بھارت میں ’ڈیجیٹل گرفتاری‘ کا بڑھتا ہوا فراڈ
31 اکتوبر 2026
بھارتی سپریم کورٹ نے 'ڈیجیٹل گرفتاری‘ Digital Arrest کی وارداتوں میں اضافے پر مرکزی بینک ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی سرزنش کی ہے اور تجویز دی ہے کہ اگر بینک مناسب جانچ پڑتال میں ناکام رہیں، تو انہیں متاثرین کے نقصان کے ازالے کا پابند بنایا جائے۔
بھارت کی سپریم کورٹ نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ تعلیم یافتہ افراد بھی 'ڈیجیٹل گرفتاری‘ کے نام پر ہونے والے فراڈ کا شکار ہو رہے ہیں۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ شہری یہ کیسے یقین کر لیتے ہیں کہ انہیں موبائل فون کے ذریعے گرفتار کیا جا سکتا ہے؟ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ریزرو بینک آف انڈیا کو بھی ان دھوکا دہی کی وارداتوں کی روک تھام کے لیے ناکافی اقدامات کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جمعرات کو از خود اس کیس کی سماعت کے دوران سوال کیا کہ عوامی آگاہی کی بار بار مہم چلائے جانے کے باوجود لوگ ایسے فراڈ کا شکار کیوں ہو رہے ہیں۔
’ڈیجیٹل گرفتاری‘ کیا ہے؟
ڈیجیٹل گرفتاری سائبر فراڈ کی ایک ایسی قسم ہے جس میں مجرم خود کو پولیس افسر، مرکزی تحقیقاتی اداروں مثلاً سی بی آئی یا انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے اہلکار حتیٰ کہ جج ظاہر کرکے متاثرین کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ کسی سنگین فوجداری مقدمے میں ملوث ہیں۔
یہ فراڈ عموماً فون یا ویڈیو کال کے ذریعے شروع ہوتا ہے۔ جعل ساز دعویٰ کرتے ہیں کہ متاثرہ شخص کے آدھار کارڈ کی تفصیلات، بینک اکاؤنٹ یا موبائل نمبر کو منی لانڈرنگ، منشیات کی اسمگلنگ یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں سے منسلک پایا گیا ہے۔
اس کے بعد متاثرین کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ کئی گھنٹوں بلکہ بعض اوقات کئی دن تک ویڈیو کال پر موجود رہیں۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ وہ زیر تفتیش ہیں اور اس دوران کسی دوسرے شخص سے رابطہ نہیں کر سکتے۔
فراڈ کرنے والے اپنے الزامات کو قابل یقین بنانے کے لیے جعلی گرفتاری وارنٹ، عدالتوں کے من گھڑت احکامات، پولیس اسٹیشن جیسے پس منظر اور سرکاری شناختی دستاویزات استعمال کرتے ہیں۔ بالآخر متاثرین سے کہا جاتا ہے کہ وہ مبینہ تصدیق کے لیے یا گرفتاری سے بچنے کی خاطر مخصوص بینک اکاؤنٹس میں رقم منتقل کریں۔
واضح رہے کہ بھارت میں ڈیجیٹل گرفتاری کی کوئی قانونی گنجائش موجود نہیں۔ کوئی بھی قانون نافذ کرنے والا ادارہ ویڈیو کال کے ذریعے کسی شخص کو گرفتار نہیں کر سکتا اور نہ ہی مقدمے یا گرفتاری سے بچنے کے لیے رقم منتقل کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
ڈیجیٹل گرفتاری بڑے مالیاتی جرائم میں سے ایک
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے استفسار کیا، ''ان متاثرین کو کیا ہو گیا ہے؟ انہیں اس طرح کیسے پھنسایا جا رہا ہے؟ کیا وہ اتنی بنیادی بات بھی نہیں سمجھ سکتے؟ موبائل فون پر گرفتاری کا خوف کیوں؟‘‘ انہوں نے کہا کہ متاثرین فون کال منقطع بھی کر سکتے ہیں۔
عدالت نے ڈیجیٹل گرفتاری کے فراڈ کو بھارتی معیشت کو متاثر کرنے والے بڑے مالیاتی جرائم میں سے ایک قرار دیا، جس میں ہزاروں کروڑ روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔
عدالت نے بینکوں کے کردار پر بھی سوال اٹھایا کہ وہ خاص طور پر بزرگ شہریوں کے انفرادی کھاتوں سے غیر معمولی طور پر بڑی رقوم کی منتقلی کو مناسب جانچ پڑتال کے بغیر کیسے ہونے دیتے ہیں۔
یہ فراڈ کس حد تک پھیل چکا ہے؟
گزشتہ چند برسوں کے دوران ڈیجیٹل گرفتاری کے فراڈ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم حکومت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں عروج پر پہنچنے کے بعد رپورٹ ہونے والے واقعات میں کمی آئی ہے۔
بھارتی سائبر کرائم کوآرڈی نیشن سینٹر (I4C) کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ڈیجیٹل گرفتاری سے متعلق شکایات کی تعداد 2022 میں 39 ہزار 925 تھی، جو 2024 میں بڑھ کر ایک لاکھ 23 ہزار 672 ہو گئی۔ صرف 2024 میں متاثرین کو تقریباً ایک ہزار 935 کروڑ روپے کا مالی نقصان پہنچا۔
2025 میں شکایات کی تعداد کم ہو کر 58 ہزار 239 رہ گئی، تاہم اس دوران مالی نقصان تقریباً ایک ہزار 211 کروڑ روپے رہا۔
جنوری سے اگست 2026 کے دوران 21 ہزار 928 شکایات درج ہوئیں، جن میں 647 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان رپورٹ کیا گیا۔ تاہم صنعت سے وابستہ ماہرین کے مطابق سرکاری اعداد و شمار اس مسئلے کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے، کیونکہ ایسے بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے۔
سپریم کورٹ نے اکتوبر 2025 میں اس معاملے کا از خود نوٹس اس وقت لیا تھا جب ہریانہ سے تعلق رکھنے والے بزرگ میاں بیوی نے شکایت کی کہ تحقیقاتی اداروں کے اہلکار بن کر آنے والے جعل سازوں نے عدالتی دستاویزات میں جعل سازی کے ذریعے ان سے ایک کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم ہتھیا لی تھی۔
مسلسل سامنے آنے والے واقعات نے منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس، خصوصاً بیرون ملک سے سرگرم گروہوں، اور چوری شدہ رقم وصول کرنے اور فوری طور پر آگے منتقل کرنے کے لیے استعمال ہونے والے درمیانی یا 'منیول‘ بینک اکاؤنٹس کے بارے میں بھی تشویش بڑھا دی ہے۔
فراڈ روکنے کے لیے اقدامات
آر بی آئی ایک 'کِل سوئچ‘ Kill Switch متعارف کرانے کے امکان کا بھی جائزہ لے رہا ہے، جس کے ذریعے ممکنہ ڈیجیٹل فراڈ کا نشانہ بننے والے صارفین اپنے اکاؤنٹس سے تمام مالیاتی لین دین فوری طور پر روک سکیں گے۔
کِل سوئچ ایسا نظام ہے جس کے ذریعے کسی ہنگامی صورت حال یا مخصوص حالات میں کسی سسٹم، ڈیوائس، اکاؤنٹ یا سروس کو فوری طور پر بند یا غیر فعال کیا جا سکتا ہے۔
اگر کسی صارف کو شبہ ہو کہ وہ جعل سازوں کے نشانے پر ہے، تو وہ اس بٹن کو دبا کر اپنے اکاؤنٹ سے تمام بینکاری سرگرمیاں فوری طور پر منجمد کر سکے گا۔
ادارت: مقبول ملک