بھارت میں امریکہ مخالف جذبات خاموشی سے بڑھتے ہوئے
28 اپریل 2026
گزشتہ ہفتے نئی دہلی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا پر دیے گئے ان بیانات کو ''نامناسب‘‘ قرار دے دیا، جن میں انہوں نے بھارت کو ''جہنم جیسی جگہ‘‘ کہا تھا۔
بھارتی وزارت خارجہ نے کہا، ''یہ بیانات ہرگز بھارت اور امریکہ کے تعلقات کی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے، جو طویل عرصے سے باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی رہے ہیں۔‘‘
یہ تبصرے ایسے وقت پر سامنے آئے، جب بھارت میں معاشی دباؤ کے وسیع تر عوامل امریکہ کے حوالے سے عوامی جذبات پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
بھارتی امریکی تعلقات
بھارت اور امریکہ کے تعلقات مشترکہ معاشی، سکیورٹی اور ٹیکنالوجی مفادات پر قائم ہیں۔ لیکن امریکہ کے بارے میں بھارت کا کبھی پرامید اور مثالی تصور اب بتدریج بدل رہا ہے۔
گزشتہ سال امریکی صدر اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان اس وقت سفارتی کشیدگی پیدا ہو گئی تھی، جب صدر ٹرمپ نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پہلگام حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا اور خود کو اس کا ثالث قرار دیا تھا۔
جولائی 2025 میں امریکہ نے اعلان کیا کہ وہ بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد درآمدی محصولات عائد کرے گا،جو دنیا میں اپنی نوعیت کی بلند ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔ اگست 2025 میں دہلی پالیسی گروپ تھنک ٹینک کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں سابق سفارتکار ہیمنت کرشن سنگھ نے کہا تھا، ''امریکہ اور بھارت کے تعلقات ایک اہم موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ''باہمی اعتماد کو نقصان پہنچا ہے، اعتماد متزلزل ہو گیا ہے، غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، اور بھارت میں عوامی حمایت کمزور پڑ گئی ہے۔‘‘
گزشتہ ماہ نئی دہلی میں امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈو نے کہا، ''بھارت کو سمجھنا چاہیے کہ ہم وہی غلطیاں بھارت کے ساتھ نہیں دہرائیں گے جو ہم نے چین کے ساتھ کی تھیں۔‘‘
سابق بھارتی سفیر برائے امریکہ نوجیت سرنا کے مطابق، ''یہ گزشتہ ایک سال میں ہونے والے واقعات کا نتیجہ تھا، اور امریکی نائب وزیر خارجہ کا اس طرح کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ بھارت کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔‘‘
وہ امریکی اقدامات جن سےعام بھارتی شہری متاثر ہوئے
ماہرین نے مزید کئی واقعات کی نشاندہی کی ہے، جن میں ایچ ون بی ویزا پروگرام پر سخت پابندیاں شامل ہیں، نیز صدر ٹرمپ سے وابستہ انفلوئنسرز کی جانب سے بھارت کے بارے میں نسلی تعصب پر مبنی بیانیوں کو فروغ دینا، اور خود ٹرمپ کی طرف سے بھارت کو عارضی طور پر روسی تیل خریدنے کی 'اجازت‘ دینا بھی شامل ہے۔
صحافی کیرن ریبیلو کا کہنا ہے کہ ایران جنگ نے ''صورتحال کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔‘‘
انہوں نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا، ''بھارتی روپیہ تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا، اسٹاک مارکیٹ میں خسارے ہوئے، سپلائی چین متاثر ہوئیں۔ عوام کی زندگیوں پر براہ راست اثرات پڑے، اور اس سے بھارت میں کوئی بھی محفوظ نہیں رہا۔‘‘
بھارت کے دائیں بازو کے ووٹرز، جن میں بڑی تعداد چھوٹے، درمیانے اور بڑے کاروباری افراد پر مشتمل ہے، نظریاتی مماثلت کی وجہ سے بڑی حد تک ٹرمپ کے حامی رہے ہیں۔
ریبیلو کے مطابق، ''دونوں مذہب پر زور دیتے ہیں، دونوں قدامت پسند اور تجارت کے حامی ہیں، اور دونوں مسلم اقلیتوں کو دشمن کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘‘ تاہم روایتی حمایت اب خاموش مایوسی میں بدل رہی ہے کیونکہ لوگوں کے کاروبار متاثر ہو رہے ہیں۔
امریکہ سے متعلق بھارتی میڈیا کے موقف میں تبدیلی
نریندر مودی حکومت نے موجودہ ٹرمپ انتظامیہ کے حوالے سے عمومی طور پر محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے۔
سرنا نے کہا، ''بھارت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس تعلق کو برقرار رکھنے کے لیے کام جاری رکھے گا جو مسلسل کوششوں کے نتیجے میں تعمیر ہوا ہے، تاکہ سب کچھ ضائع نہ ہو جائے۔‘‘ حتیٰ کہ بھارت نے ایسے مواقع پر بھی تحمل کا مظاہرہ کیا، جب سخت موقف اپنانا جائز ہو سکتا تھا۔
تاہم جہاں حکومت نے احتیاط برتی، وہیں حکومت کے حامی انفلوئنسرز نے امریکی صدر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان انفلوئنسرز نے ایسے مواد شائع کیے جو ’’اچھے دوست‘‘ والے بیانیے سے ہٹ کر ہیں۔ کچھ ویڈیوز میں تو ٹرمپ کی ذہنی حالت پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔
سندیپ نروانی، جو بھارت میں قائم اے آئی ریسرچ فرم 'نیریٹیو ریسرچ لیب‘ کے شریک بانی ہیں، نے کہا، ''امریکہ مخالف جذبات حالیہ عرصے میں یقیناً اپنی بلند ترین سطح پر ہیں۔‘‘
نروانی کے مطابق مرکزی دھارے کے بھارتی ٹی وی چینلز نے بھی اپنا پہلے والا ٹرمپ نواز موقف چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا، ''ماضی میں ٹی وی چینلز زیادہ تر امریکہ کے حامی تھے، لیکن اب کوریج میں واضح توازن محسوس کیا جا سکتا ہے۔‘‘
موجودہ صورت حال کا بھارتی امریکی تعلقات پر آئندہ اثر
فی الحال بھارت میں عوامی جذبات کی تبدیلی سے امریکی بھارتی تعلقات پر بہت زیادہ منفی اثر پڑنے کا امکان نہیں ہے۔ تاہم ظاہری سطح کے نیچے جاری تبدیلی کو نظر انداز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
بہت سے بھارتیوں کے لیے امریکہ اب صرف ایک شراکت دار یا قابل تقلید ماڈل نہیں رہا بلکہ ایک ایسی طاقت بن گیا ہے، جس کے فیصلے اس کی اپنی سرحدوں سے بہت دور بھی عام لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔
یہ نئی سوچ، جو نہ صرف جغرافیائی سیاست بلکہ حقیقی معاشی مشکلات سے بھی جنم لے رہی ہے، ممکن ہے کہ کسی سفارتی تنازعے سے کہیں زیادہ دیرپا ثابت ہو۔
ادارت: مقبول ملک