1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارت میں بجلی سے چلنے والے رکشے اور بسیں متعارف

بینش جاوید AFP
20 ستمبر 2017

بھارت میں ایک لاکھ بیٹری سے چلنے والی مسافر بسیں اور رکشے چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بھارت سن 2030 تک تمام گاڑیوں کو بجلی سے چلنے والا بنانا چاہتا ہے۔

Indien Elektro-Rikscha
تصویر: Getty Images/AFP/M. Kiran

بھارت کا شمار دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ممالک میں ہوتا ہے۔ یہ ملک اب روایتی ایندھن کے استعمال کو ترک کرنے کے پلان پر کاربند ہے۔ تجزیہ کاروں کی رائے میں بھارت کا سن 2030 تک تمام گاڑیوں کو بیٹری سے چلنے والا بنانا بہت مشکل ہے۔ بھارت میں گاڑیوں کا دھواں فضائی آلودگی کا بہت بڑا باعث ہے اور  ماحولیاتی آلودگی کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کی رائے میں اس کی وجہ سے سالانہ لگ بھگ 1.2 ملین ہلاکتیں ہو جاتی ہیں۔

صرف بھارت ہی نہیں برطانیہ اور فرانس بھی تمام گاڑیوں کو بجلی سے چلنے والا بنانا چاہتے ہیں۔ ان دو ممالک  نے سن 2040 تک تمام گاڑیوں کو بجلی سے چلنے والا بنائے جانے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن اب تک دنیا بھر میں صرف تین فیصد ہی ایسی گاڑیاں ہیں جو یا تو بجلی کی مدد سے چلتی ہیں یا پھر ماحول دوست ہائبرڈ گاڑیاں ہیں۔ تجزیہ کار عبدالمجید کا کہنا ہے،’’ تمام گاڑیوں کو بجلی سے چلائے جانا والا بنانا ایک مشکل عمل ہے۔ اس کام میں بہت زیادہ چینلجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘

ماہندرا کو توقع ہے کہ اس سال رکشوں سمیت وہ پانچ ہزار بجلی سے چلنے والی گاڑیاں فروخت کر پائیں گےتصویر: Getty Images/AFP/M. Kiran

بھارتی حکومت یہ نہیں چاہتی کہ وہ گاڑیوں کو چارج کرنے والے اسٹیشنز میں بے تحاشہ سرمایہ کاری کر دے بلکہ وہ یہ چاہ رہی ہے کہ توانائی کی نجی کمپنیاں ایسے اسٹیشنز میں سرمایہ کاری کریں جہاں صارفین اپنی پرانی بیٹریوں کو نئی بیٹریوں کے ساتھ تبدیل کراسکیں۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق غیر ملکی کمپنیاں ابھی بھارت میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش نہیں رکھتیں۔ جس کی وجہ سے بھارت کے کار ساز ادارے ماہندرا کو بجلی کی گاڑیوں کی پیداوار بڑھانے کا موقع ملے گا۔ ماہندرا بھارت کی واحد کمپنی ہے جو بجلی سے چلنے والی گاڑیاں بنا رہی ہے۔ ماہندرا کو توقع ہے کہ اس سال رکشوں سمیت وہ پانچ ہزار بجلی سے چلنے والی گاڑیاں فروخت کر پائیں گے۔

شمسی توانائی کی مدد سے پانی حاصل کیا جاسکتا ہے

02:53

This browser does not support the video element.

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں