بھارت، ’پولیو فری‘ ملک بنتا ہوا
13 جنوری 2014
اس باقاعدہ اعلان سے پہلے ابھی عالمی ادارہء صحت ڈبلیو ایچ او کی جانب سے یہ تصدیق ضروری ہے کہ اس ملک میں پولیو کا کوئی ایسا کیس نہیں ہے، جو کسی وجہ سے رجسٹر ہونے سے رہ گیا ہو۔ پولیو ایک ایسا مرض ہے، جس سے حفاظتی ٹیکوں کی مدد سے بچا جا سکتا ہے اور دنیا کے زیادہ تر ملکوں میں اس مرض کو مکمل طور پر ختم بھی کیا جا چکا ہے تاہم نائجیریا،پاکستان اور افغانستان سمیت چند ایک ملکوں میں یہ مرض ابھی بھی انسانوں کی معذوری یا پھر اُن کی موت کا سبب بن رہا ہے۔
عام طور پر پانچ سال سے کم عمر کے وہ بچے پولیو کا شکار ہو جاتے ہیں، جو آلودہ پانی پیتے ہیں۔ اس مرض کا وائرس مرکزی اعصابی نظام پر حملہ آور ہوتا ہے اور فالج، پٹھوں کی کمزوری، اعضاء کی ساخت میں بگاڑ اور کچھ صورتوں میں موت تک کا بھی سبب بن سکتا ہے۔
اگرچہ بھارت میں اس مرض کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں کامیابی حاصل ہو رہی ہے، تاہم بہت سے لوگ ایسے بھی تھے، جنہیں بروقت حفاظتی ٹیکوں کی مہم کے فوائد حاصل نہ ہو سکے۔ ایسے میں بھارتی شہروں میں پولیو کا شکار ہونے والے اور تڑے مڑے جسمانی اعضاء کے حامل افراد اکثر دکھائی دیتے ہیں۔
ایسے ہی افراد میں سے ایک سونو کمار بھی ہے، جسے پولیو ویکسین کی سہولت نہیں ملی اور جو دَس سال کی عمر میں اس مرض کا شکار ہوا اور جس کا جسم دھڑ سے نیچے ناکارہ ہو چکا ہے۔ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس سے باتیں کرتے ہوئے اُس نے بتایا: ’’میرے والدین بہت ہی غریب تھے اور میرے علاج معالجے کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تھے۔‘‘ اب سونو کمار کی عمر چوبیس برس ہے، وہ وسطی دہلی کے ایک مندر کے باہر بھیک مانگتا ہے اور کہیں آنے جانے کے لیے وہیل چیئر استعمال کرتا ہے۔
چند سال پہلے سونو کمار نے ٹیلی وژن پر کسی خیراتی تنظیم کا اشتہار دیکھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ مغربی بھارت میں قائم یہ تنظیم پولیو کے شکار افراد کو مفت علاج کی سہولت مہیا کرتی ہے۔ کمار کا طبّی معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ اب دیر ہو چکی ہے اور اُس کی کوئی مدد نہیں کی جا سکتی۔
بھارت میں ایک سال تک پولیو کا کوئی کیس رجسٹر نہ ہونے کے بعد گزشتہ سال عالمی ادارہء صحت ڈبلیو ایچ او نے بھارت کو اُن ممالک کی فہرست سے نکال دیا تھا، جہاں انسانوں کے اس مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑے پیمانے پر موجود ہو۔
اس مرض کی بیخ کنی میں مرکزی کردار حفاظتی ٹیکوں کی اُس ملک گیر مہم نے ادا کیا، جس میں تقریباً ڈھائی لاکھ رضاکاروں، ڈاکٹروں اور نرسوں کی ایک پوری فوج نے تین سال تک تمام بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے۔
اسی مہم کے نتیجے میں پولیو کے کیسز میں کمی ہوئی اور جہاں 2009ء میں بھارت بھر میں پولیو کے 741 کیسز رجسٹر ہوئے، وہاں ایک سال بعد 2010ء میں ہی یہ تعداد صرف بیالیس رہ گئی۔ بھارت میں پولیو کا آخری کیس 2011ء میں مشرقی بھارت میں سامنے آیا تھا۔
اب بھارت ملک میں اس مرض کے وائرس کی دوبارہ آمد کو روکنے کے لیے اپنے ویزا قوانین مزید سخت کر رہا ہے اور خاص طور پر ہمسایہ ملک پاکستان سے ویزے کے لیے درخواستیں دینے والوں پر قدغنیں لگائی جا رہی ہیں۔ ابھی گزشتہ مہینے نئی دہلی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان سے بھارت کے سفر پر آنے والے افراد کو اس بات کا ثبوت پیش کرنا ہو گا کہ بھارت روانہ ہونے سے کم از کم چھ ہفتے پہلے اُنہوں نے پولیو کے قطرے پیے تھے۔