1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بیلاروس حکومت پر امریکہ و یورپی یونین کی تنقید

21 دسمبر 2010

امریکہ اور یورپی یونین نے بیلاروس میں صدارتی امیدواروں اور حکومت مخالف مظاہرین کی گرفتاریوں کی مذمت کی ہے جبکہ روس نے اسے بیلاروس کا داخلی معاملہ قرار دیا ہے۔

تصویر: DW

اس مشرقی یورپی ملک میں اتوار کو ہوئے صدارتی انتخابات میں ایک بار پھر گزشتہ 16 برس سے برسراقتدار الیکزینڈر لوکا شینکو کی کامیابی کا اعلان کیا گیا ہے۔ پیر کو علی الصبح ہی دارالحکومت منسک میں صدر لوکا شینکو کے مخالف نو صدارتی امیدواروں سمیت سینکڑوں افراد کو حکومتی تحویل میں لیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین سرکاری عمارات میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ امریکہ نے صدر لوکا شینکو کے انتخاب کو مسترد کیا ہے۔

امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان فلپ کراؤلی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ان صدارتی انتخابات کے سلسلے میں یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم OSCE کے نکتہ ء نظر سے متفق ہے۔ اس تنظیم نے صدارتی انتخابات کے معائنے کے بعد اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ بیلاروس کو آزاد و شفاف انتخابات کے وعدے کو عملی جامعہ پہنانے کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما کے ترجمان رابرٹ گبس نے بیلاروس کے انتخابات اور حالیہ گرفتاریوں پر ردعمل میں کہا، ’’ امریکہ بیلاروس حکومت کے اس قدم کی کڑی مذمت کرتا ہے، جس کے تحت جمہوری عمل کی نفی کی گئی اور سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا۔‘‘ گبس نے گرفتار شدہ افراد کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بیلاروس کے ساتھ تعلقات کا انحصار وہاں جمہوریت اور انسانی حقوق کے احترام سے ہے۔

صدر لوکا شینکو اپنے بیٹے کے ہمراہ ووٹ ڈالتے ہوئےتصویر: AP

امریکہ کی طرز پر یورپی یونین نے بھی اس سابق سوویت ریاست میں ہوئے حالیہ صدارتی انتخابات کے نتائج کو مسترد کیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے گرفتار شدگان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

بیلاروس کے طاقتور ترین پڑوسی روس نے اپوزیشن پر کریک ڈاؤن کی مذمت سے اجنتاب کیا ہے۔ روسی صدر دیمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ جو بیلاروس میں ہورہا ہے وہ وہاں کا اندرونی معاملہ ہے۔ صدر میدویدیف نے امید ظاہر کی کہ صدارتی انتخابات سے بیلاروس جدت کی جانب بڑھتے ہوئے پڑوسی ممالک سے جمہوری بنیادوں پر دوستانہ تعلقات قائم رکھے گا۔ روس کے برعکس سابق سوویت ریاست لیتھوینیا اور لیٹویا نے بیلاروس میں مخالفین کو دبانے کے لئے طاقت کے استعمال کی کھل کر مذمت کی ہے۔

بیلاروس کے الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹ ڈالنے کا تناسب 90 فیصد رہا جبکہ جیتنے والے امیدوار، صدر لوکا شینکو کے حق میں 80 فیصد رائے دہندگان نے ووٹ دئے۔ یورپی مبصرین کے مطابق ووٹ ڈالنے کا عمل مناسب رہا تاہم ووٹ گننے کے دوران انتظامات ناقص رہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عدنان اسحاق

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں