بیشتر ہتھیار کردوں تک ہی پہنچے، امریکا
22 اکتوبر 2014پینٹا گون نے یہ وضاحت ایک ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد کی ہے جس میں اسلامک اسٹیٹ کے جہادیوں کو ان ہتھیاروں کے ایک باکس کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ پینٹا گون کے ترجمان ریئر ایڈمرل جان کربی نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ ماہرین اس ویڈیو کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ آیا یہ وہی باکس ہے جس کے جہادیوں تک پہنچنے کی قبل ازیں محکمہ دفاع نے تصدیق کی تھی یا پھر یہ دوسرا باکس ہے۔ کربی نے ویڈیو کے بارے میں کہا: ’’ہم اس پر غور کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ویڈیو میں دکھایا گیا کہ اسلحہ ویسا ہی نظر آ رہا ہے جیسا فضا سے پھینکا گیا تھا، لہٰذا ایسا ممکن ہے کہ یہ وہی ہتھیار ہوں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پینٹا گون کے حکام کا کہنا ہے کہ امریکا نے اتوار کو شام کے علاقے کوبانی میں کرد فائٹروں کی مدد کے لیے فضا سے ہتھیاروں کے اٹھائیس باکس پھینکے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک جہادیوں تک جا پہنچا ہے۔ بعدازاں پینٹا گون نے کہا کہ ہتھیاروں کے گمشدہ باکس کو ایک فضائی حملے کے نتیجے میں تباہ کر دیا گیا تھا۔
ایک عراقی کرد اہلکار کے مطابق کوبانی میں کردوں کے لیے اکیس ٹن ہتھیار پھینکے گئے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان میری ہیرف کا کہنا ہے کہ امریکی اہلکاروں نے یہ ویڈیو دیکھی ہے لیکن وہ اس کے حقیقی ہونے کی تصدیق نہیں کر سکے۔
انہوں نے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا: ’’بلاشبہ بہت سی غلط معلومات سامنے آ رہی ہیں، بالخصوص انٹرنیٹ پر پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور ہو سکتا ہے یہ یہ (ویڈیو) اسی کا ایک حصہ ہو۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا: ’’ہم جانتے ہیں کہ آئی ایس آئی ایل کی حکمتِ عملی ایک پروپیگنڈا مہم چلانا ہی ہے، اور اسی لیے ہماری یہ کوشش ہے کہ اس کے پروپیگنڈے کو غلط ثابت کریں۔‘‘
اُدھر سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بھی کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے فضا سے کردوں کے لیے پھینکے گئے ہتھیار جہادیوں کے ہتھے چڑھ گئے ہیں۔
ان ہتھیاروں کی ایک ویڈیو یوٹیوب پر شیئر کی گئی ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ جہادی ایک باکس کا جائزہ لے رہے ہیں جس میں دستی اور دیگر بم رکھے ہوئے ہیں۔ ایک نقاب پوش مسلح شخص ایک دستی بم کو ہاتھ میں اٹھاتے ہوئے کہتا ہے: ’’مجاہدین کے لیے مالِ غنیمت۔‘‘