1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بڑی تعداد میں لوگوں نے حق رائے دہی استعمال کیا

11 مئی 2013

پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کے لئے ووٹنگ کے دوران ملک کے مختلف حصوں سے دہشت گردانہ حملوں، پر تشدد واقعات، انتخابی دھاندلیوں اور بعض علاقوں میں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

Photo: REUTERS/Mian Khursheed
تصویر: Reuters/Mian Khursheed

الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان بھر میں انہتر ہزار سات سو انتیس پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے جن میں سے پندرہ ہزار کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔ ملک بھر میں انتخابات کی سکیورٹی کے لئے چھ لاکھ سے زیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے جن میں پچہتر ہزار فوجی بھی شامل تھے، جنہیں پولیس اور رینجرز کی معاونت کے لئے انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر تعینات کیا گیا تھا۔

الیکش کمشن کے مطابق قومی اسمبلی کی دو سو بہتر نشستوں پر براہ راست انتخاب ہونا تھا تاہم تین حلقوں میں امیدواروں کے انتقال اور قبائلی علاقے کرّم میں امنِ عامہ کی خراب صورت حال کی وجہ سے انتخابات ملتوی کیے جانے کے سبب اب دو سو اڑسٹھ نشستوں پر مقابلہ ہو رہا ہے۔

پنجاب میں قومی اسمبلی کی ایک سو سینتالیس، سندھ میں ستاون، بلوچستان میں چودہ، خیبر پختونخواہ میں پینتیس، فاٹا کی گیارہ اور دارالحکومت اسلام آباد کی دو نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں۔

انتخابات کے پر امن انعقاد کے لیے فوج طلب کی گئی تھیتصویر: picture-alliance/dpa

الیکشن کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ انتخابات میں عوام کی دلچسپی ماضی کی نسبت کہیں زیادہ ہے اس لیے ووٹرز ٹرن آؤٹ ساٹھ سے اسی فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔

اسلام آباد میں زرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان کا کہنا تھا کہ، ’’الیکشن کمیشن نے بعض حلقوں میں پولنگ شروع ہونے میں تاخیر کا نوٹس لیتے ہوئے چاروں صوبائی الیکشن کمشنرز سے رابطے کیے ہیں۔‘‘

الیکشن کمیشن نے صوبائی الیکشن کمشنر کو ہدایت کی ہے کہ پولنگ عملے کے تاخیر سے پہنچنے پر ان سے وضاحت لی جائے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات سے متعلق شکایات کے لیے شکایتی مرکز قائم کردیا ہے جہاں 24 گھنٹوں میں کسی بھی وقت شکایات درج کراوئی جاسکتی ہیں۔

یورپی یونین کے انتخابی مبصر مشن سمیت دیگر غیر ملکی مبصرمشن اور اداروں کے نمائندے بھی انتخابات کا جائزہ لینے کے لئے مختلف پولنگ اسٹیشنوں کے دورے کر رہے ہیں۔ واضح رہے کی سیکیورٹی خدشات کے سبب متعدد مبصرین بلوچستان، فاٹا اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں براہ راست نگرانی کے لیے نہیں جا رہے۔

اسی دوران نگران وزیر داخہ ملک حبیب نے اسلام آباد کا فضائی دورہ کیا اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امن عامہ کی صورت حال قابو میں رکھنے کے لیے اضافی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

اہم ملکی شخصیات کی جانب سے بھی ووٹ ڈالے گئے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوھدری نے کوئٹہ میں جب کہ بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے راولپنڈی میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ صدر آصف علی زرداری پوسٹل بیلٹ کے زریعے اپنا ووٹ پہلے ہی ڈال چکے ہیں۔ چئیرمین سینیٹ سید نئیر بخاری نے اسلام آباد کے حلقہ انچاس میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔

ادھر تحریک منہاج القرآن کے سر براہ ڈاکٹر طاہر القادری کی ہدایت پر ان کے حامی انتخابت کے انعقاد کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی دھرنے دے رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اگر بیلٹ پیپر میں ووٹ کے لئے ایک خانہ خالی بھی رکھا جاتا تو وہ اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے لیکن ایسا نہیں کیا گیا جس پر وہ بطور احتجاج دھرنے دے رہے ہیں۔ اسلام آباد کے تجارتی مرکز آب پارہ میں جمع ہونے والے مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ دھرنوں کا سلسلہ پولنگ کا وقت ختم ہونے تک جاری رکھیں گے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہے گی۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: شامل شمس

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں