1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارت: مدھیا پردیش میں ’گائے کابینہ‘ تشکیل

جاوید اختر، نئی دہلی
18 نومبر 2020

بھارتی صوبے مدھیا پردیش کی بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت نے گایوں کے تحفظ کے لیے ملک میں پہلی مرتبہ اپنی نوعیت کی ایک خصوصی ’گائے کابینہ‘ تشکیل دی ہے۔ تاہم اپوزیشن نے اسے ڈرامہ قرار دیا ہے۔

Indien heilige Kuh
تصویر: Sumit Saraswat/Pacific Press/picture-alliance

ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی ریاست مدھیہ پردیش کی شیو راج سنگھ چوہان حکومت نے بھارت میں اپنی نوعیت کی پہلی 'گائے کابینہ‘ تشکیل دیتے ہوئے 22 نومبر کو گائیوں کے لیے مخصوص پوجا ’گوپاشٹمی‘ کے دن کابینہ کی پہلی میٹنگ طلب کرنے کا آج بدھ کے روز اعلان کیا۔

وزیر اعلی شیو راج سنگھ چوہان نے ٹوئٹر پر ہندی زبان میں اس نئی 'گائے کابینہ‘ کی تشکیل کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ریاست میں گائیوں کے تحفظ اور فروغ کے لیے ایک کابینہ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور اس کابینہ کی پہلی میٹنگ 22 نومبر کو گوپاشٹمی کے روز، آگرمالوا میں واقع گائیوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ میں منعقد کی جائے گی۔

ریاستی حکومت کے اعلان کے مطابق مویشی پروری، جنگلات، پنچائیت، دیہی ترقیات، ریونیو، داخلہ اور کسانوں کے بہود کے محکمے اس کابینہ کا حصہ ہوں گے۔

’گائے ایک پائیدار معیشت ہے‘

مدھیہ پردیش میں بی جے پی کے ترجمان دیپک وجے ورگیہ نے بتایا کہ اس فیصلے کا ایک مقصد گائے اور اس کے ذریعہ حاصل ہونے والے وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دیہی روزگار کے متبادل ذرائع پیدا کرنا بھی ہے۔

ان کا کہنا تھا”صرف صنعت کاری ہی روزگار کا واحد حل فراہم نہیں کرسکتی۔ گائے سے وابستہ معیشت ایک پائیدار معیشت ہے اور پچھلے دو ہزار برسوں سے جاری ہے۔ اس کے علاوہ گائے پر مرکوز معیشت ماحول دوست بھی ثابت ہوگی۔"

’یہ دکھاوا ہے‘

مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی اور کانگریسی رہنما کمل ناتھ نے 'گائے کابینہ‘ کے اعلان پر بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا”سبھی جانتے ہیں کہ اپنی سابقہ 15سال کی اور موجودہ 8 ماہ کی حکومت کے دوران شیو راج چوہان حکومت نے گؤ ماتا کی حفاظت اور فروغ کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔ اس کے برخلاف سابقہ کانگریس حکومت نے فی گائے 20 روپے کی جس مراعاتی رقم کا اعلان کیا تھا اسے بھی کم کر دیا۔“

کمل ناتھ کا مزید کہنا تھا کہ بی جے پی حکومت نے گائیوں کے تحفظ اور فروغ کے لیے اپنے انتخابی منشور میں جو وعدے کیے تھے ان میں سے کسی ایک پر بھی عمل کرنے کے بجائے اب ایک نیا اعلان کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس کمل ناتھ کی قیادت والی کانگریس کی ریاستی حکومت نے ذبیجہ گائے ترمیمی قانون کو منظوری دی تھی جس میں گائے کے نام پر تشدد میں ملوث قصور واروں کو چھ ماہ سے تین برس تک جیل اور 25 ہزار سے 50 ہزارر وپے تک کے جرمانے کی سزا کی گنجائش ہے۔

قانون میں یہ ترمیم گائے کے نام پر ہونے والی لنچنگ سے پیدا شدہ صورت حال کے بعد کی گئی تھی۔ 2004 میں بی جے پی حکومت کی طرف سے منظور کردہ قانون کی رو سے ریاست میں گائے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کی اجازت نہیں تھی اور گائے لے کر جانے والی گاڑیوں کو ریاست سے ہوکر گزرنے سے پہلے اعلی حکام سے خصوصی اجازت نامے لینے پڑتے تھے۔

دہلی کے قریب دادری قصبے میں محمد اخلاق کے رشتے دار ماتم کناں، ستمبر 2015میں ہندو شدت پسندوں نے گائے ذبح کرنے کی افواہ پر اخلاق کوپیٹ پیٹ کرہلاک کردیا تھا۔تصویر: Reuters/Stringer

سوشل میڈیا پر بی جے پی سے تعلق رکھنے والا حلقہ جہاں 'گائے کابینہ‘ کی تعریف کررہا ہے وہیں ایک بڑا حلقہ اسے سیاسی ڈرامہ قرار دے رہا ہے۔ سنجے کمار رگھوونشی نامی ایک صارف نے ٹوئٹر پر لکھا ’ماضی میں شیو راج چوہان حکومت نے زرعی کابینہ تشکیل دی تھی لیکن وہ کابینہ آج تک کوئی قابل ذکر کام نہیں کرسکی۔‘

مدھیہ پردیش حکومت نے گوکہ 'گائے کابینہ‘ کا اعلان کردیا ہے تاہم اس کے عہدوں، اختیارات اور ذمہ داریوں کے حوالے سے تفصیلات فی الحال جاری نہیں کی ہیں۔

خیال رہے کہ بھارت میں گائے ایک انتہائی حساس سیاسی موضوع ہے۔ حالیہ برسوں اور بالخصوص 2014میں مودی حکومت کے اقتدارمیں آنے کے بعد سے درجنوں افراد کو گائے کے تحفظ کے نام پرقتل کیا جاچکا ہے۔ سیاسی جماعتوں اور رہنماوں کی سرپرستی کی وجہ سے قتل کے واقعات میں ملو ث بیشتر افراد آسانی سے بچ جاتے ہیں۔ ہندو قوم پرست جماعتیں بالخصوص بھارتیہ جنتاپارٹی گائے کے نام پر ہندووں کی سیاسی صف بندی کرنے میں بڑی حد تک کامیاب دکھائی دیتی ہے۔

گائے نے بھارتی معاشرے کو تقسیم کر دیا

03:24

This browser does not support the video element.

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں
ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں