1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تاريخایشیا

ہٹلر نے نازیوں کے لیے ’آریائی‘ کی دانستہ تعریف نو کیسے کی؟

مقبول ملک (سوزانے کورڈز)
9 مئی 2026

یہ لفظ بطور اصطلاح آج بھی نازی جرمنی سے جڑا ہے، جس میں نیلی آنکھوں، سنہری بالوں اور سڈول جسامت والے باشندے ہی آئیڈیل ’آریائی‘ شہری سمجھے جاتے تھے۔ لیکن ’آرین‘ یا ’آریائی‘ کی اصطلاح کی ابتدا تو کہیں اور سے ہوئی تھی۔

1933 سے لے کر 1945 تک کے نازی جرمن دور کی ایسی پروپیگنڈا تصاویر میں نارڈک نسل کے افراد کو نازی آئیڈیلز کی مجسم مثالوں کے طور پر دکھایا جاتا تھا
1933 سے لے کر 1945 تک کے نازی جرمن دور کی ایسی پروپیگنڈا تصاویر میں نارڈک نسل کے افراد کو نازی آئیڈیلز کی مجسم مثالوں کے طور پر دکھایا جاتا تھاتصویر: Scherl/SZ Photo/picture alliance

نازی نظریات میں 'آرین‘ (Aryan) خد و خال اور نسلی پہچان کو بہت اہمیت دی جاتی تھی۔ نیلی آنکھوں، سنہری بالوں، لمبے قد اور کسی ایتھلیٹ کی طرح کے مضبوط جسم والے ایسے باشندے جن کا اپنا ایک مخصوص نسلی تشخص تھا۔ اس پہچان کو نازی جرمنی سے جوڑ دیا گیا تھا اور اس کا ذکر آج بھی ماضی کے اسی نظام کے حوالے سے ہوتا ہے، حالانکہ اس کا آغاز کہیں اور سے ہوا تھا۔

بہت سے دیگر جرمنوں کی طرح اڈولف ہٹلر کے بھی نہ تو بال سنہری تھے اور نہ ہی وہ کوئی دراز قد انسان تھا۔ نازیوں کی طرف سے آئیڈیل قرار دیے جانے والے 'آریائی‘ شہریوں کو نسلی طور پر شمالی یورپ سے جڑے ہوئے بتایا جاتا تھا۔ لیکن تب بھی یہ کسی مسلمہ اصول سے زیادہ ایک استثنا ہی تھا۔

نازی جرمن دور میں شجرہ نسب بہت اہم ہو گیا تھا: 1935 سے تمام جرمن شہریوں کے لیے لازمی تھا کہ وہ اپنا 'آریائی سرٹیفیکیٹ‘ مہیا کریں۔ اس سے مراد ایک ایسی شناختی دستاویز تھی، جو یہ ثابت کرے کہ ان کی گزشتہ تین نسلوں میں کسی کا بھی تعلق یہودیوں یا روما نسل کے باشندوں سے نہیں تھا۔ سرکاری ملازمین، ڈاکٹروں اور وکلاء کو تو یہ 'آرین ثبوت‘ اپنا پیشہ وارانہ کام شروع کرنے سے دو سال قبل مہیا کرنا ہوتا تھا۔

1941 میں یونانی دارالحکومت ایتھنز میں اکروپولس کے تاریخی مقام پر نازی جرمنی کے قابض فوجی سواستیکا والا پرچم لہراتے ہوئے: سواستیکا بھی نازی سوچ کی ایسی علامت تھی، جو اپنی اصل میں واضح طور پر قدیم بھارت سے جڑی ہوئی تھیتصویر: United Archives International/IMAGO

جرمنوں کے 'اعلیٰ اور برتر نسل‘ ہونے کا اعلان

نازیوں نے جرمنوں کے ایک 'اعلیٰ اور برتر نسل‘ ہونے کا اعلان کر دیا تھا اور یہودیوں کو 'کم تر نسل‘ کے باشندے سمجھا جاتا تھا۔ اسی بنیاد پر نازی دور ہی میں بعد ازاں یہودیوں کو منظم طور پر سماجی دھارے سے نکال دینے اور ان کے قتل عام کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ اپنی پروپیگنڈا فلموں میں نازی دعوے کرتے تھے کہ یہودی عالمی نظام کو تباہ کرنا اور 'اعلیٰ اور برتر نسل‘ پر غلبہ چاہتے تھے۔

نازیوں نے چند دیگر نسلی گروپوں کو بھی 'آریائی‘ خدوخال سے جوڑ دیا تھا، خاص طور پر شمالی یورپ کے نارڈک اور اسکینڈے نیوین باشندوں کو۔ پھر جب انہیں مثلاﹰ لیٹویا یا پولینڈ میں سنہری بالوں اور نیلی آنکھوں والے بچے نظر آتے تھے تو انہیں 'لیبنزبورن‘ (Lebensborn) نامی ایک تنظیم کے پروگرام کے تحت ایسے گھروں میں پرورش کے لیے بھیج دیا جاتا تھا، جہاں انہیں 'جرمن بنایا جاتا تھا‘ یا ان کی 'جرمنائزیشن‘ کی جاتی تھی۔

اس تنظیم کا قیام ہٹلر کے 'شُٹش شٹافل‘ یا ایس ایس دستوں کے سربراہ ہائنرش ہِملر کی سوچ کا نتیجہ تھا، جس نے جرمنی کی آبادی کو 'نسلی طور پر زیادہ باقدر‘ بنانے کے لیے ایسا کیا تھا۔ 'لیبنزبورن‘ نامی تنظیم کے قیام کی عملی وجہ نیشنل سوشلسٹ دور میں نسلی خالص پن کی ترویج تھی۔

قدیم ایران کے بادشاہ داریوس، جو خود اپنے مطابق ایک آریائی تھے، کا مقبرہ (تصویر) موجودہ ایران میں نقش رستم کے مقام پر ہےتصویر: Evaldas Mikoliunas/imageBROKER/picture alliance

نازیوں نے بعد میں 'آریائی‘ پہچان کو 'آریائے جانے کے عمل‘ یا 'آریانائزیشن‘ کی بنیاد بھی بنایا۔ اس عمل کے دوران یہودیوں کے کاروبار اور دیگر املاک ضبط کر کے غیر یہودیوں کو منتقل کر دیے جاتے تھے۔

'آریائی باشندوں‘ کی حقیقی ابتدا

نازی جرمن دور میں 'آرین‘ یا 'آریائی‘ کی اصطلاح تو عام تھی، مگر نسلی تحقیق کرنے والے نازی سائنسدان اس کے بجائے 'جرمن یا اس سے جڑے ہوئے خون‘ کی لسانی ترکیب استعمال کرتے تھے۔ ماہرین آثار قدیمہ کے دریافت کردہ حقائق کی رو سے 'آرین‘ یا 'آریائی‘ کی اصطلاح تو دو ہزار سال سے بھی زیادہ عرصے سے موجود تھی۔

قدیم ایران کے بادشاہ داریوس اول نے تو (موجودہ ایران کے صوبے فارس میں ) نقش رستم کے مقام پر ایک ایسا مقبرہ بھی بنوایا تھا، جو ایک چٹان کو کاٹ کر بنایا گیا تھا اور جس پر لکھوایا گیا تھا: ''میں داریوس ہوں، ایک عظیم بادشاہ، ایک ایرانی، ایک ایرانی کا بیٹا، ایک آریائی، آریائی اجداد کی نسل سے تعلق رکھنے والا۔‘‘

برطانوی مصنف ہوسٹن سٹیوارٹ چیمبرلین (تصویر) کے سامیت دشمن نظریات نے اڈولف ہٹلر پر بہت زیادہ اثرات چھوڑے تھےتصویر: Scherl/SZ Photo/picture alliance

'آرین‘ یا 'آریائی‘ کا لفظ سنسکرت زبان میں لکھی ہوئی قدیم لیکن مقدس مذہبی تحریروں میں بھی ملتا ہے۔

شروع میں 'آریائی‘ کا مطلب 'سماجی طور پر اہم‘ یا 'قابل عزت‘ ہوتا تھا اور یہ اصطلاح قدیم بھارت اور قدیم ایران کے لوگ خود اپنے لیے استعمال کرتے تھے۔

ان کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ ایسے خانہ بدوشوں کی بعد میں آنے والی نسلوں کے لوگ تھے، جو موجودہ یوکرین، قزاقستان اور جنوبی روس کے علاقوں سے نقل مکانی کر کے ماضی کے بھارت اور ایران میں آباد ہوئے تھے۔

پھر سائنسدانوں نے یورپی زبانوں اور فارسی اور سنسکرت جیسی زبانوں کے درمیان مماثلتیں دریافت کرنے کے بعد 'آریائی‘ باشندوں کی ایسے انسانوں کے طور پر درجہ بندی کی تھی، جو انڈویورپی زبانیں بولنے والے بڑے لسانی گروپ کا حصہ تھے۔

ہٹلر کی کتاب ’مائن کامپف‘ یا ’میری لڑائی‘ ایسی نسل پرستانہ تصنیف ہے، جو نفرت انگیز بیانات اور پرتشدد تصورات سے بھری پڑی ہےتصویر: Daniel Karmann/dpa/picture alliance

'آریائی‘ کی اصطلاح کا نازیوں کے ہاتھوں غلط استعمال

آج نازی جرمن دور کے خاتمے کے بھی کئی عشرے بعد یہ بات سائنسی بنیادوں پر متعدد حوالوں سے ثابت ہو چکی ہے کہ انسانوں کی ''نسلیں‘‘ صرف حیاتیاتی پہلوؤں سے ہی نہ تو تخلیق پاتی ہیں اور نہ ہی ختم ہوتی ہیں۔

لیکن نازیوں نے یہ کیا کہ انہوں نے 'آریان‘ یا 'آریائی‘ لفظ کو بطور اصطلاح اپنے غیر انسانی نظریات کو بظاہر قانونی رنگ دینے کے لیے غلط استعمال کیا۔

یہ کام ہٹلر کی قیادت میں صرف نازی جرمنوں نے ہی نہیں کیا تھا۔ یہی کام اور اس اصطلاح کا یہی غلط استعمال آج کے دور میں بھی کئی معاشروں کے نسل پرست حلقے اس لسانی ترکیب سے غلط مفہوم اور معنی اخذ کرتے ہوئے جاری رکھے ہوئے ہیں اور اسی غلطی کو حتمی سچ بنا کر پیش کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔

یہ مضمون پہلی بار جرمن زبان میں شائع ہوا۔

ادارت: جاوید اختر

مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں