1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بیرگڈال کیس: اوباما نے کیا کھویا، کیا پایا

کشور مصطفیٰ13 جون 2014

اگر بیرگڈال طالبان کی قید میں ہلاک ہو جاتے تو یہی امریکی باشندے اُن کی موت کا ذمہ دار اوباما کو ٹھہراتے اور کہتے کہ اوباما نے بیرگڈال کی رہائی کے لیے کافی اقدامات نہیں کیے۔

تصویر: Reuters

فرض کر لیجیے کہ امریکی صدر باراک اوباما نے گوانتانامو کی جیل میں مقید پانچ طالبان قیدیوں کے بدلے میں افغانستان میں طالبان کے زیر حراست امریکی فوجی بو بیرگڈال کو رہا نہ کروایا ہوتا، یہ امریکی فوجی طالبان کے ہاتھوں قتل ہو جاتا یا یرغمالی کے طور پر خرابیء صحت کے سبب دم توڑ دیتا، جیسا کہ واشنگٹن انتظامیہ نے طالبان کے ساتھ اپنی ڈیل کا جواز پیش کیا تھا، تو سوال یہ ہے کہ بیرگڈال کی موت پر کیسا سیاسی اور عوامی رد عمل سامنے آتا؟

یقیناً اوباما پر سیاسی اور عوامی حلقوں کی طرف سے تنقید اور الزامات کی بوچھاڑ ہوتی کہ اُن کی انتظامیہ نے طالبان کی طرف سے جنگی قیدی بنائے گئے اس امریکی فوجی کی رہائی کے لیے تمام ممکنہ کوششیں نہیں کیں۔

ماضی میں بیرگڈال کی رہائی کے لیے کی جانے والی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکی تھیںتصویر: REUTERS/Al-Emara

برہم ٹی پارٹی

وہی ٹی پارٹی جس کے سرگرم عناصر اس وقت اوباما کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے ان پر نکتہ چینی کر رہے ہیں، اوباما پر بُزدل ہونے کا لیبل لگاتے اور اُن پر الزام عائد کرتے کہ بطور صدر انہوں نے یرگڈال کو بچانے کے عمل میں کوتاہی برتی اور صدر ہونے کے باوجود ایک امریکی فوجی کو بچانے کے لیے اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہے۔

وہی امریکی قانون ساز جو اس وقت وائٹ ہاؤس پر سیخ پا ہو رہے ہیں اور اس امر پر برہمی کا اظہار کر رہے ہیں کہ اوباما انتظامیہ نے قیدیوں کے تبادلے کے بارے میں کانگریس کو پہلے سے مطلع نہیں کیا تھا، اس بارے میں تفتیشی کارروائی کا مطالبہ کرتے کہ آیا امریکی صدر اوباما نے ملکی فوجی بو بیرگڈال کی رہائی کے لیے تمام تر کوششیں کی تھیں؟ اوباما کی طالبان کے ساتھ ڈیل کے بارے میں کرائے گئے ایک سروے کے نتائج کے مطابق 45 فیصد امریکی باشندوں نے اس ڈیل کی مخالفت کی۔ اگر بیرگڈال طالبان کی قید میں ہلاک ہو جاتے تو یہی امریکی باشندے اُن کی موت کا ذمہ دار اوباما کو ٹھہراتے اور کہتے کہ اوباما نے بیرگڈال کی رہائی کے لیے کافی اقدامات نہیں کیے۔

تاہم رہائی کی خبریں سامنے آنے کے بعد جب طالبان قیدیوں کی رہائی کی اطلاعات آئیں تو اوباما انتظامیہ پر تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیاتصویر: picture-alliance/AP

معقول فیصلہ

اگر اس خیال کو دُرست مان بھی لیا جائے کہ بیرگڈال کی زندگی خطرے میں تھی، اور اس تصور کے خلاف کوئی ثبوت بھی اگر اب تک موجود ہیں، تو بھی اوباما نہایت مشکل صورتحال سے دو چار ہوتے۔ اس اعتبار سے بھی بیرگڈال کی زندگی بچانے کا امریکی صدر اوباما کا فیصلہ بالکل معقول تھا، جس کی راہ میں انہوں نے تمام تر اخلاقی اور قانونی مشکلات کو ایک طرف رکھ دیا۔ اوباما کی جگہ کوئی اور امریکی صدر بھی ہوتا تو بھی وہ یہی فیصلہ کرتا۔ افغانستان میں واحد امریکی جنگی قیدی بیرگڈال کی رہائی کے بعد امریکی حکومت پر کی جانے والی تنقید اور اظہار برہمی اوباما انتظامیہ کے لیے کوئی نئی اور باعث تعجب بات نہیں ہے۔ وہ اس قسم کی تنقید سننے کی عادی ہے۔ قدامت پسند امریکی قانون ساز حلقوں میں بیرگڈال کو امریکا لانے کی بجائے جرمن ملٹری ہسپتال منتقل کرنے کے سوال پر چھڑنے والی بحث ہو یا دائیں بازو کے بلاگرز کی طرف سے اوباما کا اسٹالن سے موازنہ کرنے اور اوباما کو ذہنی مریض قرار دینے کا عمل، ان سب سے یہ بات ظاہر ہو رہی ہے کہ امریکا کا سیاسی کلچر شدید مشکلات سے دوچار ہے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں