طبی سرگرمیوں پر نگاہ رکھنے والے حکومتی ادارہ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ نے گھر پر خود سے ہی کووڈ انیس کا پتہ لگانے والے پہلے ٹسٹ کِٹ کی منظوری دے دی ہے۔
بھارت میں ایسے وقت جب کووڈ ٹسٹ کی تعداد اور طریقہ کار پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں حکومتی ادارہ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) نے گھر بیٹھے ہی کووڈ ٹسٹ کرنے کے لیے ملک میں تیار پہلے ٹسٹ کٹ کو استعمال کی اجازت دے دی ہے۔ اسے ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر دوا کی دکانوں سے یا آن لائن صرف ڈھائی سو روپے یعنی تقریباً ساڑھے تین ڈالر میں خریدا جاسکتا ہے۔
ماہرین صحت اسے بھارت میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز اور اموات پر قابو پانے کی مہم میں ایک اہم کامیابی قرار دے رہے ہیں کیونکہ ابتدا میں ہی کووڈ کا پتہ چل جانے کے بعد مریض کا فوراً علاج شروع کیا جاسکے گا۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی کے سابق سائنٹسٹ ڈاکٹر ایم ایس چڈھا کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ یہ ٹسٹ کِٹ بالخصوص اس وقت کافی سود مند ثابت ہوگا جب گھر کے کسی فرد کے کووڈ انیس سے متاثر ہونے کا شبہ ہو۔ چونکہ اسے استعمال کرنا آسان ہے اور اس سے فوراً نتیجہ بھی معلوم ہو جائے گا اس لیے کووڈ سے متاثر ہونے کی صورت میں اس شخص کو فوراً قرنطینہ کیا جاسکتا ہے۔ اور دیگر لوگوں میں وائرس کے پھیلنے سے روکنے میں مدد ملے گی۔
پاکستان کا بھارت کے ساتھ اظہار یکجہتی
02:07
This browser does not support the video element.
رپورٹ ملنے میں پانچ دن
خیال رہے کہ اس وقت بھارت میں کووڈ ٹسٹ کی رپورٹ کے لیے انٹیجن او رآر ٹی پی سی آر ٹسٹ کرایا جارہا ہے۔ انٹیجن کی رپورٹ تو فوراً مل جاتی ہے لیکن آر ٹی پی سی آر ٹسٹ کی رپورٹ آنے میں 24 گھنٹے لگتے ہیں۔ تاہم حقیقی صورت حال یہ ہے کہ چونکہ کووڈ ٹسٹ کرنے والی لیباریٹریوں کی تعداد بہت کم ہے اس لیے عام طور پر رپورٹ ملنے میں چار سے پانچ دن لگ رہے ہیں۔ بعض اوقات رپورٹ مریض کی موت کے بعد ہی مل پاتی ہے۔
اشتہار
آئی سی ایم آر کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کی انٹیجن ٹسٹ کی رپورٹ منفی آئے گی انہیں آرٹی پی سی آر ٹسٹ کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔اس طرح لیباریٹریز پر دباؤ کم ہوگا اور تفتیش میں تیزی آسکے گی۔
آئی سی ایم آر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر بلرام بھارگوانے اس ٹسٹ کِٹ کے بار ے میں میڈیا کو بتایا کہ 'کووی سیلف‘ کے نام سے یہ کِٹ جلد ہی مارکیٹ میں دستیاب ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا،” اسے استعمال کرنے کے لیے ایک موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنا ہوگا، ناک کے اندر سے لیے گئے نمونوں کو دی گئی ہدایات کے مطابق ٹسٹ کِٹ پر رکھنا ہوگا۔ پندرہ منٹ کے اندر ٹسٹ مکمل ہوجائے گا۔ موبائل ایپ کے ذریعہ اس کی تصویر لینے سے اس کی رپورٹ موبائل فون پر آجائے گی۔"
ڈاکٹر بھارگوا نے بتایا کہ اس ٹسٹ کٹ کی تیاری کا کام پونے کی ایک کمپنی نے ایک برس پہلے شروع کیا تھا۔ گھر پر ہی جانچ کے لیے اسی طرح کے تین دیگر کٹ بھی تیاری کے مختلف مراحل میں ہیں۔
دنيا بھر ميں اب تک کورونا سے بچاؤ کے لیے 212 ملين ویکسین دی جا چکی ہيں۔ اسرائيل اس دوڑ ميں سب سے آگے ہے، جہاں 50.2 فيصد شہريوں کو ٹيکے لگائے جا چکے ہيں۔ پاکستان ميں بھی قريب 73 ہزار افراد کو ٹيکے لگ چکے ہيں۔
تصویر: Tânia Rêgo/Agência Brasil
اسرائيل
اسرائيل کے 50.2 فيصد شہريوں کو کورونا سے بچاؤ کے ٹيکے لگائے جا چکے ہيں جب کہ مجموعی آبادی کے 34.6 فيصد حصے کو کورونا کی دونوں خوراکيں مل چکی ہيں۔ ملک ميں مجموعی طور پر 7,535,543 ويکسين لگائے جا چکے ہيں۔ يہ اعداد و شمار ’نيو يارک ٹائمز‘ کے ويکسين ٹريکر سے حاصل کيے گئے ہيں۔
تصویر: Corinna Kern/REUTERS
سیشیلز
براعظم افريقہ سے ڈيڑھ ہزار کلوميٹر دور بحر ہند ميں واقع جزائر پر مشتمل سیشیلز ميں 65,576 ٹيکے لگائے جا چکے ہيں۔ يہ ملکی آبادی کا 45.4 فيصد بنتا ہے۔ سيشلز ميں 22.3 فيصد آبادی کو ويکسين کی دونوں خوراکيں مل چکی ہيں۔ اس تصوير ميں سيشلز کے صدر ويکسنن لگوانے سے قبل معلومات حاصل کر رہے ہيں۔
تصویر: Rassin Vannier/AFP/Getty Images
متحدہ عرب امارات
امارات ميں مجموعی طور پر 5,557,793 ٹيکے لگائے جا چکے ہيں۔ اس بارے ميں ڈيٹا دستياب نہيں کہ آبادی کے کتنے بڑے حصے کو ويکسين لگائی جا چکی ہے مگر اوسطاً ہر ايک سو ميں سے 57.7 افراد کو ٹيکا لگ چکا ہے۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/J. Gambrell
برطانيہ
برطانيہ اس دوڑ ميں چوتھی پوزيشن پر ہے۔ وہاں چوبيس فروری تک 18,348,165 ٹيکے لگائے جا چکے ہيں۔ 26.7 فيصد عوام کو ٹيکے لگائے جا چکے ہيں جبکہ 0.9 کو مکمل خوراک يعنی دو ٹيکے لگ چکے ہيں۔ يہ امر اہم ہے کہ دوا ساز کمپنياں کورونا سے بچاؤ کے ليے طويل المدتی بنيادوں پر قوت مدافعت پيدا کرنے کے ليے دو ويکسين تجويز کرتی ہيں، گو کہ يہ مشورہ تمام ويکسينز کے ليے نہيں ہے۔
تصویر: Danny Lawson/empics/picture alliance
امريکا
امريکا ميں ہر ايک سو ميں سے 19.3 افراد کورونا ویکسین حاصل کر چکے ہيں۔ مجموعی طور پر 64,177,474 ٹيکے لگائے جا چکے ہيں۔ ملکی آبادی کے تناسب کے اعتار سے ديکھا جائے، تو 13.3 فيصد امريکی شہریوں کو ويکسين مل چکی ہے جبکہ 5.9 فيصد کو دو مرتبہ ويکسين دی جا چکی ہے۔ تصوير ميں صدر جو بائيڈن کو ويکسين لگواتے ديکھا جا سکتا ہے۔
تصویر: Alex Edelman/AFP/Getty Images
بحرين
بحرين ميں ہر ايک سو افراد ميں سے اوسطاً 17.7 کو ٹيکے لگ چکے ہيں۔ اس خليجی ملک ميں مجموعی طور پر 278,222 ٹيکے لگائے جا چکے ہيں۔
تصویر: picture-alliance/AP/H. Jamali
چلی
چلی ميں اب تک لگائے جانے والے ٹيکوں کی مجموعی تعداد 2,994,139 ہے۔ وہاں آبادی کے 15.7 فيصد حصے کو پہلی ویکسین لگ چکی ہے جبکہ مکمل خوراک یا دونوں ٹیکے جن افراد کو لگ چکے ہيں، ان کا تناسب 0.3 فيصد ہے۔ تصوير ميں ملکی صدر ويکسين لگوا رہے ہيں۔
تصویر: Chilean Presidency/REUTERS
مالديپ
مالديپ ميں ہر ايک سو افراد ميں سے اوسطاً 14.5 کو ٹيکے لگ چکے ہيں۔ اس خليجی ملک ميں مجموعی طور پر 75,013 ٹيکے لگائے جا چکے ہيں۔
تصویر: Sergi Reboredo/picture alliance
سربيا
سربيا ميں ہر ايک سو ميں سے 14.1 افراد اس سہولت سے مستفيد ہو چکے ہيں۔ مجموعی طور پر 987,000 ٹيکے لگائے جا چکے ہيں۔ ملکی آبادی کے تناسب کے اعتبار سے ديکھا جائے، تو 11.5 فيصد سربين شہریوں کو ويکسين مل چکی ہے جبکہ 2.6 فيصد کو دو مرتبہ ويکسين دی جا چکی ہے۔
تصویر: Vladimir Zivojinnovic/AFP/Getty Images
پاکستان
پاکستان اس فہرست ميں کافی نيچے ہے مگر عالمی صورتحال ديکھی جائے تو پاکستان کی کارکردگی بری نہيں۔ وہاں اب تک 72,882 ٹيکے لگائے جا چکے ہيں، یعنی آبادی کے 0.1 فيصد کے قريب کی ویکسینیشن ہوئی ہے۔ مگر کئی ملکوں ميں ابھی تک ويکسين مہم شروع تک نہيں ہوئی۔
تصویر: Aamir Qureshi/AFP/Getty Images
10 تصاویر1 | 10
کووڈ ٹسٹ پر سوالات
بھارت میں کووڈ انیس کی ٹسٹنگ کی تعداد اور اس کی معتبریت پر مختلف حلقوں سے سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔
تقریباً ایک ارب چالیس کروڑ آبادی والے بھارت میں آئی سی ایم آر کی طرف سے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق 20 مئی تک کورونا وائرس سے متاثرین صرف 32 کروڑ 44 لاکھ لوگوں کی ہی جانچ ہوسکی ہے۔ ان میں 20 لاکھ 61 ہزارافراد کی جانچ جمعرات 20 مئی کو ہوئی۔
کووڈ ویکسینیشن کی رفتار بھی کافی سست ہے۔ ویکسین کی عدم دستیابی کی وجہ سے دہلی حکومت نے اٹھارہ سے 44 برس تک کی عمر کے افراد کو ویکسین لگانے کے لیے قائم کیے گئے 150مراکز جمعے کے روز بند کردیے۔ متعدد دیگر ریاستوں نے بھی کووڈ ویکسین کی کمی کی شکایت کی ہے۔
آئی سی ایم آر کی جمعہ 21مئی صبح سات بجے تک کی عبوری رپورٹ کے مطابق اب تک صرف 19کروڑ 19لاکھ کے قریب افراد کو ہی کووڈ انیس ویکسین لگائی گئی ہیں۔ ان میں ایک کروڑ 48لاکھ فرنٹ لائن ورکرز بھی شامل ہیں۔ اٹھارہ سے چوالیس برس کے درمیانی عمر والے صرف86لاکھ افراد کو ہی کووڈ انیس ویکسین کا پہلا انجکشن لگایا گیا ہے۔
ویکسین کے مؤثر ہونے کا تجربہ، نوجوان اور صحت مند افراد پر ہی کیوں؟