بینکوں کی بندش سے یونان کو تین بلین یورو کا نقصان
18 جولائی 2015
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک تازہ رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ یونان میں بینکوں کی بندش کی وجہ سے ملکی سطح پر پرائیوٹ کاروبار کو تو نقصان پہنچا ہی ہے لیکن ریاستی سطح پر بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ ایتھنز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ای بی ای اے) کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس دوران صرف ریٹیل ٹریڈ میں ہی چھ سو ملین یورو کا نقصان ہوا ہے۔
ای بی ای اے کی اٹھارہ جولائی بروز ہفتہ جاری ہونے والی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق اس دوران ہونے والی مالی نقصان کے ازالے کے لیے فوری اور مؤثر ایکشن لینے کی ضرورت ہے تاکہ ملکی اقتصادیات کو سہارا دیا جا سکے۔
ایکسپورٹرز کی ایسوسی ایشن کے مطابق ملکی ایکسپورٹ کو بھی 240 ملین یورو کا نقصان ہوا ہے۔ ای بی ای اے نے اس صورتحال کی شدت بیان کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ خام اور تیار شدہ مال سے لدے ہوئے ساڑھے چار ہزار کنٹینرز کسٹم حکام نے بلاک کر رکھے ہیں۔
ایتھنز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے یہ بھی کہا ہے کہ بینکوں کی بندش کی وجہ سے تقریبا چھ بلین یورو کی ایسی رقوم منجمد ہو کر رہ گئی ہیں، جو چیکوں اور بلز کی صورت میں بینکوں میں جمع کرائی گئی ہیں۔ یہ رقوم تاجر برادری اپنے بزنس کے لیے منتقل کرنے کی خواہاں ہے۔ بتایا گیا ہے کہ رقوم کی منتقلی نہ ہونے کی وجہ سے بزنس بری طرح متاثر ہوا ہے۔
یونان میں انتیس جولائی کو اس وقت بینکوں کو بند کر دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جب ایتھنز حکومت نے اپنے مالیاتی پارٹنرز کی طرف سے سخت بچتی اقدامات کا مطالبہ مسترد کر دیا تھا۔ اس کے بعد ملک میں ایک ریفرنڈم کرایا گیا تھا، جس میں عوام سے پوچھا گیا تھا کہ کیا انہیں بچتی اقدامات منظور ہیں۔ اس ریفرنڈم میں ان اقدامات کو مسترد کر دیا گیا تھا۔
اسی دوران جب بینک بند ہیں تو تقریبا دو ہفتوں تک ملک بھر میں عوام کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ مفت کر دی گئی تھی۔ رپورٹوں کے مطابق اس حکومتی اقدام سے بھی ریاستی بجٹ کو دس بلین یورو کے نقصان کا خدشہ ہے۔
یونانی حکومت کی طرف سے بیل آؤٹ پیکج کے نئے معاہدے پر متفق ہو جانے سے اگرچہ یونان کا یورو زون سے خارج ہونے کا خطرہ ٹل گیا ہے لیکن اسے مالی طور پر سنبھلنے میں وقت درکار ہو گا۔ ایتھنز حکومت نے کہا ہے کہ ملکی بینک پیر سے کھول دیے جائیں گے لیکن صارفین (اکاؤنٹ ہولڈرز) اپنے اکاؤنٹ سے ایک دن میں صرف ساٹھ یورو ہی نکال سکیں گے۔