1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
اقتصادیاتبھارت

بھارت: الیکٹرانک کباڑ جمع کرنے والوں کا کاروبار خطرے میں

امتیاز احمد تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کے ساتھ
30 نومبر 2025

دہلی کی ایک تنگ گلی میں شاہجہاں فرش پر بیٹھی تاروں کو چھیل رہی ہیں اور ان کے دو بچے پاس بیٹھ کر تانبا الگ کر رہے ہیں لیکن حکومتی کریک ڈاؤن کی وجہ سے ان کا یہ چھوٹا سا کاروبار بھی ختم ہونے کے قریب ہے۔

اقوام متحدہ کے گلوبل ای ویسٹ مانیٹر 2024ء کے مطابق بھارت، چین اور امریکہ کے بعد الیکٹرانک کباڑ پیدا کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے
اقوام متحدہ کے گلوبل ای ویسٹ مانیٹر 2024ء کے مطابق بھارت، چین اور امریکہ کے بعد الیکٹرانک کباڑ پیدا کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہےتصویر: Anindito Mukherjee/dpa/picture alliance

شاہجہاں پرانے الیکٹرانک آلات کو توڑ کر روزانہ چند سو روپے کماتی ہیں لیکن الیکٹرانک کباڑ کی سپلائی کم ہوتی جا رہی ہے اور ان کی آمدنی بھی گھٹتی جا رہی ہے کیونکہ اب زیادہ سے زیادہ کباڑ دارالحکومت کے کنارے قائم لائسنس یافتہ پلانٹس کی طرف جا رہا ہے۔

32 سالہ شاہجہاں کا کہنا ہے، ''اگر کام ختم ہو گیا تو ہم کیا کریں گے؟‘‘

بھارت تانبے جیسی اہم معدنیات کی زیادہ مقدار حاصل کرنے کے لیے غیر رسمی ری سائیکلنگ پر کریک ڈاؤن کر رہا ہے۔ تانبا سولر پینلز، بیٹریوں اور برقی گاڑیوں کا اہم جزو ہے۔

دہلی میں سیلم پور علاقے کے لوگوں کے لیے باقاعدہ ری سائیکلنگ کی طرف منتقلی کا مطلب ہے کہ دہائیوں سے ان کی روزی روٹی کا سہارا بننے والا یہ کام اور آمدنی ختم ہو جائے گی۔

دہلی میں قائم ماحولیاتی گروپ 'ٹاکسک لنکس‘ کی 2019ء کی رپورٹ کے مطابق دہلی کے 5000 غیر رسمی ای ویسٹ یا کباڑ ری سائیکلنگ مراکز میں سے آدھے سے زیادہ سیلم پور میں واقع ہیں، جو ہزاروں افراد کو روزگار فراہم کرتے ہیں۔

گزشتہ سال بھارت نے اپنے ای کوڑے کا 40 فیصد سے زیادہ ری سائیکل کیا، جو یورپ اور امریکہ کے قریب ہےتصویر: Gurinder Osan/AP Photo/picture alliance

اہم معدنیات کی تلاش

اقوام متحدہ کے گلوبل ای ویسٹ مانیٹر 2024ء کے مطابق بھارت، چین اور امریکہ کے بعد الیکٹرانک کباڑ پیدا کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال یہ مقدار 17.5 لاکھ ٹن تک پہنچ چکی تھی۔

اب حکومت اس کباڑ سے تانبا، لیتھیم اور نایاب زمینی عناصر جیسی اہم معدنیات نکالنا چاہتی ہے۔ یہ کام چار ارب ڈالر کی نیشنل کرٹیکل منرلز مشن کا حصہ ہے، جو جنوری میں شروع ہوا اور جس کا مقصد بیرون ملک اور ملکی کانوں سے بھی سپلائی محفوظ بنانا ہے۔

حکومت ری سائیکلنگ پلانٹس قائم کرنے اور چلانے کے لیے مالی امداد بھی دے رہی ہے تاکہ 2.7 لاکھ ٹن کی گنجائش پیدا ہو اور سالانہ تقریباً 40 ہزار ٹن اہم معدنیات حاصل کی جا سکیں، جبکہ تقریباً 70 ہزار نوکریاں پیدا ہوں۔

پاکستان ’کچرے کا گھر‘ کیوں بن رہا ہے؟

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال بھارت نے اپنے ای کوڑے کا 40 فیصد سے زیادہ ری سائیکل کیا، جو یورپ اور امریکہ کے قریب ہے۔

تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ابتدائی کام اب بھی گھروں اور سیلم پور جیسے غیر رسمی ورکشاپس میں ہوتا ہے، جہاں کارکن بغیر حفاظتی لباس کے کباڑ چھانٹتے، توڑتے اور الگ کرتے ہیں اور پھر وہ مجاز پلانٹس کو بھیج دیا جاتا ہے۔

ناروے میں قائم ماحولیاتی تحقیقاتی مرکز گریڈ ایرینڈل سے وابستہ سرکلر اکانومی کی ماہر سواتی سنگھ سمبیال کہتی ہیں کہ منتقلی کے اس عمل میں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال ای کچرے کی مقدار 17.5 لاکھ ٹن تک پہنچ چکی تھیتصویر: Manish Swarup/AP Photo/picture alliance

ان کا مزید کہنا تھا، ''غیر رسمی کارکن بھارت میں ای کباڑ چین کے پہلے اور سب سے اہم درجے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بھارت ان کے حقوق کا تحفظ کرے اور بہتر روزگار کے مواقع پیدا کرے، ورنہ یہ تبدیلی پسماندگی کو مزید گہرا کر دے گی۔"

آمدنی کا نقصان

سالہا سال سے سیلم پور ایک سادہ سپلائی چین پر انحصار کرتا رہا ہے۔ کارکن کباڑ کے مقامی تاجروں سے پرانی تاریں اور الیکٹرانک آلات خریدتے، گھر لے جا کر چپس، تانبا اور ایلومینیم نکالتے اور دھات کو محلے کے خریداروں کو بیچتے، جو فیکٹریوں کو سپلائی کرتے تھے۔

اب یہ چین کمزور پڑ رہی ہے کیونکہ باقاعدہ ری سائیکلرز پھیل رہے ہیں اور مقامی حکام گھروں میں توڑ پھوڑ روکنے کے لیے بجلی منقطع کر رہے ہیں، جبکہ چھوٹے یونٹس پر جرمانے بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔

ملائیشیا یورپی کچرا درآمد کرنا کیوں نہیں بند کر سکتا؟

اس خطرناک کام کے اثرات محمد سلیم کے ہاتھوں پر واضح ہیں۔ آٹھ سال سے تار چھیلنے کی وجہ سے ان کی ہتھیلیاں سیاہ اور کٹی ہوئی ہیں۔ اپنے تنگ دو منزلہ گھر کے باہر کھڑے ہوئے محمد سلیم کا کہنا تھا، ''کچھ سال پہلے میری یومیہ آمدنی 700 روپے تھی، اب 300 روپے رہ گئی ہے۔ کام تیزی سے ان گلیوں سے نکل رہا ہے۔"

کارکنوں کے مطابق بہت سے لوگ، خصوصاً خواتین دور دراز کی فیکٹریوں تک کام کے پیچھے نہیں جا سکتے۔

اب حکومت اس کباڑ سے تانبا، لیتھیم اور نایاب زمینی عناصر جیسی اہم معدنیات نکالنا چاہتی ہےتصویر: Gurinder Osan/AP Photo/picture alliance

28 سالہ محمد شاداب کے لیے یہ تبدیلی وہ زمین کھو دینے جیسی ہے، جس کے لیے انہوں نے جدوجہد کی تھی۔ تین سال قبل انہوں نے ماہانہ 10 ہزار روپے والی فیکٹری کی نوکری چھوڑ کر گھر پر کاروبار شروع کیا تھا، جس سے وہ 25 ہزار روپے تک کما لیتے تھے۔

اب وہ کہتے ہیں، ”کام فیکٹریوں کی طرف جا رہا ہے۔ میرے پاس لائسنس یافتہ پلانٹ لگانے کے پیسے یا معلومات نہیں۔ لگتا ہے مجھے دوبارہ مزدور بننے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔"

باقاعدہ ری سائیکلرز کہتے ہیں کہ وہ اب بھی غیر رسمی کارکنوں پر انحصار کرتے ہیں مگر سب کو جذب کرنے کی گنجائش یا انفراسٹرکچر نہیں رکھتے۔

ممبئی کی کمپنی 'ری سائیکل کرو‘ کے راجیش گُپتا نے بتایا کہ کمپنیاں مجاز خریداروں کے ذریعے اور بنیادی تربیت دے کر غیر رسمی کارکنوں کے ساتھ کام کرنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن توسیع اور زیادہ نوکریاں پیدا کرنے کے لیے مزید سرمایہ کاری درکار ہے۔

نئی ای کباڑ ری سائیکلنگ کمپنی 'پلینیکس‘ کے یشراج بھاردواج نے بتایا کہ اس شعبے کی ترقی کے لیے مستقل سپلائی اور قیمتوں کا تعین بہت ضروری ہیں۔

بھارتی قواعد کے تحت پروڈیوسرز کو ای کباڑ سرکاری رجسٹرڈ میں کم از کم 22 روپے فی کلو کی شرح پر ری سائیکل کرنا ہوتا ہے تاکہ اس ریٹ سے مطابقت رکھنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو اور غیر محفوظ ورکشاپس پر انحصار کم ہو۔

مگر سام سنگ، ایل جی، ڈائیکن اور کیریئر سمیت عالمی الیکٹرانک برانڈز نے ان ضوابط پر بھارتی حکومت کے خلاف مقدمہ کر رکھا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ مقررہ قیمت کا طریقہ کار مارکیٹ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

اس کیس کا فیصلہ ممکنہ طور پر یہ طے کرے گا کہ بھارت اپنا ری سائیکلنگ نظام کس طرح بناتا ہے اور کیا چھوٹے درجے کا کباڑ جمع کرنے والے اور غیر رسمی کارکن اس کا حصہ رہیں گے یا نہیں؟

ادارت: شکور رحیم

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں