1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بڑی یورپی دفاعی کمپنیوں کے انضمام کی بات چیت تعطل کا شکار

10 اکتوبر 2012

یورپ کی دو انتہائی بڑی دفاعی کمپنیوں میں انضمام کی بات چیت سردست ناکامی سے ہمکنار ہو گئی ہیں۔ فریقین مختلف معاملات پر لچکدار رویہ اپنانے سے قاصر رہے۔ یہ واضح نہیں کہ کیا انضمام کی بات چیت کو منسوخ کر دیا گیا ہے یا نہیں۔

تصویر: picture alliance/dpa

یورپی ایروناٹیکل اور خلائی کمپنی (European Aeronautic Defence and Space Company) اور برطانوی کمپنی BAE Systems plc کے درمیان انضمام کے مذاکرات فی الحال تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔ فرانس اور برطانیہ انضمام کی پیش کردہ تجاویز پر متفق نہیں ہوئے۔ دونوں طرف سے یہ نہیں بتایا گیا کہ مذاکراتی عمل کو عدم اتفاق پر مؤخر کیا گیا ہے یا منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے سامنے آنے والی مثبت پیش رفت کی رپورٹوں کو بھی یورپی کمپنی کے ترجمان نے مسترد کر دیا تھا۔

ڈیفنس پروڈکشن میں برطانوی کمپنی BAE بھی عالمی شہرت کا ادارہ ہےتصویر: picture-alliance/dpa

مذاکرات کے جاری عمل کے لیے برطانوی حکومت نے آج بدھ کی سہ پہر تک کی ڈیڈ لائن مقرر کر رکھی ہے۔ اس مہلت میں فریقین کی درخواست پر اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انضمام کی ڈیل پر دونوں کمپنیوں کے حصص رکھنے والوں کی جانب سے بھی پرکھ اور پڑتال کا سلسلہ جاری ہے۔ اس طرح حکومتوں کے مالی ریگرلیٹر بھی خاصے اہم ہیں اور وہ بھی انضمام کے کئی پہلووں پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔

برطانوی کمپنی BAE Systems plc میں بظاہر حکومتی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کا تمام سرمایہ کاروباری اور کمرشل ہیں۔ دوسری جانب یہ امر اہم ہے کہ یورپی ادارے EADS میں فرانس اور جرمن حکومتوں کا کثیر سرمایہ شامل ہے۔ ان دونوں کمپنیوں کے انضمام کی بات چیت برسلز میں بھی دیکھی گئی جہاں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے وزرائے دفاع کا اجلاس جاری ہے۔ برطانوی وزیر دفاع فلپ ہیمنڈ کا کہنا تھا کہ وہ برسلز میں اپنے قیام کے دوران جرمن، امریکی اور فرانسیسی وزرائے دفاع سے بھی اس بابت بات کریں گے۔ ان کمپنیوں کے مرجر کے حوالے سے نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندرس فوک راسموسن کا کہنا ہے کہ وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے کیونکہ یہ معاملہ حکومتوں اور اسٹیک ہولڈرز کا ہے۔

یورپی دفاعی ادارہ کمرشل اور فوجی طیارے بنانے میں شہرت رکھتا ہےتصویر: dapd

یورپی ایروناٹیکل اور خلائی کمپنی (European Aeronautic Defence and Space Company) ایک عالمی ادارہ خیال کیا جاتا ہے جو شعبہ ہوابازی، میزائل نظام، سیٹلائٹ سسٹم، خلائی راکٹ اور دیگر خلائی ساز و سامان کی پیداوار میں مشہور ہے۔ یہ کمپنی مختلف ملکوں میں دفاعی سامان کی ترسیل کے حوالے سے بطور کنٹریکٹر بھی کردار ادا کرتی ہے۔ مسافر بردار ہوائی جہاز ایئر بس اسی کمپنی کا شاہکار ہے۔ فوجی نوعیت کے بڑے طیارے اور ہیلی کاپٹرز بھی یہ کمپنی تیار کرتی ہے۔ اسی کمپنی کا ہیلی کاپٹر ایسٹریم، دنیا بھر میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والا ہیلی کاپٹر ہے۔ اس کمپنی کا صدر دفتر ہالینڈ کے شہر لائیڈن میں واقع ہے۔ اس کمپنی کے اثاثوں کی تعداد 88 ارب یورو سے زائد ہے۔ اس کے کئی ذیلی ادارے مختلف یورپی ملکوں میں واقع ہیں۔ اس کے ملازمین کی تعداد ایک لاکھ 33 ہزار سے زائد ہے۔ ادارے کا قیام سن 2000 میں آیا تھا۔ اس کا ایک بہت ہی بڑا پروڈکشن ہاؤس فرانس کے شہر تولوز (Toulouse) میں واقع ہے۔

برطانوی کمپنی BAE Systems plc بھی عالمی شہرت کا ادارہ ہے۔ یہ بھی مختلف النوع ملٹری، فضائی و نیوی دفاعی سامان کے علاوہ خلائی مصنوعات کی پیداوار کا ادارہ ہے۔ اس کو ڈیفنس سامان کی ترسیل کا کنٹریکٹر خیال کیا جاتا ہے۔ اس کا صدر دفتر برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں واقع ہے۔ یہ پبلک کمپنی ہے۔ اس بڑے ادارے کے ملازمین کا حجم ایک لاکھ سات ہزار ہے۔ سالانہ آمدنی کے حوالے سے یہ یورپی ایروناٹیکل اور خلائی کمپنی سے خاصی چھوٹی ہے۔ یہ کمپنی سن 1999 میں دو الیکٹریکل کمپنیوں کے انضمام سے معرض وجود میں آئی تھی۔

ah / sks (dpa)

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں