جرمنی کی البرٹ لُڈوِگ یونیورسٹی فرائی برگ کے سائنس دانوں نے کہا ہے کہ چینی وِچ ہازل پودا اپنے بیجوں کو انتہائی تیز رفتار کے ساتھ پھینکتا ہے اور یوں یہ بیج پھیلتے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/dpa/C. Seidel
اشتہار
رائل سوسائٹی انٹرفیس میں بدھ سات اگست کو شائع ہونے والی اس تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی وِچ ہازل کے پودے سے بیج قریب بارہ اعشاریہ تین میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے فائر کیے جاتے ہیں، جب کہ پودے سے پھینکے جانے کے وقت یہ بیج ایک منٹ میں بیس ہزار دفعہ گھومتے ہوئے نکلتا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق اسی گھماؤ کی وجہ سے اس کی پرواز اور رفتار مستحکم رہتی ہے اور وہ دور تک پرواز کر سکتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق پودے سے پھینکے جانے کے وقت بیج کی رفتار انیسویں صدی میں بنائی گئی بندوقوں سے نکلنے والی گولیوں کے برابر ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ چینی وِچ ہازل کے بیج کے پھیلاؤ، رفتار اور پرواز پر اتنی تفصیلی تحقیق کی گئی ہے۔ اس تحقیقی رپورٹ کے کلیدی مصنف فرائی برگ یونیورسٹی سے وابستہ سائمن پوپِنگا ہیں۔
(یہ فطری مظہر ویڈیو میں دیکھیے اس لنک کے ذریعے https://youtu.be/UewV_ZSLdmg)
بتایا گیا ہے کہ اس تحقیق میں ایک برس لگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے متعدد علاقوں میں وِچ ہازل پھلتا پھولتا نظر آتا ہے جب کہ جرمنی میں بھی پیلے پھولوں والا یہ خوشبو دار پودا بہت مقبول ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق مختلف پودے اپنے بیجوں کو دور تک پھینکتے ہیں، تاہم وِچ ہازل کا بیج ایک لکڑی کے خول میں بند ہوتا ہے، جو خشک اور تنگ ہوتا چلا جاتا ہے اور یہ پورا عمل اسی سے طے ہوتا ہے۔
ہر سال کے طرح اس مرتبہ بھی انسانوں نے 2019ء کے مقرر کردہ تمام تر قدرتی وسائل انتیس جولائی تک استعمال کر لیے۔ اسلام اور دیگر مذاہب بھی اس دنیا اور قدرت کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہیں۔
تصویر: Getty Images/AFP
پانی، زندگی کا اہم جزو
دنیا کے کچھ خطوں میں تازہ پانی تک رسائی کو انتہائی غیر سنجیدہ طور پر لیا جاتا ہے تاہم حقیقت میں یہ ایک ’عیاشی‘ ہے۔ دنیا میں موجود پانی میں سے تازہ اور پینے کے لیے آلودگی سے پاک پانی کا ذخیرہ صرف 2.5 فیصد بنتا ہے اور اس میں سے بھی نصف سے زائد برف ہے۔ سن دو ہزار پچاس تک دنیا کی آبادی کا ایک تہائی اس اہم جنس کی شدید کم یابی کا شکار ہو جائے گا، جس سے انسانی زندگی شدید متاثر ہو گی۔
تصویر: picture-alliance/Zumapress
زیر کاشت زمین، ایک نیا سونا
زیر کاشت زمین کے حصول کی خاطر دنیا بھر میں مقابلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ آبادی میں اضافے کی وجہ سے اجناس کی طلب میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ساتھ ہی انسان اپنے غیر ذمہ دارانہ طرز زندگی سے اس زمین کو نقصان بھی پہنچا رہے ہیں۔ چین اور سعودی عرب اس کوشش میں ہیں کہ وہ افریقہ میں قابل کاشت زمینیں خرید لیں۔ نئے دور میں یہ زمین ایک نیا سونا بنتی جا رہی ہے۔
تصویر: Imago/Blickwinkel
فوسل فیولز، قدیمی ذرائع توانائی
زمین سے حاصل کردہ قدیمی ذرائع توانائی میں بھی کمی ہوتی جا رہی ہے۔ تیل، گیس اور اسی طرح کے دیگر فوسل فیولز کو پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ ان قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال ایک لمحہ فکریہ ہے۔ عراق اور لیبیا جیسے ممالک کے لیے یہ زیادہ پریشان کن ہے کیونکہ وہاں موجود قدرتی گیس اور تیل کی ذخائر کے خاتمے کے بعد ان کے پاس کچھ نہیں بچے گا۔
تصویر: picture-alliance/dpaH. Oeyvind
کوئلہ، اہم مگر آلودگی کا باعث
جرمنی جیسے ممالک بھی اگرچہ توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف قدم بڑھانے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں لیکن اچھے کوئلے کے ذخائر بھی ختم ہونے کے قریب ہیں۔ پولینڈ میں بھورے کوئلے کے وسیع تر ذخائر سن دو ہزار تیس تک ختم ہو جائیں گے۔ سخت کوئلے کی کانیں شاید باقی بچیں گی لیکن وہ بھی جلد ختم ہو جائیں گی۔
تصویر: picture alliance/PAP/A. Grygiel
ریت، ہر طرف اور کہیں بھی نہیں
اگر ہم صحرا کو سوچیں تو ریت کی وسعت کا کوئی اندازہ نہیں کر سکتا۔ لیکن اس کی قدرتی پیداوار کا عمل انتہائی سست ہے۔ ریت بھی توانائی کا ایک متبادل ذریعہ ہے لیکن تعمیراتی مقاصد کی خاطر اسے اتنی تیزی سے استعمال کیا جا رہا ہے کہ جلد ہی یہ بھی ختم ہو جائے گی۔ بالخصوص افریقہ، جہاں 2050ء آبادی دوگنا ہو جائے گی، تب وہاں یہ جنس نایاب ہو جائے گی۔
تصویر: picture-alliance/ZB/P. Förster
ناپید ہوتے نایاب جانور
انسانوں کے لاپروا رویوں کی وجہ سے دنیا میں جانداروں کی کئی نسلیں ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یہ پیش رفت اس زمین کے حیاتیاتی تنوع کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ شکار اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث یہ خطرہ دوچند ہو چکا ہے۔ ان اہم جانوروں کے ختم ہونے سے انسانی زندگی بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔
تصویر: picture-alliance/Zuma/I. Damanik
وقت، کیا یہ بھی ختم ہونے والا ہے؟
تو معلوم ہوتا ہے کی تمام اہم قدرتی وسائل ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ کیا وقت بھی ختم ہونے کو ہے؟ اب بھی کچھ وقت باقی ہے اور کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ اگر آئندہ بارہ برسوں کے لیے ’ماحولیاتی ایمرجنسی‘ نافذ کر دی جائے تو انسانوں کی پھیلائی ہوئی ماحولیاتی تباہی سے نمٹا جا سکتا ہے۔ اگر عمل نہ کیا تو جلد ہی وقت بھی ختم ہو جائے گا۔
تصویر: AFP/S. Qayyum
7 تصاویر1 | 7
تحقیقی رپورٹ کے مصنف پوپِنگا نے کہا، ''اس کے ذریعے بیج پر بے انتہا دباؤ پیدا ہوتا ہے، اس طرح جب یہ خول سامنے سے کھلتا ہے، تو بیج نہایت تیز رفتاری سے پرواز کرتا ہے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ پودے سے فائر ہونے والے یہ بیج کئی کئی میٹر دور جا کر گرتے ہیں۔