1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارت میں نجی کمپنی کے تیار کردہ راکٹ کا کامیاب تجربہ

18 نومبر 2022

بھارت کے خلائی تحقیقاتی ادارے' اسرو 'نے ایک نجی ملکی کمپنی کے ذریعے تیار کردہ ایک راکٹ کو کامیابی کے ساتھ لانچ کیا ہے۔ یہ کامیاب لانچنگ خلائی شعبے میں نجی کمپنیوں کے داخل ہونے کے ایک نئے دور کی نوید ہے۔

Indien | Start einer Vikram-S Rakete
تصویر: isro/twitter

بھارت کے معروف خلائی ادارے 'انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن' (اسرو) نے 18 نومبر جمعے کے روز دیسی نجی کمپنی کے ذریعے تیار کردہ ایک راکٹ 'وکرم ایس' کو پہلی بار کامیابی سے لانچ کیا۔  وکرم سارا بھائی نامی راکٹ کو 'اسکائی روٹ ایرو اسپیس' نام کی نجی کمپنی نے تیار کیا تھا۔ اس کمپنی کا تعلق بھارت کے جنوبی شہر حیدرآباد اور چینئی سے ہے۔

بھارتی چاند گاڑی چاند پر نہ پہنچ پائی

 یہ پہلا موقع ہے جببھارتی خلائی ادارے  نے ملک کی کسی نجی کمپنی کے تیار کردہ راکٹ کو لانچ کیا ہو، جو اس شعبے میں نجی کمپنیوں کے داخل ہونے کی جانب بھی ایک اہم اشارہ ہے۔

بھارتی خلائی مشن چندریان دوئم چاند کے مدار میں پہنچ گیا

جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا سے راکٹ کو لانچ کیا گیا اور اطلاعات کے مطابق راکٹ 89 کلومیٹر کی بلندی تک پہنچا، جبکہ اس کا ہدف صرف 80 کلومیٹر ہی تھا۔ یہ تین پے لوڈ اپنے ساتھ لے کر گیا۔

مریخ کی طرف بھارتی خلائی مشن: سفر کا دوسرا مرحلہ شروع

مرکزی وزیر جتیندر سنگھ، جو سری ہری کوٹا میں ہی تھے، اس لانچ کے بعد کہا ''بھارت کو مبارک ہو! یہ ایک نئی صبح کا آغاز ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اسکائی روٹ کے خواب کو زندگی بخشی۔ بھارت کی بلندی پر جانے کا آئندہ 25 برس کا سفر شروع ہو گیا ہے۔''

بھارتی خلائی ادارے اسرو سے وابستہ ایک سینیئر ترجمان پون کمار گوئنکا نے اسے بھارتی خلائی تاریخ میں ایک ''سنگ میل'' اور ''ایک ایسا نیا دور'' قرار دیا، جو نجی کمپنیوں کی کامیاب لانچنگ کا گواہ ہے۔'' انہوں نے زور دے کر کہا کہ خلائی شعبے میں یہ نئی پیش رفت نجی کھلاڑیوں کے لیے ایک نیا آغاز ہے۔

تقریبا دو سو انجینئروں پر مشتمل ٹیم نے دو برس کے ریکارڈ وقت میں اس وکرم ایس نامی راکٹ کو تیار کیا تھا، جو ٹھوس ایندھن سے چلنے والے پروپلشن سے چلتا ہے اور اس کی باڈی جدید ترین ایویونکس اور کاربن فائبر تیار سے کی گئی ہے۔

 ڈاکٹر پون گوینکا کا کہنا ہے کہ کم از کم 150 نجی اسٹارٹ اپس نے خلائی شعبے میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور سبھی نے خلا ء میں جانے کی درخواستیں بھی بھیجی ہیں۔ تاہم ''ہم نے اب تک صرف پانچ کو ہی اجازت دی ہے۔''

نجی خلائی کمپنی کا کہنا ہے کہ آنے والی دہائی میں 20,000 سے بھی زیادہ چھوٹے سیٹلائٹس لانچ کیے جانے کا اندازہ ہے اور ''وکرم سیریز کو قابل استطاعت قیمت پر بڑے پیمانے پر تیار کرنے کے لیے اسی لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ اس یہ کام آسان ہو سکے۔''

بھارتی چاند گاڑی چاند پر نہ پہنچی

02:05

This browser does not support the video element.

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں