بھارت سندھ طاس معاہدے کو مسلسل کمزور کر رہا ہے، پاکستان
19 دسمبر 2025
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعے کے روز بھارت پر سندھ طاس معاہدے کو منظم طریقے سے کمزور کرنے کی مسلسل کوشش کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں میڈیا سے خطاب کے دوران کہی۔
ان کے اس بیان سے دو دن قبل ہی اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے بھی دریائے چناب کے بہاؤ میں اچانک تبدیلی پر بھارت سے ایک خط کے ذریعے وضاحت طلب کرنے کی بات کہی تھی۔
جمعے کے روز پریس بریفنگ کے آغاز میں ہی اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ ایک ایسی صورتحال کی طرف توجہ مبذول کروانا چاہتے ہیں، جس سے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔
انہوں نے کہا کہ "ہم نے اس سال اپریل میں بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کا مشاہدہ کیا تھا۔۔۔۔ لیکن اب جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ بھارت کی طرف سے مادی خلاف ورزیاں ہیں، جو سندھ طاس معاہدے کے دل پر حملہ کرتی ہیں اور یہ صرف علاقائی استحکام کے لیے خطرہ نہیں، بلکہ بین الاقوامی قانون کے تقدس کو بھی پامال کرتا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا، "ہم نے رواں برس دو بار دریائے چناب کے بہاؤ میں غیر معمولی، اور اچانک تبدیلیاں دیکھی ہیں۔" انہوں نے بتایا کہ یہ تبدیلی 30 اپریل سے 21 مئی اور سات دسمبر سے 15 دسمبر کے درمیان دیکھی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "پانی کے بہاؤ میں یہ تغیرات پاکستان کے لیے انتہائی تشویشناک ہیں کیونکہ یہ بھارت کی طرف سے دریائے چناب میں یکطرفہ طور پر پانی چھوڑنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ بھارت نے یہ پانی بغیر کسی پیشگی اطلاع کے چھوڑا ہے اور نہ ہی معاہدے کے تحت ضرورت کے مطابق پاکستان کے ساتھ کسی ڈیٹا یا معلومات کے اشتراک کیا ہے۔"
بھارت سے وضاحت طلب
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے، "پانی میں ہیرا پھیری نے ہمارے انڈس واٹر کمشنر کو اپنے بھارتی ہم منصب کو خط لکھنے پر مجبور کیا ہے۔ اس خط میں انڈس واٹر ٹریٹی میں فراہم کردہ اصول و ضوابط کے تحت اس معاملے پر وضاحت طلب کی گئی ہے۔"
ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کی حالیہ کارروائی "واضح طور پر پانی کو ہتھیار بنانے کی مثال پیش کرتی ہے، جس کی طرف پاکستان مسلسل عالمی برادری کی توجہ مبذول کراتا رہا ہے۔"
انہوں نے کہا، "ہمارے زرعی دور کے ایک نازک وقت پر بھارت کی پانی کی ہیرا پھیری سے ہمارے شہریوں کی زندگی اور معاش کے ساتھ ساتھ خوراک اور معاشی تحفظ کو براہ راست خطرہ لاحق ہے۔"
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان توقع کرتا ہے کہ بھارت ملک کے انڈس واٹر کمشنر کے سوالات کا جواب دے گا اور دریا کے بہاؤ میں کسی بھی طرح کی یکطرفہ ہیرا پھیری سے باز رہے گا۔ اور سندھ طاس معاہدے کی دفعات کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں پوری روح کے ساتھ ادا کرے گا۔
بھارتی ڈیم معاہدے کی خلاف ورزی ہیں
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کی حالیہ خلاف ورزیاں ایک مثال ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کے کشن گنگا اور رتلے جیسے ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کی تعمیر میں ڈیزائن کی ایسی خصوصیات شامل ہیں، جو معاہدے کی تکنیکی خصوصیات کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "بھارت معاہدے کی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرتے ہوئے غیر قانونی ڈیموں کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہے۔ ڈیموں کی تعمیر کے ساتھ، پانی کو ذخیرہ کرنے اور اس میں ہیرا پھیری کرنے کی بھارتی صلاحیت بھی بڑھ رہی ہے، جس سے پاکستان کی سلامتی، معیشت اور 240 ملین لوگوں کی روزی روٹی خطرے میں پڑ رہی ہے۔"
ڈار نے کہا کہ بھارت نے معاہدے کے تحت درکار معلومات، ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا اور مشترکہ نگرانی کا اشتراک روک دیا تھا، جس نے پاکستان کو سیلاب اور خشک سالی سے دوچار کیا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کے غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ بھارتی طرز عمل سے پاکستان میں انسانی بحران کو جنم دینے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کی طرف سے جاری پانی کی ہیرا پھیری بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر بھارت کو معاہدے اور ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، تو "ہم ایک بہت خطرناک مثال قائم کر رہے ہیں۔"
اس سے قبل بدھ کے روز وزارت خارجہ کے ترجمان اندرابی نے کہا تھا کہ پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر نے انڈس واٹر ٹریٹی میں بیان کردہ طریقہ کار کے تحت وضاحت طلب کرنے کے لیے اپنے بھارتی ہم منصب سے رابطہ کیا ہے۔
اندرابی نے کہا، "بھارت کی طرف سے دریا کے بہاؤ میں کوئی بھی ہیرا پھیری سے، خاص طور پر ہمارے زرعی دور کے نازک وقت میں، ہمارے شہریوں کی زندگی اور معاش کے ساتھ ساتھ خوراک اور اقتصادی سلامتی کو براہ راست خطرہ لاحق ہے۔"
انہوں نے بھارت پر زور دیا تھا کہ بھارت پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر کے پوچھے گئے سوالات کا جواب دے، دریا کے بہاؤ میں یکطرفہ تبدیلیوں سے گریز کرے اور معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کا احترام کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ آبی معاہدہ ایک "بائنڈنگ بین الاقوامی معاہدہ" ہے جس نے "خطے میں امن و سلامتی اور استحکام کے ایک آلے کے طور پر کام کیا ہے۔"
ادارت: جاوید اختر