزبان ملک کی جانب سے پہلی اننگز کا بڑا اسکور کرنے میں اوپننگ بیٹسمین ٹینوماوویو (Tino Mawoyo) کی کارکردگی غیر معمولی تھی۔  افتتاحی بلے باز ماوویو نے انفرادی طور پر اپنے دوسرے ٹیسٹ میچ میں شاندار سینچری اسکور کرکے اپنی ٹیم کا اسکور انتہائی بہتر مقام پر پہنچا دیا۔ انہوں نے بیٹ کیری کیا یعنی ان کے تمام ساتھی آوٹ ہوئے تاہم وہ کریز پر کھڑے رہے۔ انہوں نے  163 رنز کی شاندر  اننگ کھیلی۔ وہ ناٹ آؤٹ رہے۔

پاکستان کی جانب سے پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے اعزاز چیمہ اور سہیل خان کی باؤلنگ قطعاً غیر متاثر کن تھا۔ کرکٹ کے مبصرین نے دونوں بالروں کے اسٹائل کو اوسط درجے کا قرار دیا۔ اعزاز چیمہ باولنگ میں ضرور چار وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ جنید خان سمیت تینوں تیز بالر گیند بازی کا بہتر نمونہ پیش کرنے میں مجموعی طور پر ناکام رہے۔ ان تینوں نے مجموعی طور پر پچھتر اوورز پھینکے۔ اکتیس سالہ اعزاز چیمہ کی لائن اور لینتھ پہلے دن غیر متاثر کن تھی۔ آف اسپنر سعید اجمل چار وکٹیں لینے میں کامیاب رہے۔ پاکستانی فیلڈنگ بھی حسب معمول غیر معیاری رہی۔

اب بیٹنگ میں  پاکستانی کرکٹرز کو مناسب کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ ساری ذمہ داری تجربہ کار یونس خان، کپتان مصباح الحق اور اظہر علی کے کندھوں پر آن پڑی ہے۔ توفیق عمر اور محمد حفیظ کے لیے بھی عمدہ پرفارمنس دینے کا یہ نادر موقع ہے۔ عمر اکمل بھی اگر اپنے جذبات پر قابو رکھنے میں کامیاب رہے، تو وہ بھی بڑی اننگ کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بُلے وائیو میدان کی پچ اگلے تین دنوں میں مزید سوکھ کر پاکستانی ٹیم کے مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔ خاص طور پر چوتھی اننگز کھیلتے ہوئے پاکستانی کھلاڑی اسپن ہوتی گیندوں پر پریشان ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف توقیر

 

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں
ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں