بھارت اور پولینڈ کے درمیان تکرار کی وجہ کیا؟
20 جنوری 2026
پولینڈ کے وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم رادوسلاو سِکورسکی نے بھارت کے دورے کے دوران پیر کو بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر سے ملاقات کی۔ اس موقع پر جے شنکر نے سِکورسکی سے کہا کہ پولینڈ کو جنوبی ایشیائی خطے میں دہشت گردی کو ’’ہوا دینے‘‘سے گریز کرنا چاہیے۔
بھارتی خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے سِکورسکی کے حالیہ پاکستان دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنے شراکت داروں سے توقع کرتا ہے کہ وہ پڑوس میں دہشت گردی کے ڈھانچے کی حمایت نہیں کریں گے۔ پولینڈ کے وزیر خارجہ کا پاکستان کا دورہ 'آپریشن سیندور‘ کے بعد بھارت-پاکستان تنازع کے چند ماہ بعد ہوا تھا، جس پر نئی دہلی نے ناراضی دکھائی تھی۔
خیال رہے کی سِکورسکی کے پاکستان دورے کے دوران ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا تھا جس میں پولینڈ نے کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی حمایت کی تھی۔ اور بھارت اسی بات سے ناراض ہے۔
جواب میں پولینڈ کے وزیر خارجہ رادوسلاو سِکورسکی نے روس میں ہونے والی فوجی مشقوں میں بھارت کی شرکت کو ''تشویشناک‘‘ قرار دیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اختلافات مزید نمایاں ہو گئے۔
حیدرآباد ہاؤس میں میٹنگ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سِکورسکی نے کہا، ''ہم سب کے علاقائی خدشات ہوتے ہیں اور پڑوسیوں کے ساتھ مواقع بھی ہوتے ہیں اور چیلنجز بھی۔ اگرچہ دہشت گردی پر دونوں ممالک کا موقف مشترک ہے، لیکن ہمیں روس میں ہونے والی مشقوں میں بھارت کی شرکت پر تحفظات ہیں۔‘‘
اختلافات غیر معمولی
نئی دہلی اور وارسا کے درمیان اس طرح کے اختلافات کا کھل کر اظہار غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے تعلقات حالیہ برسوں میں بہتر ہوئے ہیں اور بھارت و یورپی یونین ایک بڑے تجارتی معاہدے کے قریب ہیں۔
پولینڈ کے وزیر کا یہ دورہ اگست 2024 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے وارسا دورے کے بعد پہلا ہے، جہاں سے وہ یوکرین بھی گئے تھے۔
خبروں کے مطابق سیکورسکی سے ملاقات کے دوران بھارت کے پڑوس کا ذکر کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ پولینڈ کو دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس اپنانا چاہیے۔
خیال رہے کہ سیکورسکی ایک سابق صحافی ہیں، جنہوں نے 1986 سے 1989 کے دوران افغانستان کی جنگ کی رپورٹنگ کی اور پاکستان میں خاصا وقت گزارا۔
جے شنکر نے مزید کہا، ''نائب وزیر اعظم صاحب، آپ اس خطے سے ناواقف نہیں ہیں اور آپ کو طویل عرصے سے چیلنج بنے سرحد پار دہشت گردی کے بارے میں بھی علم ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہم اس ملاقات میں آپ کے اس خطے کے حالیہ دوروں پر بھی بات کریں گے۔ پولینڈ کو دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس دکھانی چاہیے اور ہمارے پڑوس میں دہشت گرد انفراسٹرکچر کو فروغ دینے میں مدد نہیں کرنی چاہیے۔‘‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت نے حالیہ برسوں میں سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں تاکہ یورپی ممالک اور ادارے دہشت گردی کی مالی معاونت اور انتہاپسند گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے پاکستان کے ریکارڈ سے باخبر رہیں۔
پولینڈ کے نائب وزیر اعظم کا بھارت کا یہ دورہ اسی ماہ یورپ کے اعلیٰ رہنماؤں کے دیگر دوروں میں سے ایک ہے، جو اگلے ہفتے یومِ جمہوریہ پریڈ اور یورپی یونین-بھارت سربراہی اجلاس کے لیے یورپی یونین کی اعلیٰ قیادت کے دورے سے پہلے ہو رہے ہیں۔ پچھلے دنوں جرمن چانسلر اور فرانس کے قومی سلامتی کے مشیر بھارت آچکے ہیں۔
پولینڈ اور پاکستان میں قربت
یورپی یونین اور مغربی ممالک کے فوجی اتحاد نیٹو کے رکن پولینڈ کی حالیہ برسوں میں پاکستان سے قربت بڑھتی دکھائی دی ہے۔
اسی سلسلے میں گزشتہ سال اکتوبر میں سیکورسکی نے پاکستان کا دو روزہ دورہ کیا تھا۔ اس سے پہلے وہ 2011 میں بھی پاکستان گئے تھے۔
اس دورے کے دوران پولینڈ کے نائب وزیر اعظم نے توانائی، زرعی غذائی پروسیسنگ، عوامی مالیات اور گرین ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں تعاون کی خواہش ظاہر کی تھی۔
اس وقت دونوں ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق، پاکستان نے اس ملاقات کے دوران جموں و کشمیر کے تنازع پر معلومات فراہم کی تھیں، جس پر دونوں فریقوں نے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق مسئلے کے پرامن حل پر اتفاق کیا تھا۔
پولینڈ اور پاکستان کے تعلقات دوسری جنگِ عظیم کے زمانے سے ہیں۔ اس وقت کراچی اور کوئٹہ میں پولش مہاجرین کے لیے بستیاں قائم کی گئی تھیں۔ ساتھ ہی پولینڈ نے پاکستانی فضائیہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
ادارت: صلاح الدین زین