1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بچوں کے متعدد کھلونے مُضر صحت

کشور مصطفیٰ17 دسمبر 2013

لکڑی کے کھلونوں سے خبردار کرتے ہوئے ماہرین نے بتایا کہ ان کو تیار کرنے میں زہریلے مادے یا وارنش استعمال کیا جاتا ہے اور یہ سرطان زا ہونے کے سبب جینیاتی مواد اور تولیدی صلاحیتوں کے لیے مُضر ثابت ہو سکتے ہیں۔

تصویر: Fotolia/pholidito

جرمنی کے صارفین کے ادارے اور اشیائے صرف کے معیار کو پرکھنے اور اس کے بارے میں صارفین کو مطلع کرنے کا اہم کام انجام دینے والی ایک غیر سرکاری فاؤنڈیشن Stiftung waren test نے حال ہی میں اپنے ایک مطالعاتی جائزے کی رپورٹ میں لکڑی سے بنے ہوئے بہت سے کھلونوں سے خبردار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق بہت سے کھلونوں میں استعمال ہونے والی لکڑی کا وارنش سرطان کی بیماری کا موجب بن سکتا ہے۔

بہت سے والدین بچوں کو پلاسٹک کے کھلونوں سے کھیلنے کا عادی بنا دیتے ہیں اور کچھ والدین پلاسٹک کے بنے ہوئے رنگ برنگے کھلونوں کو بچوں کی صحت کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہوئے لکڑی کے کھلونوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جس طرح پلاسٹک کے کھلونے کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والے کیمیکلز اور رنگوں میں مُضر صحت کیمیائی اجزاء پائے جاتے ہیں، اُسی طرح لکڑی کے کھلونوں میں استعمال ہونے والا وارنش یا سیال مادے میں گھول کر تیار کیا جانے والا روغن کینسر یا سرطان کا موجب ہو سکتا ہے۔

بچے اکثر ربر کے بنے ہوئے گڑیا کے ہاتھ اور پاؤں کو منہ میں لیتے ہیںتصویر: Lauren Frayer

اس کے علاوہ لکڑی کے کھلونے زیادہ تر چھوٹے چھوٹے پارٹ پرزوں پر مشتمل ہوتے ہیں اور چھوٹی عمر کے بچے اکثر ان چھوٹے چھوٹے پرزوں یا کھلونوں کے حصوں کو مُنہ میں ڈال لیتے ہیں اور اس طرح ان کے گلے میں ان پرزوں کے پھنس جانے کے خطرات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اگر کوئی بچہ اپنے منُہ یا ناک میں لکڑی، ربر یا پلاسٹک کا کوئی چھوٹا ٹکڑا پھنسا لے تو اُس کی جان تک کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ جرمن ادارے Stiftung waren test نے تین سال سے کم عمر کے بچوں کے 30 مختلف کھلونوں کا ٹیسٹ کیا۔ ان میں سے نصف یا 15 سے زائد ناقص یا بچوں کے لیے خطرناک ثابت ہوئے۔ ان میں لکڑی کی بنی ہوئی گڑیائیں، مختلف جانور، گاڑیاں اور بلاکس شامل تھے، جن کی مدد سے بچے گھر بناتے ہیں۔

لزبن میں قائْم گڑیوں کا ہسپتالتصویر: Lauren Frayer

ماہرین کے مطابق ان کھلونے میں سے زیادہ تر کے اندر چھوٹے چھوٹے پُرزے لگے ہوئے تھے جو بہت آسانی سے نکل جاتے ہیں اور انہیں بچے منہ یا ناک میں پھنسا سکتے ہیں۔ دیگر لکڑی کے ناقص کھلونوں سے خبردار کرتے ہوئے ماہرین نے بتایا کہ ان کو تیار کرنے میں زہریلے مادے یا وارنش وغیرہ استعمال کیا جاتا ہے اور یہ زہریلے مادے سرطان زا ہونے کے سبب جینیاتی مواد کو نقصان پہنچاتے ہیں اور تولیدی صلاحیتوں کے لیے مُضر ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین نے خاص طور سے لکڑی کے ایسے کھلونوں سے خبردار کیا ہے جن میں ربر کی کورڈ لگی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر لکڑی کی بنی ہوئی گڑیا یا جانور، جس کے بازو اور ٹانگیں ربر کی کورڈ سے جُڑی ہوتی ہیں، کیوں کہ بچے اکثر ربر کے اس کورڈ کو مُنہ میں لیتے ہیں۔ یہ کورڈ Nitrosamine نامی سرطان زا مادوں سے تیار کیا جاتا ہے۔ دھاتی کنیکٹر لیڈ بھی اکثر لکڑی کے وارنش میں ڈالا جاتا ہے جو صحت کے لیے نہیات نقصان دہ ہے اور اکثر بچوں کے کھلونوں میں یہ وارنش استعمال ہوتا ہے۔ بچے اسے چوستے ہیں اور اس طرح ان میں آگے چل کر مہلک بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں