1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارتی کشمیر: ضلعی انتخابات کے پیش نظر مزید دستے تعینات

صلاح الدین زین ڈی ڈبلیو نیوز، نئی دہلی
19 نومبر 2020

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ضلعی انتخابات ہونے والے ہیں۔ بیشتر امیدوار پولیس کی سخت نگرانی میں ہیں اور انہیں مہم چلانے کے لیے باہر آنے کی اجازت نہیں ہے۔

Indien Srinagar Sopore | Tote nach Rebellenangriff
تصویر: picture-alliance/NurPhoto/N. Kachroo

بھارتی حکومت نے اپنے زیر انتظام جموں و کشمیر میں’ڈسٹرکٹ ڈیویلپمنٹ کونسل‘ (ڈی ڈی سی) کے انتخابات کروانے کے لیے سکیورٹی فورسز کے 25 ہزار اضافی دستے خطے میں تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس دوران وادی کشمیر میں جو بھی امیدوار پرچہ نامزدگی داخل کراتا ہے اسے سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر پولیس مخصوص سرکاری عمارتوں میں اپنی تحویل میں رکھ لیتی ہے اور اسی ڈر کی وجہ سے انہیں انتخابی مہم چلانے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

انتخابات کب ہو رہے ہیں؟

یہ انتخابات 28 نومبر سے ہونے والے ہیں، جو آٹھ مرحلوں پر مشتمل ہوں گے اور 22 دسمبر کو مکمل ہو جائیں گے۔ امکان ہے کہ 22 دسمبر کو ہی نتائج کا بھی اعلان کر دیا جائے۔ پہلے مرحلے میں وادی کشمیر کے بیشتر اضلاع میں ووٹ ڈالے جائیں گے، جس میں اب محض چند روز باقی بچے ہیں۔

پولیس کی تحویل

لیکن بیشتر امیدواروں کو شکایت ہے کہ پرچہ نامزدگی داخل کرانے کے بعد سے ہی وہ پولیس کی تحویل میں ہیں، انہیں سکیورٹی کا بہانہ بناکر سرینگر میں سرکاری عمارتوں میں بند کر دیا گيا ہے، اور انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے برعکس جو بی جے پی کے امیدوار ہیں، انہیں مہم چلانے کے لیے سکیورٹی گارڈز کے ساتھ گاڑیاں بھی مہیا کی جا رہی ہے۔

ڈی ڈبلیو کی خصوصی بات چیت

ڈی ڈبلیو اردو سے خاص بات چیت میں عوامی نیشنل کانفرنس کے نائب صدر مظفر شاہ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے امیداروں کو سکیورٹی فراہم کرنے کی ساتھ ساتھ آزادانہ طور پر تمام سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی اجازت ہے جبکہ دیگر جماعتوں کے امیدواروں کو فوری طور پر گیسٹ ہاؤس لے جایا جاتا ہے،’’اس کے لیے ہمارے گپکار اتحاد نے مشترکہ طور پر انتخابی کمیشن سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور آج ہی ہم اس پر ایک پریس کانفرنس بھی کر رہے ہیں۔‘‘

تصویر: Mukhtar Khan/AP/picture alliance

ایک سوال کے جواب میں مظفر شاہ نے کہا کہ ایسا بی جے پی اور آر ایس ایس کی ایماء پر کیا جا رہا ہے، ’’انتخابات تو منصفانہ اور شفاف ہونے چاہیں، سبھی کو مساوی مواقع بھی ملنے چاہیں، یا تو پھر ان سے بھی سکیورٹی، ٹرانسپورٹ اور جو بلیٹ پروف گاڑیاں مہیا کی گئی ہیں،  واپس لی جائیں۔ اصل میں ان کو یہاں اپنی شکست کا خوف ہے اور اسی لیے وہ ایسا کر رہے ہیں۔‘‘

تفریق ناقابل قبول

کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے اس تفریق کے لیے بی جے پی کی مرکزی حکومت  کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے سوال کیا کہ آخر جموں و کشمیر حکومت کس نوعیت کے انتخابات کروانا چاہتی ہے، جہاں امیدواروں کو انتخابی مہم چلانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا،’’کیا یہی محفوظ اور دہشتگردی سے پاک جموں و کشمیر ہے، جس کے بارے میں وزير داخلہ کل ہی ٹویٹ کر رہے تھے۔؟‘‘   

انہوں نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ جموں کشمیر کی انتظامیہ بی جی پی اور اس کے ذریعہ حال ہی میں تخلیق گئی جماعتوں کی مدد کے لیے، ''بی جے کے مد مقابل تمام امیدواروں کو سکیورٹی کے بہانے بند کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ اگر انتخابی مہم چلانے کے لیے ماحول ہی سازگار ہی نہیں تھا تو پھر الیکشن کرانے کی ضرورت کیا تھی؟‘‘         

 سابق وزیر اعلی اور پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے بھی حکومت پر اسی طرح کے الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ ضلعی ترقیاتی انتخابات میں، ''غیر بی جے پی امیدواروں کو آزادانہ انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی اور سکیورٹی کے بہانے انہیں لاک اپ میں ڈالا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو مہم کے لیے تمام سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں۔ کیا بھارتی حکومت نے فون پر امریکا کے نو منتخب صدر سے اسی جمہوریت کو فروغ دینے کی بات کہی ہے۔‘‘

گپکار پر امیت شاہ کی نکتہ چینی

دو روز قبل ہی وزیر داخلہ نے امیت شاہ نے ہند نواز سیاسی جماعتوں کے اتحاد گپکار پر شدید نکتہ چینی کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ گپکار گینگ عالمی ہوتاجا رہا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ غیر ملکی طاقتیں جموں و کشمیر میں مداخلت کریں،''بھارتی عوام قومی مفادات کے خلاف کسی بھی ناپاک اتحاد کو اب اور برداشت نہیں کریں گے۔ یا تو گپکار گینگ قومی موڈ کے ساتھ چلے ورنہ لوگ اسے ڈبو دیں گے۔‘‘ ہند نواز سیاسی جماعتوں کے اتحاد گپکار الائنس نے امیت شاہ کے اس بیان پر بھی شدید نکتہ چینی کی تھی۔

اضافی دستے

بھارتی حکومت نے گزشتہ برس دفعہ 370 کے خاتمے کے موقع پر وادی کشمیر کے تقریباﹰ تمام گلی کوچوں میں فوج اور نیم فوجی دستے تعینات کیے تھے لیکن ایل اے سی پر بھارت اور چین کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے کشمیر کے بعض علاقوں سے فوجیوں کو ہٹا کر سرحد پر بھی بھیجنا پڑا۔ اب کشمیر میں انتخابات کے لیے حکومت نے دوسری ریاستوں میں تعینات فوجی اور نیم فوجی دستوں کو وہاں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارت پر تنقید

 بھارتی حکومت نے گزشتہ برس جب کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی اختیارات ختم کیے تو اس کا ریاستی درجہ بھی ختم کرتے ہوئے خطہ کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی بھارت نے خطہ کشمیر کے تمام جمہوری اداروں کو تحلیل کرتے ہوئے بیشتر ہند نواز کشمیری رہنماؤں کو بھی گرفتار کر لیا تھا۔

حکومت کے ان متنازعہ اقدامات پر اندرون ملک اور بیرون ملک نکتہ چینی ہوتی رہی ہے۔ خاص کر جمہوری اداروں کی پامالی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اسے اب بھی شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اسی کے پیش نظر حکومت نے بعض قوانین میں ترامیم کے بعد ضلعی ترقیاتی کونسل کے انتخابات کا اعلان کیا تاکہ وہ ناقدین کو یہ پیغام بھی دے سکے کہ کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں۔

’یہ علاقہ کبھی پاکستان کا حصہ تھا‘

04:13

This browser does not support the video element.

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں
ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں