بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات کے لیے آزمائش کی گھڑی
26 دسمبر 2025
بنگلہ دیش نے 22 دسمبر کو نئی دہلی اور اگرتلہ میں واقع اپنے سفارتی مشنوں کے باہر احتجاج کے بعد ویزا اور قونصلر خدمات معطل کر دی تھیں، جس کے بعد دوطرفہ سفارتی تعلقات مزید خراب ہوئے ہیں۔
اس سے پہلے معروف بنگلہ دیشی کارکن شریف عثمان ہادی کی موت کے بعد شروع ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد بھارت نے بھی بنگلہ دیش میں چٹاگانگ میں واقع اپنے سینٹر میں ویزا خدمات معطل کر دی تھیں۔
بتیس سالہ ہادی بھارتی پالیسیوں کے شدید ناقد تھے اور 2024 کی اس بغاوت میں ایک اہم رول ادا کیا تھا، جس نے بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے 15 سالہ مطلق العنان حکمرانی کا خاتمہ کر دیا۔
ہادی کی موت 18 دسمبر کو سنگاپور کے ایک ہسپتال میں ہوئی، جہاں وہ ایک ہفتہ قبل ڈھاکہ میں موٹر سائیکل پر سوار ایک نقاب پوش شخص کی فائرنگ سے گولی لگنے کے بعد زیر علاج تھے۔
ڈھاکہ انتظامیہ کے عبوری رہنما محمد یونس نے اس فائرنگ کو ایک طاقتور نیٹ ورک کی جانب سے ایک ایسا منصوبہ بند حملہ قرار دیا، جس کا مقصد فروری میں ہونے والے انتخابات کو پٹری سے اتارنا ہے۔
سفیروں کی طلبی
بنگلہ دیش کے ضلع میمن سنگھ میں توہین مذہب کے الزام میں 25 سالہ ایک ہندو دیپو چندر داس کے مبینہ قتل کے بعد بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
کولکتہ اور حیدرآباد سمیت بھارت کے کئی علاقوں میں سخت گیر ہندو گروپوں کی جانب سے داس کے انصاف کے حصول کے لیے مظاہرے ہوئے۔ اس میں بہت سے لوگوں نے پلے کارڈز اور ایسے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’بھارت بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر تشدد برداشت نہیں کرے گا‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔
نئی دہلی اور ڈھاکہ نے اس ہفتے کے اوائل میں ایک دوسرے کے ایلچی کو طلب کیا تاکہ اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا سکے۔ دونوں جانب سے ویزا خدمات کی معطلی اور اقلیتوں کی حفاظت اور سفارتی سلامتی پر تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
ویزا سروسز معطل ہونے سے ایسے ہزاروں بنگلہ دیشی متاثر ہو رہے ہیں، جو بھارت میں طبی علاج کے خواہاں ہیں۔
نئی دہلی ڈھاکہ میں اپنے سفارتی مشن کے باہر ہونے والے احتجاج کو بھارت میں بنگلہ دیشی مشن کے باہر ہونے والے مظاہروں کی برابری کو مسترد کرتا ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کا کہنا ہے کہ ’’بھارت بنگلہ دیش میں بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ہمارے حکام بنگلہ دیش کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور اقلیتوں پر ہونے والے حملوں پر انہیں اپنے سخت تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔ ہم نے اس پر بھی زور دیا ہے کہ داس کے وحشیانہ قتل کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔‘‘
بھارت میڈیکل اور ایمرجنسی ویزا کو ترجیح دیتے ہوئے بنگلہ دیشیوں کو روزانہ تقریباً 1500 ویزے جاری کرتا ہے اور کشیدگی کے بھڑکنے کے بعد ویزے کی معطلی سے عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
اس کا اثر خاص طور پر ان لوگوں کے لیے زیادہ ہے، جو نئے ویزا، فالو اپ اپائنٹمنٹس اور ہنگامی دیکھ بھال کی ضرورت رکھتے ہیں۔
لیکن اس طرح کا واقعہ پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ گزشتہ برس اگست میں سیاسی بدامنی اور حسینہ واجد کی معزولی کے بعد بھی ملک بھر میں بھارتی ویزا مراکز کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔
’پیچیدہ باہمی انحصار‘
ماہرین اور سابق سفارت کار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حالیہ کشیدگی کے پیش نظر پڑوسی ممالک کے درمیان سفارتی خرابی سنگین نوعیت کی ہے۔
دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں ساؤتھ ایشین اسٹڈیز کے پروفیسر سنجے بھاردواج نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ویزہ سروس کا انجماد عارضی ہے، مستقل نہیں۔ یہ اسٹریٹیجک ٹوٹ پھوٹ کی بجائے حکمت عملی کا اقدام ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’بھارت نے اس وقت چٹاگانگ ویزا آفس کو بند کر دیا جب مخالف بیان بازی سے بھارتی عملے کی حفاظت کو خطرہ لاحق ہوا۔ بنگلہ دیش کی طرف سے بھارت میں ویزا آپریشن کی معطلی خالصتاً انتقامی کارروائی ہے، جو گھریلو حلقوں کو خوش کرنے کے لیے ترتیب دی گئی ہے۔‘‘
بھاردواج نے مزید کہا کہ بھارت اور بنگلہ دیش ایک پیچیدہ باہمی انحصار کا اشتراک کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’چاہے تجارت ہو، ٹرانزٹ، یا کنیکٹیویٹی ہو، بنگلہ دیش بھارتی تعاون کے بغیر کام نہیں کر سکتا۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’عام شہریوں کے لیے خلل ڈالنے کے باوجود، ویزا کا یہ تعطل وسیع تر دوطرفہ تعلقات یا تجارت کو پٹڑی سے نہیں اتارتا ہے۔ دونوں فریق داؤ کو سمجھتے ہیں۔ اس سے لوگوں کو نقصان پہنچتا ہے، تعلقات کی بنیاد کو نہیں۔‘‘
سفارتی تعلقات کا نقصان
دونوں ملکوں کے درمیان شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد سے تیزی سے تعلقات خراب ہوئے ہیں اور ایک سال سے زائد عرصے پر محیط خراب حالات کی وجہ سے بات یہاں تک پہنچ چکی ہے۔
بھارت بنگلہ دیش میں ہندوؤں اور دیگر اقلیتوں کے تحفظ پر بڑھتے ہوئے خطرے کا اظہار کرتا ہے، جبکہ ڈھاکہ نے بھارت سے اپنے گریبان میں جھانکنے کا مشورہ دیتے ہوئے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہنے کو کہا ہے۔
بنگلہ دیش کے لیے بھارت کے ایک سابق ہائی کمشنر، پنک رنجن چکرورتی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’بھارت کا ویزا روکنا ایک عارضی حفاظتی اقدام ہے، جو ہمارے مشنز اور ویزا مراکز کے خلاف ٹھوس، قابل بھروسہ خطرات کے جواب میں تھا۔ تب سے چٹاگانگ کے علاوہ ہر جگہ خدمات دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔‘‘
بھارت کے سابق سفیر چکرورتی کا یہ بھی ماننا ہے کہ بنگلہ دیش کا ردعمل محض انتقامی کارروائی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’وہ دعویٰ کرنے کے لیے ایک غلط مساوات کی تاویل تیار کر رہے ہیں کہ بھارت میں ان کے مشنز کو اسی طرح کے خطرات کا سامنا ہے۔ یہ گھریلو استعمال کے لیے ایک من گھڑت بیانیہ ہے، جس کی بنیاد سکیورٹی خدشات پر مبنی نہیں ہے۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا، ’’ہاں، تحفظات درج کرنے کے لیے ہائی کمشنرز کو طلب کرنا ایک معیاری سفارتی پروٹوکول ہے۔ لیکن جائز سکیورٹی خطرات اور سیاسی پوزیشن میں فرق ہے۔‘‘
جندل اسکول آف انٹرنیشنل افیئرز کی بنگلہ دیشی ماہر سری رادھا دتا نے کہا کہ موجودہ بحران کچھ دنوں میں کم ہو جائے گا، لیکن بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان معمول کے تعلقات اس وقت تک بحال نہیں ہوں گے جب تک کہ ایک منتخب حکومت ڈھاکہ میں اقتدار میں نہیں آتی۔
انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’بعض عناصر نے سیاسی بیانیہ کو ہائی جیک کر لیا ہے، اور یہ بنگلہ دیشی اکثریت کے جذبات کی عکاسی نہیں کرتا۔‘‘
ان کا مزید کہنا ہے،’’عبوری حکومت کو ثابت کرنا چاہیے کہ وہ اندرونی تشدد کو کنٹرول کر سکتی ہے۔ پرتھم الو اور ڈیلی اسٹار اخبارات کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ یا تو سراسر نااہلی یا بد نیتی کو بے نقاب کرتا ہے۔ حکام نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو ٹھیک کرنے میں بھی بہت کم دلچسپی ظاہر کی ہے۔‘‘
18 دسمبر کو، نوجوان رہنما ہادی کے قتل کے بعد فسادات کے درمیان ہجوم نے اخبار کے دفتروں کے ہیڈ کوارٹر میں توڑ پھوڑ، لوٹ مار کرنے کے ساتھ ہی آگ لگا دی تھی۔
سری دتا نے کہا، ’’تعطل واضح ہے۔ بنگلہ دیش کی نگراں انتظامیہ میں قانونی حیثیت اور سیاسی ارادے کا فقدان ہے، جب کہ بھارت ایک قابل اعتماد پارٹنر کا انتظار کر رہا ہے۔ جب تک ڈھاکہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے حقیقی ارادے کا اشارہ نہیں دیتا، بھارتی حکومت بھی نہیں جھکے گی۔‘‘
ص ز / ک م (مرلی کرشنن)