1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارت: ڈھائی سو روپے کا کووڈ ٹسٹ کِٹ

آسیہ مغل
21 مئی 2021

طبی سرگرمیوں پر نگاہ رکھنے والے حکومتی ادارہ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ نے گھر پر خود سے ہی کووڈ انیس کا پتہ لگانے والے پہلے ٹسٹ کِٹ کی منظوری دے دی ہے۔

Coronavirus Südkorea Chuncheon Antikörpertest-Kit
(علامتی تصویر)تصویر: picture-alliance/AP//Lee Jin-man

بھارت میں ایسے وقت جب کووڈ ٹسٹ کی تعداد اور طریقہ کار پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں حکومتی ادارہ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) نے گھر بیٹھے ہی کووڈ ٹسٹ کرنے کے لیے ملک میں تیار پہلے ٹسٹ کٹ کو استعمال کی اجازت دے دی ہے۔ اسے ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر دوا کی دکانوں سے یا آن لائن صرف ڈھائی سو روپے یعنی تقریباً ساڑھے تین ڈالر میں خریدا جاسکتا ہے۔

ماہرین صحت اسے بھارت میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز اور اموات پر قابو پانے کی مہم میں ایک اہم کامیابی قرار دے رہے ہیں کیونکہ ابتدا میں ہی کووڈ کا پتہ چل جانے کے بعد مریض کا فوراً علاج شروع کیا جاسکے گا۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی کے سابق سائنٹسٹ ڈاکٹر ایم ایس چڈھا کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ یہ ٹسٹ کِٹ بالخصوص اس وقت کافی سود مند ثابت ہوگا جب گھر کے کسی فرد کے کووڈ انیس سے متاثر ہونے کا شبہ ہو۔ چونکہ اسے استعمال کرنا آسان ہے اور اس سے فوراً نتیجہ بھی معلوم ہو جائے گا اس لیے کووڈ سے متاثر ہونے کی صورت میں اس شخص کو فوراً قرنطینہ کیا جاسکتا ہے۔ اور دیگر لوگوں میں وائرس کے پھیلنے سے روکنے میں مدد ملے گی۔

پاکستان کا بھارت کے ساتھ اظہار یکجہتی

02:07

This browser does not support the video element.

رپورٹ ملنے میں پانچ دن

خیال رہے کہ اس وقت بھارت میں کووڈ ٹسٹ کی رپورٹ کے لیے انٹیجن او رآر ٹی پی سی آر ٹسٹ کرایا جارہا ہے۔ انٹیجن کی رپورٹ تو فوراً مل جاتی ہے لیکن آر ٹی پی سی آر ٹسٹ کی رپورٹ آنے میں 24 گھنٹے لگتے ہیں۔ تاہم حقیقی صورت حال یہ ہے کہ چونکہ کووڈ ٹسٹ کرنے والی لیباریٹریوں کی تعداد بہت کم ہے اس لیے عام طور پر رپورٹ ملنے میں چار سے پانچ دن لگ رہے ہیں۔ بعض اوقات رپورٹ مریض کی موت کے بعد ہی مل پاتی ہے۔

آئی سی ایم آر کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کی انٹیجن ٹسٹ کی رپورٹ منفی آئے گی انہیں آرٹی پی سی آر ٹسٹ کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔اس طرح لیباریٹریز پر دباؤ کم ہوگا اور تفتیش میں تیزی آسکے گی۔

آئی سی ایم آر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر بلرام بھارگوانے اس ٹسٹ کِٹ کے بار ے میں میڈیا کو بتایا کہ 'کووی سیلف‘ کے نام سے یہ کِٹ جلد ہی مارکیٹ میں دستیاب ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا،” اسے استعمال کرنے کے لیے ایک موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنا ہوگا، ناک کے اندر سے لیے گئے نمونوں کو دی گئی ہدایات کے مطابق ٹسٹ کِٹ پر رکھنا ہوگا۔ پندرہ منٹ کے اندر ٹسٹ مکمل ہوجائے گا۔ موبائل ایپ کے ذریعہ اس کی تصویر لینے سے اس کی رپورٹ موبائل فون پر آجائے گی۔"

ڈاکٹر بھارگوا نے بتایا کہ اس ٹسٹ کٹ کی تیاری کا کام پونے کی ایک کمپنی نے ایک برس پہلے شروع کیا تھا۔ گھر پر ہی جانچ کے لیے اسی طرح کے تین دیگر کٹ بھی تیاری کے مختلف مراحل میں ہیں۔

کووڈ ٹسٹ پر سوالات

بھارت میں کووڈ انیس کی ٹسٹنگ کی تعداد اور اس کی معتبریت پر مختلف حلقوں سے سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

 تقریباً ایک ارب چالیس کروڑ آبادی والے بھارت میں آئی سی ایم آر کی طرف سے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق 20 مئی تک کورونا وائرس سے متاثرین صرف 32 کروڑ 44 لاکھ لوگوں کی ہی جانچ ہوسکی ہے۔ ان میں 20 لاکھ 61 ہزارافراد کی جانچ جمعرات 20 مئی کو ہوئی۔

کووڈ ویکسینیشن کی رفتار بھی کافی سست ہے۔ ویکسین کی عدم دستیابی کی وجہ سے دہلی حکومت نے اٹھارہ سے 44 برس تک کی عمر کے افراد کو ویکسین لگانے کے لیے قائم کیے گئے 150مراکز جمعے کے روز بند کردیے۔ متعدد دیگر ریاستوں نے بھی کووڈ ویکسین کی کمی کی شکایت کی ہے۔

آئی سی ایم آر کی جمعہ 21مئی صبح سات بجے تک کی عبوری رپورٹ کے مطابق اب تک صرف 19کروڑ 19لاکھ کے قریب افراد کو ہی کووڈ انیس ویکسین لگائی گئی ہیں۔ ان میں ایک کروڑ 48لاکھ فرنٹ لائن ورکرز بھی شامل ہیں۔ اٹھارہ سے چوالیس برس کے درمیانی عمر والے صرف86لاکھ افراد کو ہی کووڈ انیس ویکسین کا پہلا انجکشن لگایا گیا ہے۔

ویکسین کے مؤثر ہونے کا تجربہ، نوجوان اور صحت مند افراد پر ہی کیوں؟

02:10

This browser does not support the video element.

 

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں