1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارت میں خواتین کھیلوں کو نئی بلندیوں تک لے جانے کےلیے تیار

جاوید اختر (مصنف: جان ڈورڈن)
25 جنوری 2026

حالیہ برسوں میں بھارت میں خواتین کے کھیلوں میں نمایاں ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس ترقی کو سرکاری اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ مضبوط رول ماڈلز بھی تقویت دے رہے ہیں۔

بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم
بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم نے 2025 ورلڈ کپ جیت کر قومی ہیرو کا درجہ حاصل کیاتصویر: Francis Mascarenhas/REUTERS

کرکٹ کے علاوہ بھارت کو طویل عرصے تک عالمی کھیلوں کے میدان میں کم کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والا ملک سمجھا جاتا رہا ہے، جس کی مثال 2024 پیرس اولمپکس میں 71ویں رینکنگ ہے۔ تاہم مختلف کھیلوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت اس صورتحال کو بدلنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

بھارت میں رجسٹرڈ خواتین فٹبال کھلاڑیوں کی تعداد 2016 میں 8,683 تھی جو گزشتہ سال بڑھ کر 37,829 ہو گئی۔ نیشنل جیولن چیمپئن شپ میں جونیئر کھلاڑیوں کی شرکت 2019 میں 31 تھی جو بڑھ کر 137 ہو گئی، جبکہ شوٹنگ میں خواتین کھلاڑیوں کی تعداد اسی عرصے میں 1,033 سے بڑھ کر 2,181 ہو گئی۔ ایشین گیمز میں 2002 میں خواتین نے بھارت کے صرف 36 فیصد تمغے جیتے تھے، جو 2023 میں بڑھ کر 43 فیصد ہو گئے۔

ترکا سری واستو، جنہوں نے 2010 ایشین گیمز میں ٹینس میں بھارت کی نمائندگی کی، نے ان تبدیلیوں کو قریب سے دیکھا ہے۔

انہوں نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا، ''اگر آپ پیرس اولمپکس اور وہاں ابھرنے والے کھلاڑیوں کو دیکھیں تو آپ کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ خواتین نظر آئیں گی۔‘‘

’’جب میں اپنی ریاست اتر پردیش کی صورتحال دیکھتی ہوں تو زیادہ تر ٹاپ ایتھلیٹس خواتین ہی ہیں۔‘‘

منیشا کلیان (دائیں) بھارت کی مشہور ترین فٹبال کھلاڑیوں میں سے ایک ہیںتصویر: Thananuwat Srirasant/Getty Images

رول ماڈلز

2025 کی آئی سی سی ورلڈ کپجیتنے والی کرکٹ ٹیم، جو گھریلو نام بن چکی ہے، کے ساتھ ہی اب فٹبالر منیشا کلیان اور اولمپک تمغہ یافتہ کھلاڑیوں جیسے مانو بھاکر (شوٹنگ)، میرا بائی چانو (ویٹ لفٹنگ)، پی وی سندھو (بیڈمنٹن) اور لوولینا بورگوہین (باکسنگ) بھی ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے لیے رول ماڈلز ہیں۔

ممبئی میں مقیم اسپورٹس ڈاکیومنٹری میکر انیشا گھوش کا ماننا ہے کہ بھارتی خواتین اب پچھلی نسل کی پیش رو خواتین کھلاڑیوں کے ثمرات حاصل کر رہی ہیں۔

انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، خواتین اور کھیل کود کو عام طور پر ایک ساتھ نہیں رکھا جاتا تھا کیونکہ برصغیر زیادہ تر پدرسری نظام کے تحت چلتا رہا ہے، مگر خواتین رول ماڈلز کی آمد نے فرق پیدا کیا ہے۔‘‘

گھوش نے مزید کہا کہ کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والی کھلاڑیوں نے بھی بیڈمنٹن لیجنڈ سائنا نہوال کو اپنی تحریک قرار دیا ہے، جنہوں نے 2012 لندن اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔ اسی طرح ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا بھی تھیں، جنہوں نے ایک دہائی پر محیط پیشہ ورانہ کیریئر میں چھ بڑے ٹائٹلز جیتے۔

انہوں نے کہا،''ثانیہ مرزا کئی دقیانوسی تصورات توڑ رہی تھیں، ایک خاتون، ایک مسلم خاتون، اسپورٹس میں حصہ لے رہی تھیں اور اسکرٹ پہن رہی تھیں۔ اگر آپ کچھ مخصوص کمیونٹیز سے تعلق رکھتے ہوں تو آپ کو ایک خاص انداز میں دیکھا جاتا ہے، اور ثانیہ کو اس حوالے سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔‘‘

’’وہ کورٹ کے اندر اور باہر اپنی شرائط پر زندگی گزارتی تھیں۔ وہ واقعی ایک زبردست شخصیت تھیں۔ جب میں بڑی ہو رہی تھی تو میں سوچتی تھی، 'یہ کون خاتون ہے جو کورٹ پر غلبہ حاصل کیے ہوئے ہے‘ اور صحافیوں کے فضول سوالات کا سامنا کر رہی ہے؟‘‘

ثانیہ مرزا نے ویمنز ڈبلز اور مکسڈ ڈبلز میں چھ بڑے ٹائٹلز جیتے ہیںتصویر: picture alliance/ZUMA Press

میڈیا اور تاثر

ثانیہ مرزا جیسی اسٹار کھلاڑیوں نے ملک میں سوچ بدلنے میں مدد کی۔

سری واستو نے کہا،''یہ خاص طور پر دیہی علاقوں میں بہت اہم ہے کیونکہ کھیل شروع کرنے والی زیادہ تر خواتین کا تعلق دیہات یا چھوٹے شہروں سے ہوتا ہے، نہ کہ بڑے شہروں سے۔‘‘

’’جب ان خواتین نے دوسری خواتین کو تمغے جیتتے دیکھا اور میڈیا میں ان کی کہانیاں دیکھیں تو بہت سوں کی سوچ بدل گئی۔ خاندانوں نے دیکھا کہ لڑکیاں کھیل کو بطور پیشہ اختیار کر سکتی ہیں۔‘‘

بھارت کی ورلڈ کپ جیتنے والی کرکٹ ٹیم نے بیڈمنٹن لیجنڈ سائنا نہوال کو اپنا رول ماڈل قرار دیا ہےتصویر: Lu Binghui/Imaginechina/imago images

عوامی حمایت

گھوش اور سری واستو کے مطابق اب بورڈ رومز اور پالیسی سازی میں بھی زیادہ خواتین شامل ہیں، جن میں سابق کھلاڑی جیسے میری کوم بھی شامل ہیں۔ سابق باکسر، جنہوں نے 2012 اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا، 2016 سے 2022 تک رکنِ پارلیمنٹ رہیں۔

حکومت نے نجی شعبے کو بھی کھیلوں میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی ہے اور ساتھ ہی براہِ راست معاونت فراہم کی ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی کی ویب سائٹ کے مطابق، ان کی حکومت نے مختلف پروگراموں کے ذریعے 11,000 سے زائد یوتھ کلبوں کو کھیلوں کا سامان فراہم کیا اور 1,80,000 سے زیادہ ابتدائی ٹیلنٹ اسیسمنٹس کیے۔

سن دو ہزار اکیس میں بھارت میں وزارتِ کھیل کی جانب سے شروع کیا گیا پروگرام ''اسمیتا‘‘بھارت بھر میں خواتین کھلاڑیوں، خاص طور پر پسماندہ طبقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین، کے لیے مزید مواقع اور پلیٹ فارمز فراہم کرتا ہے۔

گزشتہ سال اسمیتا کے تحت 15 کھیلوں میں 852 لیگ مقابلے منعقد ہوئے، جن میں 70,000 خواتین کھلاڑیوں نے حصہ لیا، جو 2024 کے مقابلے میں 17,000 زیادہ ہیں۔

فلمی دنیا کی ایک مثال نے بھی بڑا کردار ادا کیا۔ 2016 کی فلم 'دنگل‘ نے پہلوان بہنوں گیتا اور ببیتا پھوگاٹ کی کہانی بیان کی۔ گیتا نے 2010 دولتِ مشترکہ کھیلوں میں سونے کا تمغہ جیتا جبکہ ببیتا نے چاندی حاصل کی۔ اس وقت یہ بالی ووڈ کی تاریخ کی سب سے زیادہ آمدن والی فلم تھی۔

لوولینا بورگوہین نے ٹوکیو اولمپکس 2021 میں کانسی کا تمغہ جیتا تھاتصویر: Themba Hadebe/picture alliance/AP

اولمپکس 2036 کی میزبانی کی بولی

اسپورٹس ایجنٹ اور پلیئرز ایجنسی انوینٹو اسپورٹس کے بانی، بالجیت ریہل، کے مطابق اب بھارت کے لیے اصل چیلنج اس رفتار کو برقرار رکھنا ہے۔

ریہل نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کی بنیاد تو موجود ہے لیکن ''اب اصل بات پیمانے کی ہے۔ اگر بھارت چاہتا ہے کہ یہ کامیابی محض ایک وقتی لمحہ نہ رہے بلکہ ایک پائیدار ورثہ بنے، تو سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ کرنا ہو گا، خاص طور پر سہولیات، کوچنگ، طویل مدتی ترقی اور تحفظ کے شعبوں میں۔‘‘

شہر احمد آباد 2030 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی میزبانی کرے گا اور وزیر اعظم مودی کو امید ہے کہ ان کی آبائی ریاست گجرات کا دارالحکومت چھ سال بعد سمر اولمپکس کی میزبانی کا حق حاصل کرے گا، جس سے خواتین کھلاڑیوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

گھوش نے کہا، ''آپ کو اولمپک اقدار کو برقرار رکھنا ہو گا، کھیلوں کے اصل مقصد کے ساتھ انصاف کرنا ہوگا۔ کیونکہ آئی او سی (بین الاقوامی اولمپک کمیٹی) صنفی مساوات پر خاص زور دیتی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ ''بھارت کھیل دنیا میں سافٹ پاور بن سکتا ہے ۔ یہ ملک بے پناہ صلاحیتوں کی سونے کی کان پر کھڑا ہے۔‘‘

کشمیری لڑکيوں ميں تائی کوانڈو کا بڑھتا شوق

05:23

This browser does not support the video element.

ادارت: صلاح الدین زین

جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں