بھارتی وزیر داخلہ اسرائیل میں
6 نومبر 2014
اسرائیل نے بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے اس دورے اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ موسم کی خرابی کے سبب مقررہ پروگرام کے مطابق کل تل ابیب نہیں پہنچنے کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے دیگر پروگراموں میں تبدیلی کرتے ہوئے آج بھارتی وزیر داخلہ کا شاندار استقبال کیا۔ راج ناتھ سنگھ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ’’بھارت اور اسرائیل کے درمیان انتہائی خوشگوار اور قریبی تعلقات ہیں اور ہم اسے مزید مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ بھارتی ذرائع کے مطابق دونوں رہنماوں کے درمیان سکیورٹی کے شعبے میں اضافے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون جیسے امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
جون 2000ء بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر رہنما لال کرشن اڈوانی کے دورہ کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب اسی جماعت سے تعلق رکھنے والے راج ناتھ سنگھ اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے اسرائیلی ہم منصب بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی تھی۔ جبکہ اسرائیل کے قومی سلامتی مشیر نے گزشتہ ستمبر میں بھارت کا تین روزہ دورہ کیا تھا۔
خیال رہے کہ بھارت اسرائیل کا دفاعی سازوسامان خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور روس کے بعد سب سے زیادہ فوجی اسلحہ اسرائیل سے ہی آتا ہے۔ پچھلے دنوں سلامتی سے متعلق کابینہ کمیٹی نے اسرائیل سے 144 ملین ڈالر کے دفاعی سودوں کی منظوری دی ہے۔ اس کے تحت اسرائیل بھارت کو 262 براک میزائل دے گا۔ ان میزائلوں کو بھارت 14جنگی جہازوں پر نصب کرے گا۔
اسرائیل بھارت کے ساتھ مل کر براک میزائل کا ایڈوانس ماڈل براک8 بھی تیار کر رہا ہے۔ بھارت نے امریکا کے Jeveline Missiles کو مسترد کرتے ہوئے اسرائیل کےSpike Anti Tank Guided Missile کو بھی منظوری دے دی ہے۔ 32 ارب روپے کے اس سودے کے تحت بھارت 8000 اسپائک میزائل اور 300 لانچر خریدے گا۔ جب کہ بھارت اسرائیل سے اواکس سرویلانس ایئرکرافٹ کا جدید ترین ماڈل بھی خریدنے پر غور کررہا ہے۔ یہ ایک بلین ڈالر کا سودا ہو گا۔ راج ناتھ سنگھ اپنے اس دورے کے دوران مودی حکومت کی نئی پالیسی’ میک ان انڈیا‘ کے تحت اسرائیلی کمپنیوں کو بھارت میں بھی دفاعی ساز وسامان تیار کرنے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیل کے ساتھ بھارت کے بڑھتے دفاعی تعلقات کو یہاں بالعموم تشویش کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ اس سے خطے میں دفاعی عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔ تاہم دفاعی اور اسٹریٹیجک امور کے ماہرریٹائرڈ ایئر کموڈور ادے بھاسکر اس خیال سے متفق نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ’’یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ بھارت اور اسرائیل کے مابین دفاعی تعلقات میں جو اضافہ ہو رہا ہے اس سے خطہ میں عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے کیوں کہ جہا ں تک بھارت کا معاملہ ہے اس کی اپنی ضروریات ہیں اور میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ اس سے علاقائی استحکام پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم ایک مشترکہ سکیورٹی چیلنج کو حل کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔‘‘
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ 1992 میں اس وقت کے وزیراعظم پی وی نرسمہا راؤ کی قیادت والی کانگریس حکومت کے دورمیں اسرائیل کو مکمل سفارتی درجہ دیے جانے کے بعد سے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں اور نریندر مودی حکومت میں اس میں مزید استحکام اور تیزی آنے کی امید ہے۔