1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستبنگلہ دیش

بھارت میں شیخ حسینہ کی تقریر پر بنگلہ دیش کا شدید ردِعمل

کشور مصطفیٰ اے ایف پی کے ساتھ
25 جنوری 2026

بنگلہ دیش نے اتوار کو بھارت پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات پر سخت حیران ہے کہ نئی دہلی نے بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کو نئی دہلی میں خطاب کرنے دیا۔

2024 میں ڈھاکہ میں شیخ حسینہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے
بنگلہ دیش نے کہا کہ بھارت کا شیخ حسینہ کو نئی دہلی میں خطاب کرنے دینا ایک غیر متوقع اور حیران کن فیصلہ ہےتصویر: Indranil Mukherjee/AFP

بنگلہ دیشی حکومت کے مطابق وہ بھارت کی جانب سے شیخ حسینہ کے عوامی خطاب کی اجازت دیے جانے پر حیرت زدہ اور پریشان ہے۔ بنگلہ دیش نے اپنے ردِعمل میں کہا کہ اسے سمجھ نہیں آرہی کہ بھارت نے کس بنیاد پر شیخ حسینہ کو نئی دہلی میں تقریر کا موقع دیا۔ بنگلہ دیش نے کہا کہ بھارت کا شیخ حسینہ کو نئی دہلی میں خطاب کرنے دینا ایک غیر متوقع اور حیران کن فیصلہ ہے۔

شیخ حسینہ نے، جو اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد ملک سے فرار ہو کر بھارت چلی گئی تھیں، گزشتہ ہفتے دہلی کے ایک پریس کلب میں آڈیو خطاب کے ذریعے پہلی مرتبہ عوام سے رابطہ کیا۔ اس خطاب کو، ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں نے دیکھا۔ ان کی یہ تقریر آن لائن بھی نشر کی گئی۔ حسینہ کی برطرفی کے بعد سے بھارت کی جانب سے اُن کی حمایت نے دونوں جنوبی ایشیائی پڑوسی ممالک کے تعلقات میں تناؤ پیدا کر دیا ہے۔

 

خالدہ ضیا کون تھیں؟

01:12

This browser does not support the video element.

بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے نومبر 2024 میں انہیں سنگین الزامات جن میں قتل کے احکامات دینا اور قتل و غارت گری روکنے میں ناکامی بھی شامل تھی، کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔

ڈھاکہ کی وزارتِ خارجہ نے سخت لہجے میں بیان جاری کرتے ہوئے کہا، ’’بھارت میں حسینہ کو خطاب کی اجازت دینا ''بنگلہ دیش کے عوام اور حکومت کی توہین‘‘ ہے۔

16 نومبر 2025 کو ڈھاکہ، بنگلہ دیش میں (نیشنل اسٹوڈنٹ پاور) کے اراکین نے ایک مشعل مارچ نکالا، جس میں نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کو زیادہ سے زیادہ سزا دینے کا مطالبہ کیا گیاتصویر: Suvra Kanti Das/ABACA/picture alliance

ڈھاکہ حکومت نے شیخ حسینہ کو  ''قاتل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی کا یہ اقدام دونوں ممالک کے تعلقات کو ''شدید نقصان‘‘ پہنچا سکتا ہے۔

بنگلہ دیش میں 12 فروری کو عام انتخابات متوقع ہیں، اور اقتدار سے  حسینہ کی برطرفی  کے بعد ملک میں سیاسی بے چینی بدستور جاری ہے۔ اپنے خطاب میں حسینہ نے عبوری وزیراعظم محمد یونس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی نگرانی میں ''آزاد اور منصفانہ انتخابات‘‘ کا انعقاد ممکن نہیں۔

بنگلہ دیش کی جانب سے بھارت کو حسینہ کی واپسی اور  حوالگی کی درخواست بھی دی جا چکی ہے، جس پر ابھی تک نئی دہلی نے کوئی باضابطہ ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔

بھارتی ناقد اسٹوڈنٹ لیڈر کے قتل پر بنگلہ دیش میں مظاہرے

02:51

This browser does not support the video element.

یاد رہے کہ گزشتہ سال نومبر میںبنگلہ دیش کے امور خارجہ کے نگران توحید حسین نے   صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ڈھاکہ حکومت نے شیخ حسینہ کی حوالگی کے لیے نئی دہلی کو ایک اور خط ارسال کیا ہے۔ انہوں نے خط کے متن کی تفصیلات تو نہیں بتائی تھیں، تاہم ڈھاکہ کے مقامی اخبار 'پروتھوم الو‘ کے مطابق شیخ حسینہ کے فرار کے بعد سے ان کی حوالگی کے لیے کی جانے والی یہ تیسری اور موت کی سزا سنائے جانے کے بعد پہلی سرکاری درخواست تھی۔

شیخ حسینہ نے، جو اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد ملک سے فرار ہو کر بھارت چلی گئی تھیںتصویر: K M Asad/AFP

بھارتی وزارتِ خارجہ نے تاہم اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔

ڈھاکہ  کا کہنا ہے کہ نئی دہلی پر سابق رہنما کو ان کے ملک کے حوالے کرنے کی ''لازمی ذمہ داری‘‘ عائد ہوتی ہے، جنہیں 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی خونی بغاوت کے خلاف مہلک کریک ڈاؤن پر سزائے موت سنائی گئی تھی۔

اس واقع کی ایک تاریخی اہمیت ہے کیونکہ پہلی مرتبہ کوئی سابق بنگلہ دیشی سربراہِ حکومت، بھارت میں مقیم ہے، جس ے اپنے ہی ملک میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔

ادارت: افسر اعوان

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں