1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارت کا کشمیر میں اسٹریٹیجک سرنگ کی تعمیر کا منصوبہ

30 ستمبر 2021

بھارت کے زیرانتظام وادی کشمیر کو لداخ سے جوڑنے کےلیے ٹنلز اور پُلوں کی تعمیر کے ایک بہت اہم پراجیکٹ پرکام شروع ہو چکا ہے۔ لداخ کی سرحدیں چین اور پاکستان سے ملتی ہیں۔ اس تناظر میں اس پراجیکٹ کو جرأت آمیزقراردیا جا رہا ہے۔

Indien | Nilgrar Tunnel
تصویر: Dar Yasin/AP Photo/picture alliance

ہمالیہ کے کوہستانی پتھریلے چٹانوں والا یہ علاقہ بھارتی زیر انتظام کشمیر کا حصہ ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں افراد بھارتی حکومت کے ایک غیر معمولی پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں۔ یہ کام ہے سرنگیں کھودنے اور پلوں کی تعمیر کا تاکہ وادی کشمیر کو لداخ سے جوڑا جا سکے۔

اسٹریٹیجک اہمیت

لداخ جنوبی ایشیا کے خطے کے چند اہم ترین اسٹریٹیجک علاقوں میں سے ایک ہے۔ اس کی سرحدیں چین اور پاکستان سے ملتی ہیں۔ یہ علاقہ سال کے چھ ماہ باہر کی دنیا سے کٹ جاتا ہے کیونکہ یہاں بہت شدید برف باری ہوتی ہے اور ان مہینوں کے دوران اس کا انحصار ہوائی ذرائع سے پہنچنے والے سامان تک محدود رہتا ہے۔

کیا بھارت موسم سرما میں چین کے ساتھ جنگ لڑنے کی تیاری کر رہا ہے؟

بھارتی سرکاری ذرائع کے مطابق اس پراجیکٹ کے تحت چار سرنگیں کھودنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جن میں سے پہلی سرنگ کی کھدائی مکمل ہو چُکی ہے اور یہ 6.5 کلو میٹر یا چار میل طویل ہے۔ اس سرنگ کے ذریعے سونامرگ کے قصبے تک رسائی ممکن ہو گی جو ایک صحت افزا اور تفریحی مقام مانا جاتا ہے۔ سردیوں کے موسم میں پہلی بار سونامرگ قابل رسائی ہو گا۔ یہ علاقہ شنک پوش پہاڑوں یا صنوبر کے درختوں سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں کے سلسلے پر ختم ہوتا ہے اور زوجیلا پہاڑیوں کے دوسری طرف لداخ شروع ہوتا ہے۔'طالبان کی کامیابی نے کشمیری جنگجوؤں میں امید پیدا کر دی ہے‘

سینکڑوں کارکن اس پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیںتصویر: Dar Yasin/AP Photo/picture alliance

 932 ملین ڈالر کی لاگت سے ان چار سرنگوں کی تعمیر کے منصوبے کی چوتھی اور آخری سرنگ 14 کلو میٹر طویل ہوگی جو زوجیلا کے چیلنجنگ پہاڑی علاقے سے گزرتے ہوئے سونامرگ کو لداخ سے جوڑے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ بھارت کی بلند ترین اور طویل ترین سرنگ ہوگی۔ یہ سرنگ گیارہ ہزار پانچ سو فٹ یا تین ہزار چار سو پچاسی میٹر کی بلندی پر تعمیر کی جائے گی۔ اس پراجیکٹ پر کام کرنے والے ایک کارکن طارق احمد لون، جو ڈرلننگ مشین پر کام کرتے ہیں کا کہنا ہے، ''یہ کسی دوسرے تعمیراتی کام کی طرح نہیں ہے۔ یہ سیکھنے کا ایک نادر موقع ہے۔‘‘

بھارتی کشمیر، خوف احتجاج کو کھا گیا

بھارتی سیاستدانوں کے لیے بھی ایک موقع

بھارتی اور چینی فوجیوں کے درمیان گزشتہ 16 ماہ سے زائد کے عرصے سے لداخ میں قراقرم پہاڑیوں میں وقتاً فوقتاً جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔ یہ علاقہ دراصل دونوں ممالک کے درمیان ڈی فیکٹو یا ' دا لائن آف ایکچوئل کنٹرول‘ والا سرحدی علاقہ ہے۔ نئی دہلی اور بیجنگ، دونوں نے اس علاقے میں اپنے اپنے ہزاروں فوجی تعینات کر رکھے ہیں جنہیں آرٹلری، ٹینک اور لڑاکا طیاروں کا سپورٹ حاصل ہے۔ بھارتی فوج کے منصوبہ ساز سرنگ کے اس منصوبے کو لداخ کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل منصوبہ قرار دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پراجیکٹ بھارتی فوج کو رسد کی لچکدار فراہمی کو ممکن بنانے نیز آپریشنل اور اسٹریٹیجک طور پر نقل و حرکت کے مواقع پیدا کرنے کا اہم ترین ذریعہ ہوگا۔ کشمیر کو ریاست کا درجہ حالات معمول کے مطابق ہونے پر ہی ملے گا، بھارت

 

ان چار سرنگوں کی تعمیر کے منصوبے پر 932 ملین ڈالر کی لاگت آئے گیتصویر: Dar Yasin/AP Photo/picture alliance

 بھارتی سیاستدانوں کے لیے بھی یہ پراجیکٹ ایک غیر معمولی موقع فراہم کرنے کا ذریعہ ہے۔ گرچہ اس ٹنل یا سرنگ کے زوجیلا پہاڑی حصے کو 2026 ء تک فعال بنا دینے کا پلان تیار کیا گیا تھا تاہم بھارت کے روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کے وزیر نیتن گڈکاری نے منگل 28 ستمبر کو اس پراجیکٹ کی سائٹ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ سرنگ کے زوجیلا پہاڑی حصے کی تعیمر کا کام  2024 ء سے پہلے ہی مکمل ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا، ''یہ ایک چیلنج ہے اور مجھے اس کا علم ہے، لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ یہ کام وقت پر ختم کر لیں گے۔‘‘ یاد رہے کہ بھارت میں 2024ء میں عام انتخابات کا انعقاد ہونا ہے اسی وجہ سے نیتن گڈکاری  نے واضح الفاظ میں کہا، ''ظاہر ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ پراجیکٹ انتخابات سے قبل مکمل ہو جائے۔‘‘     

ک م/ا ب ا )اے پی،(    

 

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں