1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارتی بجٹ پر ملا جلا رد عمل

1 فروری 2020

بھارت میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے عام بجٹ پر یہ کہہ کر نکتہ چینی کی ہے اس میں عوام کی فلاح کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ تاہم حمکران جماعت اسے ایک بہترین بجٹ قرار دے رہی ہے۔

Indien Haushalt für Haushaltsjahr 2020-21
تصویر: DW/A. Ansari

بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے دو گھنٹے پچاس منٹ تک اپنا بجٹ پیش کیا اور اس طرح اب تک کے طویل ترین بجٹ خطاب کا ایک نیا ریکارڈ بھی قائم ہوا۔

اس کے فوری بعد میڈیا سے بات چیت میں بھارتی وزیر اعظم نے انہیں مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس بجٹ میں بہت سی اقتصادی اصلاحات کا وعدہ کیا گيا ہے، جن کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

کانگریس پارٹی نے اس بجٹ کو مایوس کن قرار دیا اور کہا کہ لڑکھڑاتی معیشت کو سہارا دینے کے لیے بجٹ میں کوئی بھی موثر منصوبہ موجود نہیں ہے۔ پارٹی کے رہنما راہول گاندھی کا کہنا تھا، ''اس وقت ملک کو بے روزگاری کا سب سے اہم مسئلہ در پیش ہے لیکن مجھے اس بجٹ میں ایسی کوئی حکمت عملی نظر نہیں آئی، جس سے نوجوانوں کو روزگار میّسر ہو گا۔ اس میں بار بار ایک ہی چیز کو دہرایا گيا ہے، جس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ حکومت باتیں خوب کرتی ہے لیکن عملا کچھ بھی نہیں۔‘‘

بھارت: دفاعی بجٹ میں چھ فیصد کا اضافہ

سابق وزیر خزانہ پی چدامبرم نے اس بجٹ کو پوری طرح سے مسترد کر دیا۔ ان سے جب سوال کیا گيا کہ اس بجٹ کو وہ دس میں سے کتنے نمبر دیں گے، تو انہوں نے کہا، ''دس میں صفر اور ایک، صرف دو ہی ہندسے ہیں اس میں سے آپ کسی بھی ایک کا انتخاب کر سکتے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے بجٹ میں ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جس گرتی معشیت کو سہارا مل سکے۔

مارکسی نظریات کی حامل جماعت سی پی ایم کے سینیئر رہنما سیتا رام یچوری کا کہنا تھا، ''بجٹ میں عوام کی تکالیف دور کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ کسانوں نے کے بہت سے مسائل جس کی وجہ سے وہ خودکشیاں کر رہے ہیں، بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے اور مہنگائی آسمان چھورہی ہے، اس بجٹ میں ان مسائل سے نمٹنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘

مغربی بنگال کی وزیراعلی ممتا بنرجی کی جماعت ترنمول کانگریس نے بھی بجٹ پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت نے ٹیکس میں کمی کے اعلان سے لوگوں کو جھانسہ دینے کی کوشش کی ہے اور ٹیکس دہندگان کے لیے سوشل سکیورٹی جیسی کسی چیز کا اعلان اعلان نہیں کیا گيا۔ عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجری وال نے اپنی ایک ٹویٹ میں عام بجٹ کو بہت ہی مایوس کن قرار دیا۔

'پیسہ کشمیر کی آزادی کا متبادل نہیں‘

بھارت حکومت نے جموں و کشمیر کی ترقی کے لیے تقریباﹰ تیس ہزار کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا ہے، اس سے متعلق ایک سوال کے جواب میں سابق وزیر خزانہ پی چدامبرم نے کہا، ''پیسہ آزادی کا متبادل نہیں ہوسکتا ہے۔ پہلے آپ ان کے انسانی حقوق بحال کریں پھر ترقی کی بات کریں۔‘‘

جمعیت علما ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمد مدنی نے کا کہنا تھا کہ کشمیر کی ترقی کے لیے رقم کی فراہمی اپنی جگہ درست ہے لیکن کشمیریوں کو ان کے حقوق واپس کرنے کی ضرورت ہے۔ ''ترقی کے لیے اس طرح کے پیکج کی بات اچھی بات ہے، لیکن حالات تب ہی بہتر ہوں گے جب ان کے ساتھ ہونے والے سلوک پر نظر ثانی کی جائے اور ان کے حقوق بحال کیے جائیں۔‘‘

بھارتی پارلیمان کا بجٹ اجلاس اور شیم شیم کے نعرے

جنوبی کشمیر کے رؤف فدا نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے جس رقم کا اعلان کیا، کشمیر میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران حالات خراب ہونے سے تقریبا اتنے کا نقصان ہوچکا ہے۔ فدا کے مطابق، ''حکومت نے کشمیر کی ریاست کا درجہ ختم کر دیا، ہماری خصوصی حیثیت ختم کر دی اور ہم ایک محبوس فضا میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ہمیں پیسوں کی بھیک نہیں چاہیے ہمیں ہمارے حقوق چاہییں۔‘‘

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں