بیجنگ کی طرف سے یورپی یونین کو دھمکی
26 جون 2012
یورپی یونین میں شامل ممالک ایک عرصے سے چین پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ وہ سولر سیلز بناے والی فرموں اور ٹیلی کام کمپنیوں کو ریاستی سبسڈی کے ذریعے مقابلے کی دوڑ میں غیر منصفانہ فائدے فراہم کر رہا ہے۔ چین کے اس رویے کے سبب یورپی یونین کی فرموں نے برسلز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چینی کمپنیوں کی مصنوعات کی بر آمدات محدود کرے۔
اطلاعات کے مطابق یورپی یونین نے چین کی چند چوٹی کی فرموں مثلاﹰ Huawei اور ZTE کے خلاف اینٹی ڈمپنگ تفتیشی کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔
دریں اثناء چین کے کامرس کی وزارت کے ایک ترجمان شن ڈان یانگ نے ان الزامات کو رد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے کہ چین کی مذکورہ دو بڑی کمپنیوں کو کوئی سبسڈی دی گئی ہے۔
شن ڈان یانگ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ دونوں کمپنیاں اوپن مارکیٹ میں تیزی سے ترقی کرتے ہوئے مقابلے کی دوڑ میں آگے آنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ انہوں نے اس بات کا حوالہ بھی دیا کہ متعدد یورپی ٹیلی کام کمپنیاں سالہا سال سے چین میں کام کرتی آئی ہیں اور اس سے بیجنگ اور برسلز دونوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ شن ڈان یانگ کے بقول، ’’چین اس دو طرفہ فائدے کی صورتحال کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ دنیا کی موجودہ اقتصادی صورتحال کے پیش نظر یورپی یونین اور چین کو تجارتی پالیسیوں کو مزید مربوط اور باہمی تعلقات کو استوار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور تجارتی تحفظ کی پالیسیوں سے اجتناب برتنا چاہیے۔
گزشتہ ماہ امریکی کمرشل ڈپارٹمنٹ نے چینی مصنوعات ساز اور برآمد کنندگان پر 31 سے 250 فیصد تک محصولاتی ٹیکس لگانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ امریکی کمرشل ڈپارٹمنٹ کو یہ پتہ چلا ہے کہ چینی کمپنیوں نے امریکی مارکیٹ میں سولر سیلز غیر معمولی کم قیمتوں میں فروخت کیے ہیں۔ اس کو ڈمپنگ کہا جاتا ہے۔
ماضی میں سامنے آنے والی میڈیا رپورٹوں کے تحت اب یورپی یونین بھی امریکا کی تقلید کرتے ہوئے چین پر جلد پابندیاں عائد کرنے والی ہے۔ دریں اثناء چین کی کامرس کی وزارت کے ایک ترجمان شن ڈان یانگ نے انتباہ کیا ہے کہ اگر یورپی یونین نے چین کی سولر سیل کی صنعت پر پابندی عائد کی تو اس کے گہرے منفی اثرات یورپی یونین کی تجارت پر مرتب ہوں گے کیونکہ چین یورپی خام مال کا ایک بہت بڑا خریدار ہے۔ یہ خام مال چین فوٹو والٹیک مصنوعات کی تیاری میں استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین نے اب تک سولر بیٹریز بنانے کے لیے کُل 40 بلین ین کی مالیت کا سازوسامان درآمد کیا ہیں۔ اس کا 45 فیصد جرمنی اور سوئٹزرلینڈ سے خریدا گیا ہے۔
km/aba (AFP)